اذان کے بعد ہاتھ اٹھا کر دعا کرنا :
Question
اذان کے بعد ہا تھ اٹھا کر دعا مانگنا چاہیے یا بغیر ہاتھ اٹھائے؟
Answer
جن دعاؤں کے لیے مخصوص الفاظ وارد ہوے ہیں اور ان میں خصوصیت سے رفع یدین ثابت نہیں وہ دعائیں اذکار کے حکم میں ہیں ان کے لیے ہاتھ نہ اٹھانا بہتر ہے جیسے اذان کے بعد کی دعا اور کھانے پینے اور بیت الخلاء کی دعائیں ۔
ملاحظہ ہو فیض الباری میں ہے:
(باب الدعاء عند النداء) والمسنون في هذا الدعاء ألا ترفع الأيدي، لأنه لم يثبت عن النبي ﷺ رفعها والتشبث فيه بالعمومات بعد ما ورد فيه خصوص فعله ﷺ لغو، فإنه لم يرد فيه خصوص عادته ﷺ لنفعنا التمسك بها، وما إذا نقل إلينا خصوص الفعل فهو الأسوة الحسنة لمن كان يرجو الله والدار الآخرة. (فيض الباري: ۲/۱٦۷، باب الدعاء عند النداء)
احسن الفتاوی میں ہے:
دعا کی دو قسمیں ہیں: (۱) بدونِ توظیف الفاظ مخصوصہ مطلق کوئی حاجت طلب کرنا (۲) الفاظِ مؤظفہ خواہ کسی خاص وقت سے متعلق ہوں یا مطلق ہوں، رفعِ یدین کی احادیث قسمِ اول سے متعلق ہیں قسمِ دوم سے متعلق نہیں،
إلا ما ورد فيه النص
، چنانچہ بعد وضو، مسجد میں دخول و خروج، گھر میں دخول و خروج، بیت الخلاء میں دخول و خروج وغیرہ ادعیہ ماثورہ میں کوئی بھی رفعِ یدین کا قائل نہیں ۔ (احسن الفتاوی: ۲/۲۹۸)
فتاوی دار العلوم دیوبند میں ہے:
خصوصیت کے ساتھ اس موقع پر رفع یدین ثابت نہیں ۔ (فتاوی دار العلوم دیوبند: ۲/۱۱۰، از مفتی عزیز الرحمٰن صاحب رحمه الله) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.