سر میں کافی زخم ہونے پر احرام سے نکلنے کا حکم:
Question
اگر کسی شخص نے مصنوعی بالوں کی وگ لگوائی ہے اور سر میں بہت سارے زخم ہیں جن کی وجہ سے حج کے بعد حلق یا قصر انتہائی دشوار ہے یا کچھ ٹھیک ہو رہا ہے لیکن پھر بھی بعض وجوہات کی وجہ سے قصر یا حلق نہیں کر سکتا ہے تو اب یہ شخص احرام سے کیسے نکلے گا؟ بینوا توجروا ۔
Answer
فقہاء کی تحریرات سے پتا چلتا ہے کہ جس شخص کے سر پر بال نہ ہو یا ہو لیکن زخم یا بیماری کی وجہ سے قصر یا حلق کرنا ممکن نہ ہو تو سر پر اُسترہ پھیرنا چاہیے اور یہ بھی ممکن نہ ہو تو ویسے ہی حلال ہو جائے گا ۔
نیز اگر کسی کے سر میں حقیقی بال نہیں بلکہ مصنوعی بالوں کی وگ لگائی ہے تو اگر بآسانی الگ کر سکتا ہے تو اتار کر سر پر اُسترہ پھیرنا ضروری ہے اور اگر اُتارنا ممکن نہیں ہے یا مشکل ہے تو اسی پر اُسترہ پھیرنا چاہیے اور اگر زخم یا بیماری کی وجہ سے یہ بھی ممکن نہ ہو ویسے ہی حلال ہو جائے گا ۔
چنانچہ صورتِ مسئولہ میں شخص مذکور اگر مصنوعی بالوں کی وگ نکال کر سر پر اُسترہ پھیر سکتا ہے تو پھیرنا ضروری ہے ورنہ مصنوعی وگ پر اُسترہ پھیر لے لیکن اگر سر میں زخم کی وجہ سے یہ بھی مشکل ہو تو ویسے ہی حلال ہو جائے گا ۔ ملاحظہ ہو در مختار مع رد المحتار میں منقول ہے:
ويجب إجراء الموسى على الأقرع وذي قروح إن أمكن وإلا سقط. قوله: ويجب إجراء الموسى علي الأقرع، هو المختار كما في الزيلعي والبحر واللباب وغيرها وقيل استحباباً قال في شرح اللباب وقيل: استناناً وهو الأظهر. قوله وإلا سقط أي وإن لم يمكن إجراء الموسى عليه ولا يصل إلى تقصيره سقط عنه وحل بمنزلة من حلق والأحسن له أن يؤخر الإحلال إلى آخر الوقت من أيام النحر ولا شيء عليه إن لم يؤخر
وبعد أسطر قال: ومثال تعذر الحلق يمنع إمكان التقصير أن يفقد آلة الحلق أو من يحلقه أو يضره الحلق لنحو صداع أو قروح برأسه وتقدم مثال تعذرهما جميعاً في الأقرع وذي قروح شعره قصير. (الدر المختار مع رد المحتار: ۲/۵۱٦، سعيد).
وفي تبيين الحقائق: ويجب إجراء الموسى على الأقرع على المختار ولو كان على رأسه قرح لا يمكن إمرار الموسى عليه ولا يصل إلى تقصيره فقد حل. (تبيين الحقائق: ۲/۳۳، ط: إمداديه).
وفي اللباب مع شرحه: ولو تعذر الحلق لعارض أي لعلة في رأسه
تعين التقصير أو التقصير أي تعذر لكون الشعر قصيراً، تعين الحلق وإن تعذرا جميعاً لعلة في رأسه بأن يكون شعره قصيراً، أو برأسه قروح يضره الحلق سقطا عنه وحل بلا شيء أي بلا وجوب دم عليه لأنه ترك الواجب بعذر. (لباب المناسك مع شرحه، ص ۲۵۳، دار الكتب العلمية بيروت).
معلم الحجاج میں مرقوم ہے: مسئلہ: اگر کوئی گنجا ہے اور اس کے سر پر بالکل بال نہیں ہیں یا سر میں زخم ہیں تو صرف سر پر استرہ پھیرنا واجب ہے، اگر زخموں کی وجہ سے استرہ بھی نہ چلا سکے تو یہ واجب ساقط ہو جاتا ہے اور بلا حجامت مثل منڈوانے والے کے حلال ہو جائے گا لیکن اولی یہ ہے کہ ایسا شخص بارہویں تاریخ تک حلال نہ ہو ۔ (معلم الحجاج، ص ۲۰٤، ط: ادارۃ القرآن، کتاب المسائل: ۳/۳۳۸، کتب خانہ نعیمیہ) ۔
وللاستزادة راجع: (غنية الناسك، ص ۹۳، مطلب لو تعذر الحلق لعارض، ط: إدارة القرآن، وحاشية الطحطاوي على الدر المختار: ۱/۵۰۷، والعناية في شرح الهداية: ۲/٤۹۰، ط: دار الفكر، والفتاوى الهندية: ۱/۲۳۱، والفتاوى الولوالجية: ۱/۲۷۸، ط: دار الكتب العلمية، والهداية: ۳/۳۸، مكتبه شركة علمية).
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.