حیوانات کے سری پائے میں بیع سلم کا حکم:
Question
ایک آدمی کو پائے کھانے کا بہت شوق ہے وہ قصائی سے کہنا چاہتا ہے کہ ہر اتوار کو مجھے گائے کے پائے ٤۰۰ رینڈ میں چاہیے، کیا یہ معاملہ جائز ہے یا نہیں؟ اگر جائز ہو تو بیع کی کون سی قسم میں داخل ہو گا؟
Answer
بصورتِ مسئولہ یہ معاملہ وقت، قیمت اور مبیع متعین ہونے کی وجہ سے جائز اور درست ہے اس میں نزاع کی کوئی شکل نہیں، لہٰذا یہ بیع سلم میں داخل ہو کر جائز ہو گا۔ ملاحظہ ہو حدیث شریف میں ہے:
عن ابن عباس رضي الله عنه قال: قدم النبي ﷺ المدينة وهم يسلفون بالتمر السنتين والثلاث فقال: من أسلف في شيء ففي كيل معلوم ووزن معلوم إلى أجل معلوم. (صحيح البخاري، رقم: ۲۲٤۰، باب السلم في وزن معلوم).
امام ابو حنیفہ رحمه الله کے نزدیک اصلا ً سری پائے اور گوشت میں بیع سلم جائز نہیں ہے، لیکن صاحب ہدایہ رحمه الله نے فرمایا کہ اگر اس کی پوری کیفیت بتلا دی جائے تو جائز ہے نیز صاحبین رحمه الله کے نزدیک جائز ہے اور اسی پر فتوی ہے۔
ملاحظہ ہو ہدایہ میں ہے:
ولا في أطرافه كالرؤوس والأكارع، للتفاوت فيها، إذ هو عددي لا مقدر لها، قال ولا في الجلود عدداً، ولا في الحطب حزماً، ولا في الرطبة جرزاً، للتفاوت إلا إذا عرف ذلك بأن يبين له طول ما يشد به الحذمة أنه شبر أو ذراع، فحينئذٍ يجوز إذا كان على وجه لا يتفاوت. (الهداية: ۳/۱۳۷).
شرح نقایہ میں مرقوم ہے:
ولا يصح السلم في اللحم عند أبي حنيفة رحمه الله ويصح عندهما وبه يفتي. (شرح النقاية: ۳/۲۷۸).
البحر الرائق
میں مذکور ہے:
وقالا: يجوز إذا بين جنسه ونوعه وسنه وموضعه وصفته وقدره كشاة خصي ثني سمين من الجنب أو الفخذ مائة رطل، لأنه موزون مضبوط الوصف
وفي الحقائق والعيون الفتوى على قولهما. (البحر الرائق: ٦/۱۷۲، دار الكتاب الإسلامي).
(وكذا في الفقه الحنفي في ثوبه الجديد: ٤/۲۸۹، وفتاوى دار العلوم زكريا: ۵/۲۷۷).
خلاصہ یہ ہے کہ مذکورہ بالا معاملہ بیع سلم کے تحت داخل ہو کر جائز ہو گا اور اگر کسی کو بیع سلم تسلیم نہ ہو تو پھر یہ وعدہ ہو جائے گا اور جب پائے لینے کا وقت آئے گا اس وقت بیع ہو جائے گی۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.