بلا شرعی محرم عورت کا سفر شرعی طے کرنے کا حکم:

3 min readFatwa Vol 9 #306Urdu
Vol. 9باب… )۲( نماز سے متعلق متفرق مسائل

Question

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ اگر ایک عورت کو ہوائی جہاز کے ذریعہ ایک جگہ سے (جہاں وہ رہتی ہے) دوسری جگہ (والدین کی زیارت کے لیے) جانا ہو، اور راستہ تقریبا ٤۰ سے ٤۵ منٹ کا ہے، تو کیا وہ بغیر محرم کے ہوائی جہاز میں سفر کر سکتی ہے یا نہیں؟ جب کہ اس کا شوہر ایئرپورٹ سے اس کو روانہ کر دے، اور دوسری طرف اس کے والدین ایئرپورٹ میں اس کا انتظار کریں؟ عورت حجاب میں ہے، راستہ پر امن ہے، فتنہ کا خوف نہیں ہے ۔ ایسی صورت میں کیا حکم ہے؟ بینوا توجروا ۔

Answer

شریعتِ مطہرہ میں کسی مسلمان خاتون کے لیے بلا شرعی محرم کے مسافتِ شرعیہ طے کرنا جائز نہیں ہے، چاہے دونوں طرف محرم موجود ہو، پھر بھی ہوائی جہاز کا سفر بلا محرم طے ہوگا، اور یہ ناجائز ہے ۔ حدیث شریف میں اس کی سخت ممانعت آئی ہے ۔ مسلم شریف میں ہے:

عن أبي سعيد الخدري رضي الله عنه قال: قال رسول الله ﷺ: لا يحل لامرأة تؤمن بالله واليوم الآخر أن تسافر سفراً يكون ثلاثة أيام فصاعداً إلا ومعها أبوها، أو ابنها، أو زوجها، أو أخوها، أو ذو محرم منها. (صحيح مسلم: رقم ۱۳٤۰ و ۱۳۳۸، والترمذي ۱۱٦۹، وأبو داود ۱۷۲٦).

اس حدیث میں مطلق ممانعت وارد ہوئی ہے ۔ چنانچہ بصورت مسئولہ اگر چہ ہوائی جہاز پر امن ہو، پھر بھی دورانِ سفر محرم کا ساتھ ہونا ضروری ہے، خاص طور پر اس دور میں جب کہ فتنہ کی آگ بھڑک رہی ہے، ایسی حالت میں تو ممانعت میں اور بھی سختی ہونی چاہیے ۔ ہاں مسافتِ شرعی سے کم ہو، تو پھر فتنہ سے امن کی شرط کے ساتھ سفر کرنے کی گنجائش ہے ۔
فقہاء کی عبارات ملاحظہ فرمائیں:
في شرح اللباب: والفتوى على أنه يكره في زماننا (قوله ولو عجوزاً) أي لا طلاق النصوص. بحر. وقال العلامة ابن عابدين: قوله (في سفر) هو ثلاثة أيام ولياليها فيباح لها الخروج إلى ما دونه لحاجة بغير محرم، بحر. وروي عن أبي حنيفة وأبي يوسف كراهة خروجها وحدها مسيرة يوم واحد، وينبغي أن يكون الفتوى عليه لفساد الزمان. (الدر المختار وحاشية ابن عابدين: ۲/٤٦۵).

ہدایہ میں مرقوم ہے:
قال (ويعتبر في المرأة أن يكون لها محرم تحج به أو زوج، ولا يجوز لها أن تحج بغيرهما إذا كان بينها وبين مكة مسيرة ثلاثة أيام)

ولنا قوله عليه الصلاة والسلام: لا تحجن امرأة إلا ومعها محرم، ولأنها بدون المحرم يخاف عليها الفتنة وتزداد بانضمام غيرها إليها؛ ولهذا تحرم الخلوة بالأجنبية وإن كان معها غيرها، بخلاف ما إذا كان بينها وبين مكة أقل من ثلاثة أيام؛ لأنه يباح لها الخروج إلى ما دون السفر بغير محرم. (الهداية: ۱/۱۳۳، بيروت).

محقق ابن ہمام رحمه الله نے فتح القدیر میں تفصیل فرمائی ہے ۔ ملاحظہ ہو : (
فتح القدير: ۲/٤۱۹، بيروت، لبنان).

واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.