حالت قیام میں قدم سے قدم ملانے کا حکم:
Question
غیر مقلدین اور عرب کے مشائخ نماز میں پاؤں کھول کر کھڑے ہوتے ہیں یعنی پیروں کو بہت زیادہ کھولتے ہیں اور کہتے ہیں کہ احادیث میں قدم سے قدم ملانے کا حکم ہے کیا ان کا یہ عمل درست ہے یا ہمارا عمل درست ہے؟ اگر ہمارا عمل درست ہے تو کیا دلائل ہیں؟
Answer
غیر مقلدین جو حدیث پیش کرتے ہیں اس میں دو لفظ آتے ہیں (۱) الصاق (۲) الزاق، ان دونوں الفاظ کے دو معنی ہیں (۱) حقیقی: یعنی مکمل طور پر ملانا اور چپکانا جیسے: "
به داء، به وسخ، به مرض"
(۲) مجازی ملانا کچھ فاصلہ کے ساتھ جیسے: "
مررت بزيد"
یعنی میں زید کے قریب سے گزرا ۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ یہاں پر حقیقی معنی مراد ہے یا مجازی، متعدد دلائل سے معلوم ہوتا ہے کہ یہاں پر مجازی معنی مراد ہے ۔ یعنی قریب کھڑا ہونا اور درمیان میں زیادہ فاصلہ نہ ہو کہ اس میں ایک آدمی کی گنجائش ہو اور صفوف کو ٹھیک کرنا ۔ ملاحظہ ہو مشکوٰۃ میں ہے:
عن أبي هريرة رضي الله عنه قال: قال رسول الله ﷺ: إذا صلى أحدكم فلا يضع ن عليه عن يمينه ولا عن يساره فتكون عن يمين غيره إلا أن لا يكون على يساره أحد وليضعهما بين رجليه. وفي رواية أو ليصل فيهما. رواه أبو داود وروي ابن ماجة معناه. (مشكوة شريف: ۱/۷۳)
وقال الشيخ ناصر الدين الألباني عن هذا الحديث "بإسنادين أحدهما حسن بالرواية الأولى والآخر صحيح بالرواية الأخرى كما حققته في صحيح السنن. ٦٦۱ و ۲٦٦. (تعليق الألباني على مشكوة: ۱/۷٦۹)
اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ دو مصلیوں کے پاؤں کے درمیان کچھ فاصلہ ہونا چاہیے اس لیے کہ اگر الزاق کو اپنے حقیقی معنی پر محمول کریں تو جوتے رکھنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا پھر تو آپ
ﷺ
یوں فرماتے کہ دائیں بائیں جوتا مت رکھو کیوں کہ جگہ نہیں ۔
(۲) عن أبي مسعود الأنصاري رضي الله عنه قال: كان رسول الله ﷺ يمسح مناكبنا في الصلاة ويقول استووا ولا تختلفوا فتختلف قلوبكم. الحديث. رواه مسلم. (مشكوة شريف: ۱/۹۸)
(۳) ان رسول الله ﷺ قال: أقيموا الصفوف وحاذوا بين المناكب وسدوا الخلل. (رواه أبو داود: ۱/۹۷)
(٤) عن أبي القاسم الجدني قال سمعت النعمان بن بشير رضي الله عنه يقول: أقبل رسول الله ﷺ على الناس بوجهه فقال: أقيموا صفوفكم ثلاثاً والله لتقيمنّ صفوفكم أو ليخالفنّ الله بين قلوبكم قال: فرأيت الرجل يلزق منكبه بمنكب صاحبه وركبته بركبة صاحبه وكعبه بكعب صاحبه. (رواه أبو داود: ۱/۹۷)
احادیث بالا سے معلوم ہوتا ہے کہ نماز میں کندھوں اور گھٹنوں کا سیدھا اور برابر رکھنا بھی ضروری ہے اور یہ اس وقت ہو سکتا ہے جب کہ الزاق کو اپنے مجازی معنی پر محمول کریں ورنہ کندھوں کو سیدھا رکھنا محالات میں سے ہے جب کہ مختلف القامہ لوگ نماز میں کھڑے ہوں تو کندھوں اور گھٹنوں کو کیسے ملا سکتے ہیں ۔
