دودھ نہ پینے کی قسم میں مخلوط دودھ پینے سے طلاق کا حکم:

2 min readFatwa Vol 9 #356Urdu
Vol. 9باب… )۸( نکاح و طلاق سے متعلق متفرق مسائل

Question

ایک شخص نے قسم کھائی کہ "اگر میں دودھ پیوں تو میری بیوی کو طلاق "پھر دودھ میں پانی ملا کر پیے اور یہ معلوم نہیں کہ پانی زیادہ ہے یا دودھ، تو کیا وہ شخص حانث ہو گا یا نہیں؟ اور اس کی بیوی پر طلاق واقع ہو گی یا نہیں؟ بینوا توجروا ۔

Answer

بصورتِ مسئولہ محض شک کی وجہ سے وہ شخص حانث نہیں ہوگا اور اس کی بیوی پر طلاق واقع نہیں ہو گی ۔ ملاحظہ ہو بدائع الصنائع میں مرقوم ہے:

وإن وقع الشك فيه ولا يدري ذلك فالقياس أن لا يحنث لأنه وقع الشك في حكم الحنث فلا يثبت مع الشك وفي الاستحسان يحنث لأنه عند احتمال الوجود والعدم على السواء فالقول بالوجود أولي احتياطاً لما فيه من براءة الذمة بيقين وهذا يستقيم في اليمين بالله تعالى لأن الكفارة حق الله تعالى فيحتاط في إيجابها فأما في اليمين بالطلاق والعتاق فلا يستقيم لأن ذلك حق العبد وحقوق العباد لا يجري فيها الاحتياط للتعارض فيعمل فيها بالقياس. (بدائع الصنائع: ۳/٦۲، سعيد).
(وكذا في البحر الرائق: ٤/۳۵۷، دار المعرفة، والفتاوى الهندية: ۲/۹۱، والمبسوط للإمام السرخسي: ۸/۱۸۳، ط: إدارة القرآن كراچي).

بدائع کی عبارت کا خلاصہ یہ ہے کہ شک واقع ہو تو حقوق اللہ میں احتیاط پر عمل کرتے ہوئے حانث ہونے کا حکم لگایا جائے گا اور کفارہ واجب ہوگا، لیکن حقوق العباد میں قیاس پر عمل کرتے ہوئے حانث نہیں ہوگا اور طلاق حقوق العباد سے متعلق ہے لہٰذا طلاق واقع نہیں ہو گی۔ کیوں کہ حقوق اللہ میں اصل ذمہ کا مشغول ہونا ہے تو فراغتِ ذمہ یقینی طور پر مطلوب ہے اور حقوق العباد میں اصل ذمہ کا فارغ ہونا ہے تو وجوب و لزوم کے لیے مضبوط دلیل چاہیے جس میں شک نہ ہو۔ جیسا کہ علامہ سرخسی رحمہ اللہ نے اپنے اصول میں بیان کیا ہے:

الأصل: أن الاحتياط في حقوق الله تعالى جائز وفي حقوق العباد لا يجوز. (أصول السرخسي، ص ۱۵، مير محمد كتب خانه).

واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.