ہوائی جہاز میں نماز پڑھتے وقت استقبالِ قبلہ اور قیام کا حکم:
Question
ہوائی جہاز میں نماز ادا کرتے وقت استقبالِ قبلہ اور قیام کا کیا حکم ہے؟
Answer
ہوائی جہاز میں نماز پڑھتے وقت استقبالِ قبلہ اور قیام ضروری ہے ۔ ہاں اگر جگہ نہیں ہے یا کسی عارض کی وجہ سے کھڑے ہو کر نماز پڑھنا دشوار ہو تو بیٹھ کر رکوع و سجدہ کے ساتھ پڑھے ۔ البتہ سیٹ پر بیٹھ کر نماز پڑھنا درست نہیں ہے ۔ اکثر علماء نے لکھا ہے کہ اس صورت میں اعادہ احوط ہے ۔
نظام الفتاوی میں ہے:
شریعت کا اصل منشا یہ ہے کہ سجدہ کرنے کے لیے کوئی ایسی چیز ہو جس پر پیشانی ٹک سکے جس طرح کشتی میں نماز ادا کرنا جائز ہے حالانکہ کشتی اور زمین کے درمیان بے پناہ پانی کا فاصلہ ہے، حاصل یہ ہے کہ زمین کی طرح ہوائی جہاز پر بھی نماز ادا کرنا درست ادا کرنا درست رہے گا اور اعادہ کی ضرورت نہ ہو گی، چنانچہ شیخ عبد الرحمٰن جزری رحمه الله نے ہوائی جہاز کو پانی کے جہاز کا حکم دیا ہے، موصوف فرماتے ہیں:
ومثل السفينة القطر البخارية والطائرات الجوية ونحوها. الفقه على المذاهب الأربعة: ۱/۲۰٦. (
نظام الفتاوی: ۱/۶۹، کتاب الصلاۃ)
مراقی الفلاح میں ہے:
والواجب فيها وهي جارية قاعداً بلا عذر به وهو يقدر على الخروج منها صحيحة عند الإمام الأعظم أبي حنيفة رحمه الله لكن بالركوع والسجود لا بالإيماء لأن الغالب فيها دوران الرأس، والغالب كالمتحقق لكن القيام فيها والخروج أفضل إن أمكنه لأنه أبعد عن شبهة الخلاف وأسكن لقلبه وقالا أي أبو يوسف رحمه الله ومحمد رحمه الله لا تصح جالساً إلا من عذر وهو الأظهر لحديث ابن عمر رضي الله عنه أن النبي ﷺ سئل عن الصلاة في السفينة فقال: صل فيها قائماً إلا أن تخاف الغرق. وقال مثله لجعفر رضي الله عنه ولأن القيام ركن فلا يترك إلا بعذر محقق لا موهوم ودليل الأمام أقوي فيتبع
(والعذر كدوران الرأس وعدم القدرة على الخروج ولا تجوز فيها بالإيماء لمن يقدر على الركوع والسجود)
ويتوجه المصلي فيها إلى القبلة لقدرته على فرض الاستقبال عند افتتاح الصلاة وكلما استدارت السفينة عنها أي القبلة يتوجه المصلي إليها في خلال الصلاة.
وفي حاشية الطحطاوي:
فصل في الصلاة في السفينة: أن السفينة لها شبه بالدابة لا نها مركب البحر والدابة
مركب البر ولذا سقط القيام كما هو في صلاة الدابة، ولها شبه بالأرض من حيث الجلوس عليها بقرار، ولذا لزم الركوع، والسجود، والاستقبال
(قوله: ولو ترك الاستقبال لا تجزيه
) هذا ما أورده الشيخ أكمل الدين بقوله: وينبغي أن يتوجه إلى القبلة كيفما دارت السفينة سواء كان عند افتتاح الصلاة، أوفي خلال الصلاة لأن التوجه فرض عند القدرة، وهذا قادر. كذا في الشرح قال بعض الحذاق: المتبادر أن لزوم التوجه منوط بالقدرة عليه كما يشير إليه كلام المضمرات، والاسبيجابي إذ الاستقبال قد يسقط بالعذر، ولو عند الإمكان كما في الخائف من عدوه عدم الإمكان أولى، والعلامة الأكمل لم يطلق لزوم الاستقبال، بل قيد بالقدرة، وعند عدم القدرة على الشيء كيف يتحقق لزومه، وإلى ما ذكرنا يشير كلام الدرر حيث قال: لأنه يمكنه الاستقبال من غير مشقة إذ مفهومه أنه عند عدم الإمكان، وعند المشقة لا يلزمه الاستقبال، ومفاهيم الكتب حجة كما لا يخفى
(حاشية الطحطاوي مع المراقي: ص ٤۰۸. ٤۱۰، فصل في الصلاة في السفينة، قديمي. وكذا في الشامي: ۲/۱۰۱، مطلب في الصلاة في السفينة. وكذا في المبسوط للإمام السرخسي: ۲/۲)
احسن الفتاوی میں ہے:
بوقتِ پرواز ہوائی جہاز میں نماز کا حکم چلتے ہوے بحری جہاز کی طرح ہے یعنی اس میں بوجہ عذر نماز جائز ہے ۔ (احسن الفتاوی ٤/۹۰)
فتاوی محمودیہ میں ہے:
قیام اور استقبالِ قبلہ پر قدرت کے باوجود ان دونوں میں سے کسی ایک کو ترک کرنے سے نماز نہیں ہو گی، سفر میں ہو یا حضر میں، ریل میں ہو یا جہاز میں، سب کا یہی حکم ہے ۔ (فتاوی محمودیہ ۷/۵۳۲، باب صلاۃ المسافر، جامعہ فاروقیہ)
نیز مذکور ہے:
مجبوری کی حالت میں اشارہ سے نماز پڑھ لی جائے پھر منزل پر پہونچ کر اعادہ کر لے کیوں کہ یہاں مانع من جہۃ العباد ہے ۔ (فتاوی محمودیہ: ۷/۵۳۲ باب صلاۃ المسافر، جامعہ فاروقیہ ۔ و احسن الفتاوی: ٤/۸۸)
نظام الفتاوی میں ہے:
تمام گفتگو کا خلاصہ یہ ہے کہ ہوائی جہاز پر بھی نماز پڑھی جائے گی ۔ اگر جماعت سے پڑھ سکتے ہوں تو جماعت سے پڑھنا بہتر ہوگا، ورنہ تنہا تنہا پڑھیں گے ۔ اگر حرکت وغیرہ کسی عارض کی وجہ سے کھڑے ہو کر پڑھنا دشوار ہو تو بیٹھ کر رکوع و سجدہ کے ساتھ پڑھیں گے اور سمتِ قبلہ کمپاس کے ذریعہ معلوم کریں گے ۔ اگر کمپاس نہ ہو تو تحری کر کے جس رخ پر قبلہ قرار پائے اس پر نماز پڑھیں گے غرض کہ جیسا عمل چلتی ریل میں کرتے ہیں اس میں بھی کریں گے اور نماز قضا نہ کریں گے ۔ (نظام الفتاوی: ص ٤۸۰) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.