دوسری بات یہ کہ احادیث میں جس طرح اقامتِ صفوف اور اعتدالِ صفوف کا ذکر ہے اسی طرح استقامتِ بدن کا بھی حکم ہے ۔ اور استقامتِ بدن صرف اس وقت ہو سکتا ہے جب کہ الزاق کو مجازی معنی پر محمول کیا جائے ۔
تیسری بات یہ ہے کہ الزاق الکعب بالکعب کا حکم صرف حالتِ قیام کے لیے ہے یا رکوع اور سجدہ کے لیے بھی ہے ۔ اور رکوع اور سجدہ کے لیے بھی ہے تو غیر مقلدین حضرات اس پر کیوں عمل نہیں کرتے ۔ اس سے بھی یہ بات واضح ہوتی ہے کہ الزاق سے حقیقی معنی مراد نہیں ۔
قابلِ غور بات یہ ہے کہ غیر مقلدین حضرات جب اکیلے نماز پڑھتے ہیں تب بھی وہ پاؤں کو کشادہ رکھتے ہیں حالانکہ الزاق کا حکم جماعت کے ساتھ خاص ہے ۔
اور اگر منفرد کے لیے بھی ہو تو پھر وہ صحیح مرفوع غیر متعارض حدیث پیش کریں ۔
حاصل کلام احناف کے نزدیک حالت قیام میں پاؤں کے درمیان چار انگل کی مقدار کا فاصلہ ہونا چاہیے ۔
ملاحظہ ہو شامی میں ہے:
وينبغي أن يكون بينهما (أي القدمين) مقدار أربع أصابع اليد لأنه أقرب إلى الخشوع. (شامي: ۱/٤٤٤، بحث القيام، سعيد)
اور شوافع کے نزدیک ایک بالشت کی مقدار فاصلہ ہونا چاہیے ۔
"الشافعية قدروا التفريج بينهما بقدر شبر
فيكره أن يقرن بينهما أو يوسع أكثر من ذلك كما يكره تقديم إحداهما على الأخرى. (الفقه على مذاهب الأربعة: ۱/۲٥۹)
یعنی شوافع حضرات نے حالت قیام میں پاؤں کے درمیان فاصلہ کی مقدار ایک بالشت متعین کی ہے اور ان کے نزدیک پاؤں کو ملانا یا ایک بالشت سے زیادہ کشادہ رکھنا مکروہ ہے ۔
المالكية قالوا: تفريج القدمين مندوب لا سنة، وقالوا: المندوب هو أن يكون بحالة متوسطة، بحيث لا يضمهما ولا يوسعهما كثيراً، حتى يتفاحش عرفاً ووافقهما الحنابلة على هذا التقدير إلا أنه لا فرق عند الحنابلة بين تسميته مندوباً أوسنة. (الفقه على مذاهب الأربعة: ۱/۲٦۰)
یعنی مالکی حضرات کہتے ہیں کہ پاؤں کھلا رکھنا مستحب ہے نہ کہ سنت، اور مستحب یہ ہے کہ درمیانی حالت میں ہو نہ مکمل ملا دے اور نہ بہت زیادہ کشادہ اس طور پر کہ عرف میں برا محسوس ہو ۔ اور حنابلہ اس مسئلہ میں مالکیہ کے ساتھ ہیں ۔
اس سے معلوم ہوا کہ ائمہ اربعہ بھی الزاق کے مجازی معنی مراد لیتے ہیں نہ کہ حقیقی ۔
حضرت ابن عمر رضي الله عنه کا عمل بھی الزاق کے مجازی معنی پر دلالت کرتا ہے اس لیے کہ وہ حالت قیام میں پاؤں کو نہ زیادہ کشادہ رکھتے تھے نہ مکمل ملاتے تھے ۔ جیسا کہ حضرت شیخ زکریا رحمه الله نے تحریر فرمایا ہے:
