ناخن کاٹنے کا طریقہ:
Question
بعض لوگ ہاتھ پیر کے ناخنوں کو ایک خاص طریقہ پر کاٹتے ہیں وہ طریقہ کیا ہے؟ اور کیا وہ طریقہ احادیث سے ثابت ہے یا نہیں؟ ناخن کاٹنے کا صحیح طریقہ بتا دیجیے؟ بینوا توجروا۔
Answer
نبی پاک ﷺ سے ناخن کاٹنے سے متعلق کوئی کیفیت منقول نہیں ہے، بنا بریں کسی خاص کیفیت کو مسنون کہنا یا سنت سمجھ کر اس کے مطابق کاٹنا درست نہیں ہے۔ البتہ علماء نے چند طریقے بیان کیے ہیں۔ چنانچہ حسبِ ذیل ملاحظہ کیجیے:
(۱) پہلا طریقہ:
امام غزالی رحمه الله نے احیاء العلوم میں یہ طریقہ ذکر فرمایا ہے:
دائیں ہاتھ کی انگشتِ شہادت سے شروع کر کے بائیں ہاتھ کے ابہام تک کاٹ دے پھر آخر میں دائیں ہاتھ کے ابہام کے ناخن کاٹے۔ اس ترتیب کی حکمت یہ ہے کہ اس میں ابتدا بھی یمین سے ہوئی اور اختتام بھی یمین پر ہوا، حدیث شریف
"الأيمن فالأيمن" پر
عمل ہوا۔
قال الإمام الغزالي رحمه الله في إحياء علوم الدين: إنه لا بد من قلم أظفار اليد والرجل واليد أشرف من الرجل فيبدأ بها ثم اليمني أشرف من اليسرى فيبدأ بها ثم على اليمني خمسة أصابع والمسبحة أشرفها إذ هي المشيرة في كلمتى الشهادة من جملة الأصابع ثم بعدها ينبغي أن يبتدئ بما على يمينها إذ الشرع يستحب إدارة الطهور وغيره على اليمين
ثم إذا وضعت الكف على الكف صارت الأصابع في حكم حلقة دائرة فيقتضي ترتيب الدور الذهاب عن يمين المسبحة إلى أن يعود إلى المسبحة فتقع البداءة بخنصر اليسرى والختم بإبهامها ويبقي إبهام اليمني فيختم به التقليم. (إحياء علوم الدين: ۱/۱۳۵).
(وكذا في رد المحتار: ٦/٤۰٦، سعيد، والفتاوى الهندية: ۵/۳۵۸، وبهشتي زيور، ص ۹٦۸، وبذل المجهود: ۱/۳۳).
(۲) دوسرا طریقہ:
امام نووی رحمه الله نے شرح صحیح مسلم میں بیان فرمایا ہے:
دائیں ہاتھ کی انگشتِ شہادت، پھر بیچ والی پھر اس کے بعد والی پھر سب سے چھوٹی اور آخر میں انگوٹھا، اور بائیں ہاتھ کی سب سے چھوٹی انگلی سے شروع کر کے انگوٹھے پر ختم کرے۔ ملاحظہ ہو شرح مسلم میں ہے:
ويستحب أن يبدأ باليدين قبل الرجلين فيبدأ بمسبحة يده اليمني ثم الوسطي ثم البنصر ثم الخنصر ثم الإبهام ثم يعود إلى اليسرى فيبدأ بخنصرها ثم ببنصرها إلى آخرها ثم يعود إلى الرجل اليمني فيبدأ بخنصرها ويختم بخنصر اليسرى. (شرح صحيح مسلم: ۱/۱۲۹).
(۳) تیسرا طریقہ:
صاحب الاقلید فرماتے ہیں کہ داہنے ہاتھ کی سب سے چھوٹی انگلی سے شروع کر کے ابہام تک کاٹے اور بائیں ہاتھ کے ابہام سے شروع کر کے سب سے چھوٹی انگلی تک پہنچا دے۔
چنانچہ حافظ ابن حجر رحمه الله فتح الباری میں رقم طراز ہے:
وقد قال صاحب الاقليد قضية الأخذ في ذلك بالتيامن أن يبدأ بخنصر اليمني إلى أن ينتهي إلى خنصر اليسرى في اليدين والرجلين معاً. (فتح الباري: ۱۰/ ۳٤۵).
(٤) چوتھا طریقہ:
علامہ دمیاطی امام احمد اور ابو عبد اللہ بن بطہ نے درجِ ذیل ذکر کیا ہے:
دائیں ہاتھ کی خنصر پھر وسطی پھر ابہام، پھر بنصر، پھر مسبحہ، پھر بائیں ہاتھ کا ابہام، پھر وسطی پھر خنصر پھر مسبحہ پھر بنصر۔ اور اس ترتیب کو آشوبِ چشم کے لیے مفید بتلایا ہے۔
ملاحظہ ہو فتح الباری میں ہے:
وذكر الدمياطي أنه تلقي عن بعض المشايخ أن من قص أظفاره مخالفاً لم يصبه رمد وأنه جرب ذلك مدة طويلة وقد نص أحمد على استحباب قصها مخالفاً وبين ذلك أبوعبد الله بن بطة من أصحابهم فقال: يبدأ بخنصره اليمني ثم الوسطي، ثم الإبهام، ثم البنصر، ثم السبابة ويبدأ بإبهام اليسرى على العكس من اليمني. (فتح الباري: ۱۰/ ۳٤۵، دار المعرفة).
