کفالت نامہ (Letter of Guarantee) پر اجرت لینے کا حکم:

6 min readFatwa Vol 9 #384Urdu
Vol. 9باب… )۱۰( تجارت سے متعلق متفرق مسائل کا بیان

Question

زید جاپان میں ایک کمپنی کا مالک ہے، اس نے عمر کے ساتھ جو فی الحال پاکستان میں ہے یہ معاہدہ کیا کہ زید عمر کو گارنٹی لیٹر دے گا جو جاپان کے ویزا کے لیے ضروری ہے، اور عمر اس کے بدلہ میں جاپان آ کر زید کے ساتھ اس کی کمپنی میں کام کرے گا اور ۳۰ فیصد نفع زید کو دے گا، اور اگر زید کے ساتھ کام نہ کرنا چاہے تو سات لاکھ روپے دے گا، اب کیا زید کا یہ معاہدہ بنگاہِ شریعت درست ہے یا نہیں؟ اور کیا عمر کے اس کے ساتھ کام نہ کرنے کی صورت میں سات لاکھ زید کو دینے لازم ہوں گے یا نہیں؟ بینوا توجروا ۔

Answer

کفالہ بالنفس اور کفالہ بالمال عقدِ تبرع ہے اس پر اجرت لینا صحیح نہیں، کفالہ بالنفس میں مکفول بہ کو عدالت لانا ہوتا ہے اور کفالہ بالمال مکفول عنہ کی طرف سے دین کی ادائیگی ہوتی ہے ۔ چنانچہ صورتِ مسئولہ میں زید جاپانی سفارت خانہ کو ضمانت دے رہا ہے کہ میں عمر کے لیے درجِ ذیل اشیاء کی ضمانت لیتا ہوں:
۱ ۔ جاپان میں رہائش کا خرچہ ۲ ۔ واپسی کے سفر کا خرچہ ۳ ۔ اور جاپانی حکومت کے تمام قوانین کی پابندی ۔ یہ کفالتِ محضہ ہے اس کا عوض لینا جائز نہیں اس لیے گارنٹی لیٹر دینے پر معاوضہ لینا جائز نہیں ۔
ملاحظہ ہو فتح القدیر میں مرقوم ہے:

والكفالة عقد تبرع كالنذر لا يقصد به سوى ثواب الله أو رفع الضيق عن الحبيب فلا يبالي بما التزم في ذلك ويدل على ذلك إقدامه بلا تعيينه للمقدارحين قال ما كان عليه فعلي، فكان مبناها التوسع فتحملت فيها الجهالة. (فتح القدير: ۷/۱۸۱، دار الفكر).

مزید ملاحظہ ہو :
(بدائع الصنائع: ٦/۵، سعيد، والاختيار لتعليل المختار: ۲/۱۷۹، دار الكتب العلمية، بيروت، وفقهي مقالات: ۱/۳۰۱، وفتاوى الشبكة الإسلامية: ۷۰۳٤۲، وقرارات مجمع الفقه الإسلامي، ص ۲۰).

لیکن آج کل کی کفالت میں بہت ساری ذمہ داریاں اور کاغذی کاروائیاں شامل ہوتی ہیں جیسے صورتِ مسئولہ میں : جاپان میں رہائش، واپسی کے تمام قوانین کی پابندی، وغیرہ، اس لیے بعض علماء کے نزدیک اس پر مناسب اجرت لے سکتے ہیں، جیسے مرضعہ بچے کو دودھ پلانے کی ذمہ داری لیتی ہے اور اس پر اجرت لیتی ہے یا کوئی کمپنی کار کی مرمت کی ذمہ داری لیتی ہے اور اس پر اجرت لیتی ہے یا جیسے عقدِ موالات میں مولی اسفل مولی اعلی سے کہتا ہے کہ تم میرے مرنے کے بعد میرے وارث ہوں گے اور میری جنایت کے ذمہ دار ہو گے تو مولی اعلی ذمہ داری کی وجہ سے وراثت کا مستحق ہوتا ہے، اِن بعض علماء کے نزدیک مناسب اور معروف اجرت لینے کی گنجائش معلوم ہوتی ہے، یہ صرف کفالت نہیں بلکہ اس میں عمل بھی ہے ۔
جواز والوں کے دلائل ملاحظہ کیجیے: (۱) کتبِ فقہ سے مرضعہ کی اجرت کا جواز:

