جمعہ کی شام مجلس نکاح منعقد کرنے کا حکم:
Question
"
أمسوا بالإملاك فإنه أعظم بركة"
یہ حدیث میں نے کسی جگہ پڑھی ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ شام کے وقت نکاح کرنا چاہیے، تو کیا شام کے وقت یا رات کے وقت نکاح کرنا مستحب ہے؟ اور جمعہ کی شام کو نکاح کی فضیلت کسی روایت میں ہے یا نہیں؟
بينوا بالدليل توجروا بالأجر الجزيل.
Answer
سوال میں مذکور حدیث، تفسیر ثعلبی میں سند کے ساتھ مذکور ہے لیکن ضعیف ہے، ہاں فضائل میں ضعیف حدیث کا اعتبار ہوتا ہے، اس بنا پر شام کے وقت نکاح کرنا مستحب اور خیر و برکت کا سبب ہوگا، باقی فقہاء نے جمعہ کے دن نکاح کرنے کو مستحب بتایا ہے، اور ہمارے بعض اکابر رحمه الله نے جمعہ کے دن شام کو مجلس نکاح منعقد کرنے کو مستحب فرمایا ہے تو چونکہ جمعہ کی شام میں ساعتِ اجابت ہوتی ہے، شاید اس وجہ سے فرمایا ہوگا۔ حدیث شریف ملاحظہ ہو : تفسیر ثعلبی میں سند کے ساتھ یہ حدیث مذکور ہے:
وأخبرني الحسين بن محمد (صدوق)، قال: حدثنا عبد الله بن يوسف بن أحمد بن مالك (لم اهتد إلى ترجمته)، قال: حدثنا أبو العباس عبد الله بن أحمد بن حشيش البغدادي، (إذا كان خشيش بالخاء، فالدارقطني وثقه) قال: حدثنا عثمان بن معبد (وكان ثقة، وأصابه طرش في آخر عمره)، قال: حدثنا عبد الله بن إبراهيم (إذا كان عبد الله بن إبراهيم بن أبي عمرو الغفاري أبو محمد المدني، فهو منكر الحديث) عن سفيان بن عامر العامري (إذا كان سفيان بن عامر الغفاري، فذكره ابن حبان في الثقات، ولكن قال أبو حاتم: ليس بالقوي)، عن صافية مولاتهم (لم أجد من ترجمها، يمكن أن تكون صافية التي روت عن صفية بنت حيي رضي الله تعالى عنها ذكرها في الطبقات الكبرى ولم يذكر لها جرحاً ولا تعديلاً) عن أبي هريرة رضي الله عنه قال: قال رسول الله ﷺ: "مسوا بالإملاك، فإنه أفضل في اليمن وأعظم في البركة". (الكشف والبيان: ۷/۹٤، ط: بيروت).
در مختار میں ہے:
ويندب إعلانه وتقديم خطبة وكونه في مسجد يوم جمعة. (الدر المختار مع رد المحتار: ۳/۸، سعيد).
وفي مجمع الأنهر: ويستحب مباشرة عقد النكاح في المسجد وكونه في يوم الجمعة. (مجمع الأنهر: ۱/۳۱۷، دار إحياء التراث العربي). (وكذا في حاشية الطحطاوي على الدر المختار: ۲/۵).
فقہائے مالکیہ نے بھی بروزِ جمعہ بعد العصر مجلس نکاح منعقد کرنے کو مستحب فرمایا ہے ۔ ملاحظہ ہو :
قال في مواهب الجليل: قال في الطراز: قال أبو عبيد: تستحب الخطبة يوم الجمعة بعد العصر وذلك لقربه من الليل وسكون الناس فيه والهدو فيه. (مواهب الجليل: ۵/۲٦، ط: دار عالم الكتب). (وكذا شرح ميارة الفاسي، لأبي عبد الله المالكي: ۱/۲٤٤، دار الكتب العلمية، والموسوعة الفقهية: ٤۱/۲۲۲).
فقہائے شافعیہ اور فقہائے حنابلہ نے جمعہ کے دن شام کی تصریح کی ہے ۔ ملاحظہ ہو :
قال ابن قدامة في الشرح الكبير: ويستحب عقد النكاح مساء يوم الجمعة، لأن جماعة من السلف استحبوا ذلك منهم ضمرة بن حبيب وراشد بن سعيد وحبيب بن عنية ولأنه يوم شريف ويوم عيد وفيه خلق آدم عليه السلام، والمساء أولي فإن أبا حفص روى بإسناده عن أبي هريرة رضي الله عنه قال: قال رسول الله ﷺ: "مسوا بالإملاك، فإنه أعظم للبركة" ولأنه أقرب إلى مقصوده وأقل لانتظاره. (الشرح الكبير: ۷/۳٦۷، ط: دار الكتاب العربي). (وكذا في الكافي في فقه ابن حنبل: ۳/۱۷، والمغني لابن قدمة: ۷/٤۲۸، دار الفكر).
الفقہ الاسلامی و ادلتہ میں دکتور وہبہ زحیلی شافعی رحمه الله فرماتے ہیں:
ويستحب أن ينعقد النكاح يوم الجمعة مساء، لحديث أبي هريرة رضي الله عنه مرفوعاً:" أمسوا بالإملاك، فإنه أعظم للبركة ولأن الجمعة يوم شريف ويوم عيد والبركة في النكاح مطلوبة، فاستحب له أشرف الأيام طلباً للبركة، والإمساء به؛ لأن في آخر النهار من يوم الجمعة ساعة الإجابة. (الفقه الإسلامي وأدلته: ۷/۱۲٤، مندوبات عقد الزواج).
جمعہ کے دن نکاح کی فضیلت سے متعلق حدیث اور اس کی تحقیق کے لیے فتاوی دار العلوم زکریا (۳/۵٦۰) کی مراجعت مفید ہے ۔
بعض اکابر رحمه الله نے بھی بروزِ جمعہ بعد العصر مجلس نکاح کو مستحب فرمایا ہے ۔ ملاحظہ ہو شاہ صاحب رحمه الله شرح ترمذی میں فرماتے ہیں:
قوله (في المساجد) كتبنا أن النكاح يوم الجمعة بعد العصر في المسجد مستحب. (العرف الشذي: ۲/۳۵۸، دار التراث العربي).
تفسیر عزیزی میں حضرت مولانا شاه عبد العزیز محدثِ دہلوی رحمه الله فرماتے ہیں:
حضرت عبداللہ عباس رضی اللہ تعالی عنہما سے ایک شخص نے پوچھا کہ عقدِ نکاح کی مجلس کو رات کو کرنا چاہیے یا دن کو آپ نے فرمایا: رات کو اس واسطے کہ اللہ تعالی نے رات کو لباس فرمایا ہے اور نکاح والی عورتوں کو بھی لباس فرمایا ہے:
﴿هُنَّ لِبَاسٌ لَّكُمْ وَأَنتُمْ لِبَاسٌ لَّهُنَّ﴾
، اور ایک لباس کو دوسرے لباس کے ساتھ پوری مناسبت ہے ۔ (تفسیر عزیزی: ٤/۱۵) ۔
(و كذا في تفسیر حقانی: ۵/۲۰۱، ط: میر محمد کتب خانہ، کراچی) ۔
البتہ عبداللہ بن عباس رضی الله عنه کا اثر کسی کتاب میں دستیاب نہیں ہوا ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.