(consignment sale) کون سا ئمنٹ سیل کا حکم:

4 min readFatwa Vol 9 #380Urdu
Vol. 9باب… )۱۰( تجارت سے متعلق متفرق مسائل کا بیان

Question

ایک تجارت کون سا ئمنٹ سیل کی بنیاد پر چلتی ہے، اس کا طریقہ کار یہ ہوتا ہے کہ عام بیع کے ساتھ کمپنی چند خریدار کو یہ اختیار دیتی ہے کہ جو سامان خریدنے کے بعد نہ بیچ سکے تو وہ مال کمپنی کو دوبارہ واپس کر سکتے ہیں، یہ کمپنی کے لیے مال کا واپس کرنا اقالہ کے ماتحت شمار ہوتا ہے، کیا شریعت میں اس قسم کی بیع کی گنجائش ہو سکتی ہے؟ یا یہ بیع و شرط میں داخل ہو کر نا جائز ہو گی؟ آج کل دنیا میں اکثر بڑی کمپنیاں اس میں مبتلا ہیں، اور اس کی وجہ سے خریدار زیادہ مائل ہوتے ہیں، بہت سارے مسلمان تجار نے بھی یہ طریقہ اپنایا ہوا ہے ۔

Answer

بصورتِ مسئولہ اِس معاملہ کا صحیح طریقہ یہ ہے کہ بیع میں واپسی کی شرط نہ لگائے بلکہ عقدِ بیع کے بعد وعدہ کر لے اور کاغذات میں بھی درج کر دیا جائے، تو اس قسم کا معاملہ صحیح اور درست ہوگا، اور یہ شرط وعدہ کے درجہ میں ہو گی ۔
اس کی نظیر بیع بالوفاء ہے اس میں اقالہ یقینی ہے اور بہت سارے علماء نے اس بیع کے جواز کا فتوی دیا ہے جس کی تفصیل فتاوی دار العلوم زکریا (جلد ۵)، میں دیکھی جا سکتی ہے، اس کی روشنی میں اوپر والی صورت بدرجہ اولی جائز ہو گی جب کہ اس میں اقالہ کا احتمال ہے یقینی نہیں ہے ۔
بیع بالوفاء کے بارے میں شرح النقایہ میں لکھا ہے، ملاحظہ ہو :

وإن ذكر البيع من شرط ثم ذكر الشرط على وجه الميعاد جاز البيع ويلزمه الوفاء بالميعاد لأن المواعيد قد تكون لا زمة، قال رسول الله ﷺ: العدة دين فيجعل هذا الميعاد لا زماً لحاجة الناس إليه. (شرح النقاية: ۳/۲۵۳، ط: بيروت).
وقال في تبيين الحقائق: وإن ذكر البيع من غير شرط ثم ذكرا الشرط على الوجه المعتاد جاز البيع ويلزمه الوفاء بالميعاد لأن المواعيد قد تكون لا زمة قال عليه الصلاة والسلام: العدة دين. فيجعل هذا الميعاد لا زماً لحاجة الناس إليه. وقال جلال الدين في حواشي الهداية: صورته أن يقول البائع للمشتري بعت منك هذا العين بألف على أني لو دفعت إليك ثمنك تدفع العين إلى ثم قال: ويسمي هذا بيع الوفاء. (تبيين الحقائق: ۵/۱۸٤، ط: إمداديه). (وكذا في فتاوى قاضيخان: ۲/۱٦۵، ومجمع الضمانات: ۱/۵۳۰، وفتح القدير: ٦/٤٤۵، ط: دار الفكر، والعناية شرح الهداية بهامش فتح القدير: ٦/٤٤٤).

امداد الاحکام میں مذکور ہے:
اور بیع بالوفاء کی ایک صورت یہ ہے کہ ایجاب و قبول بیع و شراء کا ہوا اور ایجاب و قبول میں کوئی شرط واپسی وغیرہ کی نہ ہو بلکہ بعد ایجاب و قبول کے شرط رد وغیرہ کی کی جاوے، یہ بالاتفاق جائز ہے، لخلو العقد عن الشرط اور جب زبانی ایجاب و قبول میں متصلاً شرط نہ ہو تو بیع نامہ میں متصلاً شرط لکھنے سے حرمت نہ آئے گی،
لأن الأصل في العقود القول والكتابة وثيقة، والله تعالى أعلم.
(امداد الاحکام: ۳/٤۳۵، کراچی) ۔
دوسری جگہ مرقوم ہے:
چونکہ بیع بالشرط کے ناجائز ہونے میں ائمہ کا اختلاف ہے چنانچہ امام شافعی رحمه الله کے نزدیک بعض صورتوں میں بیع بالشرط جائز ہے اور ابن ابی لیلی اور ابن شبرمہ کا بھی یہی مذہب ہے کہ بیع بالشرط جائز ہے اس لیے فقہاء متاخرین نے ضرورت کی وجہ سے بیع بالوفاء کو جائز کر دیا ہے ۔ (امداد الاحکام: ۳/٤۲۹، کراچی) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.