معذب جگہوں کی اشیاء استعمال کرنے اور سیر و سیاحت کرنے کا حکم:
Question
بحر میت کے بارے میں مشہور ہے کہ یہ حضرت لوط علیہ السلام کی قوم پر عذاب نازل ہونے کی جگہ ہے۔ اب بہت سارے لوگ وہاں سے پتھر، مٹی وغیرہ لاتے ہیں اور اس کو بعض بیماریوں کا علاج بتلاتے ہیں یا بطورِ یادگار گھروں میں رکھتے ہیں، کیا یہ طریقہ درست ہے یا نہیں ؟ وہاں سیاحت کے لیے جانے کا کیا حکم ہے؟ اور اس روایت کا کیا درجہ ہے: "
إن رجلاً وجد خاتماً في حجر ولبسه فلم ينظر رسول الله ﷺ إليه"؟ بينوا توجروا.
Answer
معذب بستیوں کے بارے میں جن کو قرآنِ کریم میں
"مؤتفكات"
کہا گیا ہے، مفسرین اور مؤرخین کا اختلاف ہے کہ ان کا محل وقوع کہا ں تھا۔ بعض مفسرین کا کہنا ہے کہ موجود ہ بحر میت کے جنوبی اطراف میں یہ بستیاں واقع تھیں۔ یعنی بحر میت پہلے سے موجود تھا قومِ لوط پر عذاب کی وجہ سے وجود میں نہیں آیا اور بعض حضرات کا یہ کہنا ہے کہ یہ بستیاں جب الٹ دی گئیں تو بحر میت وجود پذیر ہوا، یعنی بحر میت بعینہٖ وہ جگہ ہے جہاں عذاب نازل ہوا تھا۔ مفسرین کی چند عبارات ملاحظہ کیجیے:
قال في تفسير المنار: وكان لوط عليه السلام في سدوم ويظن الكثيرون من الباحثين أن بحيرة لوط قد غمر موضعها بعد الخسف فلا يعلم موضعه بالضبط وقيل إنه عثر على آثارها في هذا العهد. (تفسير المنار للشيخ محمد رشيد رضا: ۱۲/۱۳۲).
اطلس القرآن میں الدکتور شوقی ابو خلیل لکھتے ہیں:
جاء لوط عليه السلام، مع إبراهيم، وآمن به، وبعد عودتهما من مصر افترق عنه عن تراض، لأن أرضاً واحدة محددة لم تتسع لمواشيهما، فنزل أقصي جنوب البحر الميت (بحيرة لوط)، حيث سدوم وعامورة اللتان دمرتا بزلزال جعل عالي البلاد سافلها، ولم تصب (صوغر) بضرر حيث التجأ قوم لوط إليها. (اطلس القرآن، أماكن، أقوام، اعلام، ص ٦۱، ط: دمشق).
شوقی ابو خلیل کی تحقیق کے مطابق بحر میت پہلے سے موجود تھا اس کے جنوبی کنارہ کے قریب سدوم اور عامورہ دو بستیاں تھیں وہیں پر حضرت لوط علیہ السلام قیام پذیر ہوئے تھے اور یہی دو بستیاں معذب ہوئی تھیں۔ اس اعتبار سے بحر میت کے ساتھ عذاب کا کوئی تعلق نہیں ہے وہ تو پہلے سے موجود تھا۔ (اطلس القرآن، ص
61
)۔
حضرت مولانا حفظ الرحمن صاحب رحمه الله قصص القرآن میں اس کے برعکس فرماتے ہیں:
(سدوم) اردن کی وہ جانب جہاں آج بحر میت یا بحر لوط واقع ہے یہی وہ جگہ ہے جس میں سدوم اور عامورہ کی بستیاں آباد تھیں، اس کے قریب بسنے والوں کا یہ اعتقاد ہے کہ پہلے یہ تمام حصہ جواب سمندر نظر آتا ہے کسی زمانہ میں خشک زمین تھی اور اس پر شہر آباد تھے سدوم اور عامورہ کی آبادیاں اسی مقام پر تھیں یہ مقام شروع سے سمندر نہیں تھا بلکہ جب قومِ لوط پر عذاب آیا اور اس سرزمین کا تختہ الٹ دیا گیا اور سخت زلزلے اور بھونچال آئے تب تقریباً زمین چار سو میٹر سمندر سے نیچے چلی گئی اور پانی اُبھر آیا، اسی لیے اس کا نام بحر میت اور بحر لوط ہے یہ صحیح ہو یا غلط بہرحال یہ مسئلہ حقیقت رکھتا ہے کہ اسی بحر میت کے ساحل پر وہ حادثہ رونما ہوا جو قومِ لوط کے عذاب سے موسوم ہے اور جو گذشتہ دو سال کی اثری تحقیق نے بحر میت کے ساحل پر لوط علیہ السلام کی بستیوں کے بعض تباہ شدہ آثار ہویدا کر کے اس علم و یقین کے سامنے سر تسلیم خم کر دیا ہے جس کا اعلان ساڑھے تیرہ سو سال قبل قرآن عزیز نے کر دیا تھا۔ (قصص القرآن:
