حضرت ولید بن عقبہ رضی اللہ عنہ صحابی تھے:

3 min readFatwa Vol 1 #42Urdu
Vol. 1كتاب الإيمان والعقائدباب (٤): صحابہ کرام رضوان اللّٰہ تعالی علیہم اجمعین کا بیان

Question

کیا حضرت ولید بن عقبہ صحابی تھے یا نہیں؟ یا صحابیت میں اختلاف ہے؟ اگر کوئی اختلاف ہو تو بھی بیان کریں ۔

Answer

حضرت ولید بن عقبہ بالاتفاق صحابی ہیں، فتح مکہ کے موقع پر مشرف باسلام ہوے۔ بڑے بہادر مجاہد، سخی اور شاعر تھے ۔
ولید بن عقبہ آنحضرت ﷺ کی پھوپھی کے نواسے اور حضرت عثمان رضي اللہ عنہ کے ماں شریک بھائی ہیں، حضرت عثمان رضي اللہ عنہ کے زیر تربیت رہ چکے ہیں، ڈھائی سال صحبتِ نبوی سے فیض یاب ہونے کا موقعہ ملا، رسول اللہ ﷺ اور ابوبکر رضي اللہ عنہ اور عمر رضي اللہ عنہ کے زمانہ میں اونچے عہدوں پر فائز تھے ۔ امام ذہبی فرماتے ہیں:

وكان مع فسقه ـ والله يسامحه ـ سخياً ممدحاً شاعراً شجاعاً قائماً بأمر الجهاد. (سير أعلام النبلاء: ۳/٤۱۵).

ہم کہتے ہیں فاسق وہ نہیں تھے ان تک غلط خبر پہنچانے والے فاسق تھے ۔
ابن اثیر فرماتے ہیں:
وأقام عليها خمس سنين هو من أحب الناس إلى أهلها. (الكامل: ۳/۸۳، ذكر عزل سعد عن الكوفة وولاية الوليد).

دوسری جگہ فرماتے ہیں:
وأنه كان محبوباً إلى الناس فبقي كذلك خمس سنين وليس لداره باب. (الكامل، ذكر عزل الوليد عن الكوفة وولاية سعيد).

ابن جریر طبری نے بھی یہی لکھا ہے ۔ اور جب ان کو معزول کیا گیا تو مؤرخین نے لکھا ہے:
ولقد تفجع عليه الأحرار والمماليك" (تاريخ الأمم والملوك: ۲/٦۱۲، ط: بيروت، ومختصر تاريخ مدينة دمشق: ۸/۸٦).
یعنی ان کی معزولی پر غلام اور آزاد سب مغموم تھے ولید کی جگہ حضرت عثمان نے سعید بن العاص کو کوفہ کا گورنر مقرر کیا لیکن لوگ یہ کہتے رہتے تھے:

يا ويلتا عزل الوليد وجاءنا مجوعاً سعيد
ينقص في الصاع ولا يزيد فجوع الإماء والعبيد
(تاريخ الأمم والملوك: ۲/٦۱۲، ط: بيروت، ومختصر تاريخ مدينة دمشق: ۸/۸٦).

یعنی سعید بن العاص آئے اور ہ میں بھوکا مارا ہائے افسوس حضرت ولید معزول ہوے۔
ہم مولانا بشیر احمد حصاری کی کتاب "عثمان ذو النورین"
(ص۲۷٤)
سے ان کے مناقب کا خلاصہ نقل کرتے ہیں:
"وہ حلیم الطبع وسیع الظرف بہادر سلیقے مند تھے، (استیعاب) وہ انتہائی سخی لوگوں میں محبوب پانچ سالہ گورنری میں ان کی محبوبیت میں فرق نہیں آیا، ایک مرتبہ شعبی ولید بن عقبہ کے پوتے کے پاس بیٹھے تھے تو محمد نے مسلمہ بن عبد الملک کی بہادری کا ذکر کیا جو بنو امیہ کے مشہور فاتح اور سپہ سالار تھے تو شعبی رحمہ اللہ نے کہا اگر آپ ولید بن عقبہ کی حکمرانی اور جہاد کا مشاہدہ کرتے تو کسی اور کا تذکرہ نہ کرتے یہاں تک کہ ان کو ان کے منصب سے برطرف کیا گیا ۔
درجِ ذیل کتب میں ان کا ترجمہ و تذکرہ ملاحظہ فرمائیں:

(الإصابة في تمييز الصحابة: ٦/٤۸۱/۹۱٦۷، ومعجم الصحابة لابن قانع البغدادي: ۱٤/ ترجمة: ۱۱۵٤، ومعرفة الصحابة لأبي نعيم الأصبهاني: ٤/۳٦۸/۲۹٦۱، وتهذيب الكمال للإمام المزي: ۳۱/۵۳/٦۷۲۳، ومسند احمد، والاستيعاب: ٤/۱۵۵۲، وتاريخ ابن عساكر: ۱۷/٤۳٤، وسير أعلام النبلاء: ۳/٤۱۲، وتاريخ مدينة دمشق، وتاريخ الأمم والملوك، وغيرها من كتب التاريخ والأخبار والأدب).

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.