استانی کا طلبہ کے ہمراہ سیر و سیاحت کے لیے جانے کا حکم:
Question
آج کل ہمیں ایک مسئلہ پیش آیا ہے کہ ہمارے ادارے سے طلبہ تعلیمی سیر کے لیے جاتے ہیں اور اتنی مسافت وہ طے کرتے ہیں کہ وہ مسافر ہو جا تے ہیں تو کیا استانی ان طلبہ کے ساتھ بغیر محرم کے جا سکتی ہے یا نہیں؟ یہ بھی یا در ہے ایک دن سے کم میں واپس آ جاتے ہیں ۔ بینوا توجروا ۔
Answer
سفر شرعی یعنی تقریباً ۸۲ کیلو میٹر یا اس سے بعید سفر کے ارادہ سے نکلنے سے سفر کے احکام جاری ہو جا تے ہیں مثلاً نماز میں قصر، عورت کے لیے شوہر یا محرم کا رفیق سفر ہونا، اگر چہ یہ سفر چند گھنٹوں میں طے ہو جا تا ہو چاہے وہ سفر حج کا ہو یا تجارت کا ہو یا سیر و تفریح کا ۔ عورت کے لیے بلا محرمِ شرعی ناجائز ہے ۔
ملاحظہ ہو حدیث شریف میں ہے:
عن أبي سعيد رضي الله عنه قال: قال رسول الله ﷺ: لا يحل لامرأة تؤمن بالله واليوم الآخر أن تسافر سفراً فوق ثلاثة أيام فصاعداً إلا ومعها أبوها أو أخوها أو زوجها أو ابنها أو ذو محرم منها. (رواه أبو داود، رقم: ۱۷۲۸).
قال في مسئولية المرأة المسلمة: ومن أنواع الاختلاط المحرم سفر المرأة من غير محرم قال ﷺ: "لا تسافر المرأة إلا مع ذي محرم" متفق عليه، لان ذلك من وسائل الفتنة والفساد، والمحرم هو زوجها أو من تحرم عليه على التأبيد بنسب كأخ مسلم أو سبب كأخ رضاع. (ص 25).
لہذا اس سلسلہ میں بہتر یہ ہے کہ کوئی مرد استاذ طلبہ کے ساتھ جائے یا استانی کے ساتھ کوئی محرم چلا جائے ۔ آخر شریعت کے مسئلہ پر عمل کرنے کے لیے ہم اتنی قربانی دینے کے لیے تیار نہ ہو تو پھر جنت کا مفت میں ملنا تو مشکل ہے جب کہ سیر و سیاحت کا سفر ضروری بھی نہیں، اغیار کی تابعداری میں صرف ایک رسم چلی ہے، بغیر محرم کے سفر کی خرابیاں کسی ذی ہوش پر مخفی نہیں، اور اگر ہمیں کوئی خرابی نظر نہ آئے تب بھی شریعت کا مسئلہ بغیر چوں و چرا کے تسلیم کر لینا چاہیے ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.