"وقال المؤفق يكره أن يلصق إحدى قدميه بالأخرى في حال قيامه لما روى الأثرم عن عيينة بن عبد الرحمٰن قال: كنت مع أبي في المسجد فرأي رجلاً يصلي قد صف بين قدميه والزق أحدٰهما بالأخرى فقال أبي: لقد أدركت في هذا المسجد ثمانية عشر رجلاً من أصحاب النبي ﷺ ما رأيت أحداً منهم فعل هذا قط وكان ابن عمر رضي الله عنه لا يفرج بين قدميه ولا يمس أحدهما الأخرى ولكن بين ذلك لا يقارب ولا يباعد". (حاشية لامع الدراري: ۱/۲۸۰، سعيد)
حضرت مولانا ظفر احمد صاحب تھانوی رحمه الله تحریر فرماتے ہیں:
ولا يخفى أن في إلزاق الأقدام بالأقدام مع إلزاق المناكب بالمناكب والركب بالركب مشقة عظيمة لا سيما مع إبقاء ها كذلك إلى آخر الصلاة كما هو مشاهد، والحرج مدفوع بالنص، فالمراد منه جعل بعضها في مجازاة بعض
قال الحافظ في الفتح تحت قول البخاري: باب إلزاق المنكب بالمنكب، والقدم بالقدم في الصف: "المراد بذلك المبالغة في تعديل الصف وسد خلل". (۲/۱۷٦) وفي عون المعبود في شرح حديث ابن عمر رضي الله عنه ما نصه: قوله: "وحاذوا بالمناكب" أي اجعلوا بعضها حذاء بعض بحيث يكون منكب كل واحد من المصلين موازياً لمنكب الآخر ومسامتاً له فتكون المناكب والأعناق والأقدام على سمت واحد. (۱/۲٥۱) قال الشيخ: ولو حمل الإلزاق على الحقيقة، فالمراد منه إحداثه وقت الإقامة تسوية الصف، فإن إحداث الإلزاق بين تلك الأعضاء طريق تحصيل هذه التسوية ولا دلالة في الحديث على إبقاء ه في الصلاة بعد الشروع فيها
ومن ادعي ذلك فليأت بحجة على ه. (إعلاء السنن: ٤/۳٦۰، باب سنية تسوية الصف ورصها، إدارة القرآن)
حضرت انس
رضي الله عنه
کا قول بھی اس بات پر شاہد ہے کہ یہ فعل شروع میں تھا بعد میں ختم ہو گیا ۔
ملاحظہ ہو بخاری شریف میں ہے:
عن أنس رضي الله عنه عن النبي ﷺ قال: أقيموا صفوفكم، فإني أراكم من وراء ظهري وكان أحدنا يلزق منكبه بمنكب صاحبه وقدمه بقدمه. (رواه البخاري: ۱/۱۰۰)
حضرت مولانا ظفر احمد تھانوی رحمه الله حضرت انس
رضي الله عنه
کے قول
کا مطلب بیان فرماتے ہیں:
ملاحظہ ہو اعلاء السنن میں ہے:
"قلت: وقول أنس رضي الله عنه: "كان أحدنا" وقوله: "وقد رأيت أحدنا" يفيد أن الفعل المذكور كان في زمن النبي ﷺ، ولم يبق بعده كما صرح به قوله في رواية معمر: "ولو فعلت ذلك بأحدهم اليوم لنفر كأنه بغل شموس" فلوكان ذلك سنة مقصودة من سنن الصلاة لم يتركه الصحابة ثم ولم يتنفر منه أحد
فالصحيح ما قلنا: إن ذلك كان للمبالغة في تسوية الصف حين الإقامة لا بعدها في داخل الصلاة. (إعلاء السنن: ٤/۳٦۰/۱۳۲٥، باب سنية تسوية الصف ورصها، إدارة القرآن)
اس سے معلوم ہوا کہ ابتداء میں بعض صحابہ
ث
تسویۃ الصفوف کی نیت سے محاذات اور برابری کے لیے قدم ملاتے تھے کوئی سنتِ مقصودہ نہ تھی اور بعد میں یہ طریقہ ختم ہو گیا ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.