شمائل کبری میں ہے:
حافظ رحمه الله نے فتح الباری میں علامہ زبیدی شارحِ احیاء نے اتحاف السادۃ میں اور علامہ شامی رحمه الله نے رد المحتار میں ناخن کاٹنے کی ایک ترتیب لکھی ہے۔ جو آشوبِ چشم کے لیے مجرب ہے وہ یہ ہے: اولاً دائیں ہاتھ کی انگشتِ شہادت کے ناخن کاٹے پھر چھوٹی انگلی کے بغل والی پھر انگوٹھا پھر بیچ کی انگلی پھر چھوٹی انگلی، اس کے بعد بائیں ہاتھ کی اس طرح، پہلے انگشتِ شہادت پھر چھوٹی انگلی کے بغل والی پھر انگوٹھا پھر بیچ کی انگلی آخر میں سب سے چھوٹی انگلی علامہ شامی رحمه الله نے بھی مجرب لکھا ہے، امام احمد رحمه الله نے اس طریقہ کو مستحب قرار دیا ہے۔ (شمائل کبری: ۲/۳٦۸)۔
اور پیروں کے ناخن کا طریقہ ایک ہی ہے کہ دائیں پیر کی خنصر سے شروع کرے اور بائیں پیر کی خنصر پر ختم کرے۔
قال الإمام الغزالي رحمه الله: وأما أصابع الرجل فالأولي عندي إن لم يثبت فيها نقل أن يبدأ بخنصر اليمني ويختم بخنصر اليسرى كما في التخليل فإن المعاني التي ذكرها في اليد لا تتجه ههنا إذ لا مسبحة في الرجل وهذه الأصابع في صف واحد ثابت على الأرض فيبدأ من جانب اليمني
الخ. (إحياء علوم الدين: ۱/۱۳۵).
لیکن ان میں سے کوئی ترتیب بھی حدیث سے ثابت نہیں ہے، چنانچہ علماء نے ثبوت کا انکار کیا ہے۔ ملاحظہ ہو حافظ ابن حجر رحمه الله فرماتے ہیں:
ولم يثبت في ترتيب الأصابع عند القص شيء من الأحاديث لكن جزم النووي رحمه الله بأنه يستحب
ولم يذكر للاستحباب مستنداً
وقد أنكر ابن دقيق العيد الهيئة التي ذكرها الغزالي ومن تبعه وقال: كل ذلك لا أصل له وإحداث استحباب لا دليل عليه وهو قبيح عندي بالعالم
الخ. (فتح الباري: ۱۰/۳٤۵).
قال العلامة بدر الدين العيني رحمه الله في عمدة القاري: ولم يثبت في ترتيب الأصابع عند القص شيء من الأحاديث ولكن ذكر النووي رحمه الله في شرح مسلم أنه يستحب البداءة
ولم يذكر للاستحباب مستنداً. (عمدة القاري: ۱۵/ ۸۹، باب تقليم الأظفار، ط: دار الحديث متان).
قال الملا علي القاري رحمه الله: ولم يثبت في كيفيته ولا في تعيين يوم له شيء
الخ. (مرقاة المفاتيح: ۸/۲۹۰، باب الترجل، ط: إمدادية ملتان).
قال العلامة السخاوي: لم يثبت في تعيين لقص الأظفار عن النبي ﷺ شيء. (إتحاف السادة: ۲/۳). (وكذا في الدر المختار: ٦/٤۰٦، سعيد).
خلاصہ یہ ہے کہ ناخن تراشنے کے بارے میں کوئی ترتیب حدیث سے ثابت نہیں ہے، اور مذکورہ بالا تمام کیفیات میں آسان اور ابتدا بالیمین کے موافق وہ طریقہ ہے جس کو حافظ ابن حجر رحمه الله نے صاحب اقلید سے نقل کیا ہے، اور اس کا یاد رکھنا بھی آسان ہے۔
یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ پہلے زمانہ میں لوگ دوسروں سے ناخن کٹواتے تھے، آج کل خود کاٹتے ہیں، بنا بریں ناخن تراش اگر دستِ راست میں ہو تو اس اعتبار سے داہنے کو کاٹنے کی فضیلت حاصل ہوئی اور ابتدا بائیں ہاتھ سے ہوئی، اگر ناخن تراش دستِ چپ میں ہو تو دائیں ہاتھ کے ناخن سے ابتدا کی فضیلت حاصل ہوئی یعنی ابتداء بالیمین ہوئی۔ البتہ جتنے طریقے مذکور ہوئے سب درست ہیں۔ واللہ
گ
اعلم۔
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.