شوہر کی اطاعت سے متعلق ایک حدیث کی تحقیق:

4 min readFatwa Vol 9 #366Urdu
Vol. 9باب… )۸( نکاح و طلاق سے متعلق متفرق مسائل

Question

شوہر کی اطاعت سے متعلق ایک حدیث سننے میں آئی ہے؛ جس کا خلاصہ یہ ہے کہ ایک شخص سفر پر گیا اور بیوی کو بتلا گیا کہ گھر سے باہر نہ جائے اور اس کے والد نچلے منزلہ میں رہتے تھے، وہ بیمار ہو گئے، عورت نے حضور ﷺ سے مسئلہ معلوم کرنے کے لیے کسی کو بھیجا کہ عیادت کے لیے جا سکتی ہے، جواب میں حضور ﷺ نے فرمایا: شوہر کی اطاعت کرو، پھر والد کا انتقال ہو گیا تو دوبارہ مسئلہ پوچھنے کے لیے بھیجا والد کا چہرہ دیکھنے جا سکتی ہے، حضور نے جواب میں فرمایا: شوہر کی اطاعت کرو، پھر حضور نے اس عورت کے پاس پیغام بھیجا کہ اپنے شوہر کی اطاعت کی وجہ سے اللہ تعالی نے تیرے والد کی مغفرت فرما دی۔ کیا یہ قصہ کسی حدیث میں ثابت ہے یا نہیں؟ اگر ثابت ہے تو اس کا درجہ کیا ہے؟ بینوا توجروا۔

Answer

مذکورہ بالا قصہ حدیث کی چند کتابوں میں موجود ہے لیکن اس کے تمام طرق ضعیف ہیں، جب کہ قرآن اور احادیثِ صحیحہ کثیرہ میں یہ بات موجود ہے کہ بوقتِ ضرورت والدین کی خدمت، عیادت ضروری ہے، اللہ تعالی نے قرآنِ کریم میں فرمایا:
وبالوالدين إحسانا،
پھر
لا طاعة لمخلوق في معصية الخالق
یعنی خالق کو ناراض کر کے کسی مخلوق کی اطاعت جائز نہیں ہے، چنانچہ اللہ اور اس کے رسول کا حکم عدولی کر کے شوہر کو راضی کرنا سمجھ میں نہیں آتا، لہٰذا اس ضعیف حدیث کا شرعاً کوئی اعتبار نہیں۔
حدیث کی تحقیق درجِ ذیل ملاحظہ کیجیے:
۱
ـ أخرج الإمام الطبراني في الأوسط (۷/۳۳۲، رقم ۷٦٤۸) قال وبه حدثنا زافر عن ثابت البناني عن أنس بن مالك رضي الله عنه عن النبي ﷺ أن رجلاً خرج وأمر امرأته أن لا تخرج من بيتها وكان أبوها في أسفل الدار وكانت في أعلاها فمرض أبوها فأرسلت إلى النبي ﷺ فذكرت له ذلك فقال: أطيعي زوجك، فمات أبوها فأرسلت إلى النبي ﷺ فقال: أطيعي زوجك فأرسل إليها النبي ﷺ أن الله غفر لأبيها بطاعتها لزوجها.
إسناده ضعيف جداً؛ في إسناده:
۱
) محمد بن موسي أبوعبد الله الاصطخري؛ قال الهيثمي لا أعرفه. وقال الحافظ: شيخ مجهول. قال ابن النجار: مجهول. وضعفه الدارقطني. راجع: (إرشاد القاصي والداني إلى تراجم شيوخ الطبراني: ۱/٦۲۱، ولسان الميزان: ۷/۵٤۱، ط: دار البشائر، والفرائد على مجموع الزوائد، ص ۲٤۹، ط: الدوحة، قطر).

۲
) عصمة بن المتوكل؛ قال الهيثمي: ضعيف. قال عقيلي: قليل الضبط للحديث، يهم وهماً. قال الإمام أحمد: لا أعرفه. راجع: (مجمع الزوائد: ٤/۳۱۳/۷٦٦٦، ط: القاهرة، وميزان الاعتدال: ۳/٦۸، ط: لبنان، ولسان الميزان: ۵/٤۳۹، دار البشائر).

۳
) زافر بن سليمان: ضعيف يعتبر به؛ راجع: (تحرير التقريب: ۱/٤۰۹، وميزان الاعتدال: ۲/۲۵۳).

۲
ـ أخرج يحيي بن عبد الحميد عن يوسف بن عطية (متروك) عن ثابت عن أنس بن مالك نحوه. (مسند عبد بن حميد ۲/۱٦/۱۳٦۹)، قال الشيخ مصطفى العدوي في تعليقاته على المنتخب من مسند عبد بن حميد: ضعيف جداً، في إسناده: يوسف بن عطية وهو متروك. (المنتخب، ص ٤۰٤، رقم: ۱۳٦۹).
ـ يوسف بن عطية: قال الذهبي: مجمع على ضعفه. وقال النسائي: متروك. وقال الفلاس: ما علمته كان يكذب، لكنه يهم. وقال البخاري: منكر الحديث. وقال أبو زرعة، وأبو حاتم والدارقطني: ضعيف الحديث. وقال أبو بشر الدولابي: متروك الحديث. (ميزان الاعتدال: ٤/٤٦۸، ط: لبنان، وتهذيب الكمال: ۳۲/٤٤٦، ط: مؤسسة الرسالة).

خلاصہ یہ ہے کہ نصوصِ کثیرہ معتبرہ جن میں والدین کے ساتھ حسن سلوک کی تاکید آئی ہے ان کے مقابلہ میں اس ضعیف اور کمزور حدیث میں مذکورہ قصہ کی کوئی حیثیت نہیں ہے ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.