حالتِ حیض و نفاس میں ناخن کاٹنے کا حکم:
Question
حیض اور نفاس کے ایام میں عورتیں ناخن اور زیر ناف بال وغیرہ کی صفائی کر سکتی ہیں یا نہیں؟
Answer
حیض و نفاس کے ایام میں ناخن، زیر ناف کے بال وغیرہ کی صفائی کرنا جائز اور درست ہے ۔ ہاں حالتِ جنابت میں مکروہ ہے، کیونکہ جنابت غسل سے مرتفع ہو جاتی ہے جب کہ حیض و نفاس کی ناپاکی غسل سے مرتفع نہیں ہوتی ۔ اور حیض و نفاس کی مدت طویل ہوتی ہے، جب کہ ان چیزوں کی صفائی ہر ہفتہ مستحب ہے ۔
عالمگیری میں ہے:
الأفضل أن يقلم أظفاره ويحفي شاربه ويحلق عانته وينظف بدنه بالاغتسال في كل أسبوع مرة فإن لم يفعل ففي كل خمسة عشر يوماً ولا يعذر في تركه وراء الأربعين فالأسبوع هو الأفضل والخمسة عشر الأوسط والأربعون الأبعد ولا عذر فيما وراء الأربعين ويستحق الوعيد كذا في القنية وحلق الشعر حالة الجنابة مكروه وكذا قص الأظافير كذا في الغرائب. (الفتاوى الهندية: ۵/۳۵۷، ۳۵۸).
(وكذا في فتاوى الشامي: ٦/٤۰٦، سعيد).
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.