قال في الدر المختار: والظئر، المرضعة بأجر معين لتعامل الناس بخلاف بقية الحيوانات لعدم التعارف، وكذا بطعامها وكسوتها ولها الوسط وهذا عند الإمام لجريان العادة بالتوسعة على الظئر شفقة على الولد. وفي رد المحتار: قوله لتعامل الناس علة للجواز وهذا استحسان لأنها ترد على استهلاك العين وهو اللبن

ووجهه أن العادة لما جرت بالتوسعة على الظئر شفقة على الولد لم تكن الجهالة مفضية إلى النزاع والجهالة ليست بمانعة لذاتها بل لكونها مفضية إلى النزاع. (الدر المختار مع رد المحتار: ٦/۵۳، سعيد).

۲ ۔ عقد موالات کے بارے میں علامہ شامی رحمه الله لکھتے ہیں:

مولي الموالاة أي القابل موالاة الميت حين قال له: أنت مولاي ترثني إذا مت وتعقل عني إذا جنيت ولم يكن من العرب ولا في معاتيقهم ولا له وارث نسبي ولا عقل عنه بيت المال أو مولي موالاة آخر فيرثه القابل بلا عكس إلا إن شرط ذلك من الجانبين وتحققت الشرائط فيهما وله أن يرجع ما لم يعقل عنه مولاه وهذا مذهب عمر وعلي وكثير ين. (فتاوى الشامي: ٦/۷٦٤، سعيد).

بعض علماء نے مجبوری کے وقت جائز قرار دیا ہے، جیسے شافعیہ میں سے ڈاکٹر وہبہ زحیلی رحمه الله فرماتے ہیں:

لكن إن شرط الكفيل تقديم مقابل أو أجر على كفالته، وتعذر على المكفول عنه تحقيق مصلحته من طريق المحسنين المتبرعين، جاز دفع الأجر للضرورة أو الحاجة العامة، لما يترتب على عدم الدفع من تعطيل المصالح كالسفر للخارج للدراسة أو للارتزاق أو لتاجيل الجندية ونحوها، وأساس القول بالجواز فيه: إن الفقهاء أجازوا دفع الأجر للحاجة لا داء القربات والطاعة من تعليم قرآن وممارسة الشعائر الدينية، كما أنهم أجازوا دفع شيء من المال على سبيل الرشوة للوصل إلى الحق أو دفع الظلم، أو الدفع لعدو لدرء خطره وضرره عن البلاد، والمكفول عنه يحقق بالكفالة منفعة له تتعين الكفالة المأجورة سبيلاً إليها، لكن يجب عدم الاستغلال أو المغالاة في اشتراط المقابل، مراعاة لا صل مشروعية الكفالة وهو التبرع، كما يمكن اعتبار الأجر لمكاتب الكفالات مقابل الأتعاب في إنجاز معاملة الكفالة. (الفقه الإسلامي وأدلته: ۵/۱٦۱، دمشق).

جدید فقہی مسائل میں مرقوم ہے:
البتہ اگر کوئی شخص کسی چیز کے لینے پر مجبور ہو تو اس قاعدہ کے تحت کہ مجبوریاں ناجائز چیزوں کی گنجائش پیدا کر دیتی ہیں (
الضرورات تبيح المحظورات)
وہ اجرت ادا کر سکتا ہے ۔ (جدید فقہی مسائل: ٤/۲٦۹) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.