مصنوعی ناخن لگانے کا حکم:
Question
بعض لوگ مصنوعی بڑے لمبے ناخن محض زینت اور خوبصورتی کے لیے لگاتے ہیں۔ کیا ایسے ناخن لگانا جائز ہے یا نہیں؟ بینوا توجروا۔
Answer
ناخن کا بڑا اور لمبا ہونا شریعتِ مطہرہ کی نگاہ میں قبیح اور ناپسند ہے اسی وجہ سے اس کے کاٹنے کو امورِ فطرت میں بیان کیا ہے، اور ہر جمعہ کو کاٹنا مستحب قرار دیا ہے، اور چالیس دن سے اوپر تک چھوڑے رکھنے پر وعید بیان کی ہے، بنا بریں بطورِ فیشن ایسے لمبے ناخن لگانا اسلامی تہذیب کے خلاف ہوگا، جس کی اجازت نہیں ۔
ملاحظہ ہو حدیث میں ہے:
عن رجل من بني غفار أن رسول الله ﷺ قال: من لم يحلق عانته ويقلم أظفاره ويجز شاربه فليس منا. (مسند الامام أحمد، رقم: ۲۳٤۸۰).
قال الشيخ شعيب: حسن لغيره وهذا إسناد ضعيف من أجل عبد الله بن لهيعة.
وفي الدر المختار: وكره تركه وراء الأربعين وفي الشامية: قوله وكره تركه أي تحريماً لقول المجتبى ولا عذر فيما وراء الأربعين ويستحق الوعيد وفي أبي السعود عن شرح المشارق لابن ملك روي مسلم عن أنس بن مالك رضي الله عنه وقت لنا في تقليم الأظفار
أن لانترك أكثر من أربعين ليلة وهو من المقدرات التي ليس للرأي فيها مدخل فيكون كالمرفوع. (الدر المختار مع رد المحتار: ٦/٤۰۷، سعيد).
وفي الهندية: ولا عذر فيما وراء الأربعين ويستحق الوعيد كذا في القنية. (الفتاوى الهندية: ۵/۳۵۸). (وكذا في فتاوى الشامي: ۲/۱۸۱، سعيد، والموسوعة الفقهية: ۲۵/۳۲۰).
شمائل کبری میں ہے:
ایک غفاری صحابی سے مروی ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا جو زیر ناف بال نہ لے ناخن نہ کٹائے، لب نہ تراشے ہم میں سے نہیں۔ (کنز ٦/۳۷۱)
حضرت جابر
رضي الله عنه
سے مرفوعاً روایت ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا ناخن تراشو، کہ ناخن اور گوشت کے درمیان شیطان دوڑتا ہے۔ (خطیب فی الجامع، اتحاف: ۲/٤۱۱)
امام غزالی رحمه الله نے احیاء العلوم میں لکھا ہے کہ بڑھے ہوئے ناخن پر شیطان بیٹھتا ہے۔
فائدہ: اس سے معلوم ہوا کہ ناخن نہ تراشنا چھوڑے رکھنا درست نہیں ۔ بعض لوگ ہاتھ کی کسی ایک انگلی مثلاً سب سے چھوٹی انگلی کے ناخن کو چھوڑے رکھتے ہیں، یہ مکروہ ہے درست نہیں، نہایت ہی مذموم اور قبیح عادت ہے، یہ انسانی خصلت نہیں، درندوں کی صفت ہے، ملا علی قاری رحمه الله نے لکھا ہے کہ ناخن نہ کاٹنا بڑھے ہوئے رکھنا تنگی رزق کا باعث ہے۔ (مرقات)۔ (شمائل کبری: ۲/۳٦٦)۔
عرب علماء نے بھی حرام اور ناجائز فرمایا ہے۔ ملاحظہ ہو فقہ النوازل میں ہے:
تركيبة الأظافر الصناعية: وهي نوع من الأظافر البلاستيكية تشبه الأظافر الخلقية تأخذها المرأة وتصبغها متنوعة ثم بعد ذلك تضعها على ظفرها أو تلزقها على ظفرها بمادة لاصقة. وهذا محرم لا يجوز لأنها تمنع من وصول الماء إلى الظفر، ولأن الشارع أمر بقص الأظافر كم في حديث أبي هريرة رضي الله عنه في الصحيحين أن النبي ﷺ قال: خمس من الفطرة، وذكر منها: وتقليم الأظفار
وإذا طالت وتفاحشت فإن هذا محرم ولا يجوز
يعني ترك أظافره حتى طالت وتفاحشت
فإن هذا محرم ولا يجوز لا مرين: (۱) لما في ذلك من التشبه بالسباع والبهائم. (۲) لما في ذلك من التشبه بأهل الكفر والشرك. (فقه النوازل، ص ۱۲).
فتاوى الجنة الدائمة
میں ہے:
لا يجوز استخدام الأظافر الصناعية والرموش المستعارة. (۱۷/۱۳۳).
واللہ
گ
اعلم۔
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.