گھوڑا گاڑی میں نماز پڑھتے وقت استقبالِ قبلہ اور قیام کا حکم:
Question
اگر کوئی شخص گھوڑا گاڑی میں نماز پڑھتا ہے تو چلتے چلتے نماز پڑھ سکتا ہے یا اترنا ضروری ہے اور ٹرین میں نماز پڑھنے کا حکم کیا ہے؟
Answer
ٹرین اور گھوڑا گاڑی میں نماز پڑھنا درست ہے اور استقبالِ قبلہ اور قیام پر قدرت کے وقت دونوں ضروری ہیں کسی کو ترک کرنے سے نماز نہیں ہو گی ۔
مراقی الفلاح میں ہے:
وقالا أي أبو يوسف رحمه الله ومحمد رحمه الله لا تصح جالساً إلا من عذر وهو الأظهر لحديث ابن عمر رضي الله عنه أن النبي ﷺ سئل عن الصلاة في السفينة فقال: صل فيها قائماً إلا أن تخاف الغرق وقال مثله لجعفر رضي الله عنه ولأن القيام ركن فلا يترك إلا بعذر محقق لا موهوم
وإذا كانت سائرة يتوجه المصلي فيهما إلى القبلة لقدرته على فرض الاستقبال عند افتتاح الصلاة وكلما استدارت السفينة عنها أي القبلة يتوجه المصلي باستدارتها إليها أي القبلة في خلال الصلاة. (مراقي الفلاح على نور الإيضاح: ۱٥۸، فصل في الصلاة في السفينة، مكة المكرمة)
جدید فقہی مسائل میں ہے:
ٹرین اپنی وضع کے لحاظ سے اس نوعیت کی ہے کہ اس میں قبلہ کا استقبال کیا جا سکتا ہے اور اگر درمیان میں انحراف پیدا ہو جائے تو قبلہ درست بھی کیا جا سکتا ہے اس لیے ٹرین میں فرض نمازوں کے آغاز کے وقت بھی اور دورانِ نماز بھی قبلہ کا استقبال ضروری ہے اگر نماز قبلہ رخ ہو کر شروع کی درمیان میں ٹرین نے رخ بدلا تو اپنا رخ بھی بدل دینا چاہیے اور اس کی نظیر فقہ کا وہ جزئیہ ہے جس میں لنگر انداز کشتی کے متعلق فقہاء نے لکھا ہے:
والمربوطة بلجة البحر إن كان الريح يحركها شديداً فكالسائرة وإلا فكالواقفة ويلزم استقبال القبلة عند الافتتاح وكلما دارت. (
جدید فقہی مسائل: ۱/۱۲۷، نعیمیہ دیوبند)
نظام الفتاوی میں ہے:
ریل میں بھی نماز پڑھنے کا حکم ہے البتہ اگر یقین ہو کہ وقتِ نماز باقی رہتے ہوے فلاں جگہ اتنی دیر ٹھیرے گی کہ اتنی دیر میں نماز پڑھ سکوں گا تو اس وقت تک مؤخر کر دے اور اگر مسافر شرعی ہے کم از کم فرض اور وتر پڑھ لیا کرے ۔ (نظام الفتاوی: ۱/٦۷)
احسن الفتاوی میں ہے:
اونٹ گاڑی پر فرض نماز بھی جائز ہے مگر استقبالِ قبلہ اور قیام شرط ہے، ریل گاڑی اور بس میں کھڑے ہو کر قبلہ رخ نماز پڑھیں ۔ (احسن الفتاوی: ٤/۸۸ باب صلاۃ المسافر) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.