۱
/
۲۵۷
، ط: المکتبۃ المدنیۃ، لاہور)۔
خلاصہ یہ ہے کہ معذب بستی کے محل وقوع میں اقوال مختلف ہونے کی وجہ سے حتمی طور پر نہیں کہہ سکتے کہ بحر میت وہی جگہ ہے جہاں قومِ لوط علیہ السلام پر عذاب آیا تھا، بالفرض اگر وہی جگہ ہو تو وہاں کی اشیاء کا استعمال ممنوع ہوگا، احادیث میں ممانعت وارد ہوئی ہے۔ ملاحظہ ہو بخاری شریف میں ہے:
عن سالم بن عبد الله عن أبيه رضي الله عنه أن النبي ﷺ لما مر بالحجر قال: لا تدخلوا مساكن الذين ظلموا أنفسهم إلا أن تكونوا باكين أن يصيبكم ما أصابهم ثم تقنع بردائه وهو على الرحل. (رواه البخاري، رقم: ۳۳۸۰).
عن ابن عمر رضي الله عنه أن رسول الله ﷺ لما نزل الحجر في غزوة تبوك أمرهم أن لا يشربوا من بئرها ولا يستقوا منها فقالوا قد عجنا منها واستقينا فأمرهم أن يطرحوا ذلك العجين وليهريقوا ذلك الماء. (رواه البخاري، رقم: ۳۳۷۸).
عمدۃ القاری میں علامہ عینی رحمه الله رقم طراز ہیں:
وفيه كراهة الاستقاء من آبار ثمود قيل ويلحق بها نظائرها من الآبار والعيون التي كانت لمن هلك بتعذيب الله تعالى على كفره واختلف في الكراهة المذكورة فقيل: للتحريم وقيل: للتنزيه. (عمدة القاري: ۱۱/۹۹، ط: دار الحديث، ملتان).
(وكذا في فتح الباري: ٦/۳۸۰، وتكملة فتح الملهم: ٦/٤٦۱، وفتاوى الشامي: ۱/۱۳۳، سعيد).
لیکن قومِ لوط علیہ السلام کی بستیوں کا صحیح علم تو نبی ﷺ ہی کو ہو سکتا ہے جو جگہ بتلائی جاتی ہے وہ مشہور ہے مگر یقینی نہیں ہے، پھر اگر شہرت کو درست مان لیا جائے تو ان بستیوں کے الٹ جانے کی وجہ سے اور معذبین کے نیچے جانے کی وجہ سے اوپر کی زمین محل عذاب نہیں بنی، علاوہ ازیں اگر اس پانی کو بھی محل عذاب تسلیم کر لیں جو بحر میت میں ہے تو اس پانی میں بحر اردن وغیرہ باہر کا اتنا پانی مل جاتا ہے کہ سابقہ پانی کالعدم یا مغلوب ہو جاتا ہے لہذا وہاں کے پانی سے کچھ پوتھوں اور دانوں وغیرہ کے لانے میں کوئی حرج نہیں ، اور وہاں کی بنی ہوئی دواؤں کا استعمال بھی ممنوع نہیں۔
ہاں مدائن صالح علیہ السلام بنا بر قولِ مشہور وہی جگہ ہے جہاں عذاب آیا تھا اور اس کے آثار بھی موجود ہیں، لہذا وہاں کی چیزوں کو نہیں لانا چاہیے ہاں عبرت کے لیے دیکھنے کی گنجائش ہے نیز سابقہ تفصیل کی روشنی میں بحیرہ لوط کے پانی سے نہانے کی بھی گنجائش ہے۔
حدیث شریف کی تحقیق:
وروي الحاكم في الإكليل عن أبي سعيد الخدري رضي الله عنه قال: رأيت رجلاً جاء بخاتم وجده بالحجر في بيوت المعذبين فأعرض عنه النبي ﷺ واستتر بيده أن ينظر إليه وقال: ألقه، فألقاه. لكن إسناده ضعيف. (فتح الباري: ۱/۵۳۱، دار المعرفة، بيروت). (وكذا في روضة المحدثين: ۱/۱۸۱/۱۸۱).
خلاصہ یہ ہے کہ یہ حدیث ضعیف ہے۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.