خدمت گارانِ تبلیغ کا اجتماع گاہ میں جماعت کرنے کا حکم:
Question
آنے والے مسئلہ کے بارے میں شرعی حکم کیا ہے؟
اجتماع کی تیاری کے لیے تقریباً ٦، ۷ ہفتے قبل کام شروع ہو جا تا ہے بہت سے لوگ مختلف علاقوں سے آتے ہیں، عام طور پر ہم لوگ اجتماع گاہ میں نماز پڑھتے ہیں چاہے کوئی مسجد نزدیک ہو یا نہ ہو اور اس کی چند وجوہات ہیں جو حسبِ ذیل ہیں:
(۱) اس میں زیادہ سہولت ہے اور وقت کی زیادہ بچت بھی ہے ۔
(۲) ہر نماز کے بعد مذاکرہ، ترغیبی اور تعلیمی بیانات ہوتے ہیں، مشورہ بھی ہوتا ہے حسبِ ضرورت فجر کے بعد ختم یس ٓ، دعاء، ذکر اور دوسرے معمولات ہوتے ہیں، اکثر نمازوں کے بعد ضروری تقاضے مجمع کے سامنے پیش کیے جاتے ہیں ۔
(۳) شام کے وقت بکثرت لوگ آتے ہیں حتی کہ بعض مرتبہ ٤۰۰ سے ۷۰۰ تک ہو جاتے ہیں لہذا نماز، کھانا، پینا اور رہنا ہر لحاظ سے انتظام کرنا پڑتا ہے ۔
(٤) سامان کی حفاظت بھی مطلوب ہے اسی وجہ سے جمعہ بھی اجتماع گاہ میں پڑھتے ہیں تاکہ ہر وقت ایک جماعت حفاظت کی خاطر مقرر ہو ۔
قریب زمانے میں ہمیں یہ بتایا گیا کہ جمعہ کی نماز اجتماع گاہ میں مسنون نہیں ہے جب کہ مسجد قریب ہوا اور مسجد میں وسعت بھی ہو، نیز حفاظت کرنے والوں کے علاوہ تمام کو پانچوں نمازوں کے لیے مسجد جانا ضروری ہے، کیا صحیح ہے؟ بینوا توجروا ۔
Answer
بصورتِ مسئولہ بہتر اور فضیلت کی بات تو یہ ہے کہ نماز باجماعت مسجد میں پڑھی جائے لیکن اگر کسی عذر کی وجہ سے اپنے طور پر جماعت کر لی جائے تو جماعت کی فضیلت حاصل ہو جائے گی ۔
چونکہ تبلیغی حضرات اجتماع گاہ میں کام کاج وغیرہ میں مصروف رہتے ہیں اور وہاں بکثرت لوگ آتے ہیں سب کا جانا مسجد میں مشکل ہو جاتا ہے نیز بعض کو سامان کی حفاظت کے لیے بھی رہنا ضروری ہوتا ہے، اس لیے اپنی جماعت کر سکتے ہیں ۔
علامہ ابن عابدین شامی رحمه الله تحریر فرماتے ہیں:
واختلف العلماء في إقامتها في البيت والأصح أنها كإقامتها في المسجد إلا في الأفضلية. (شامي: ۱/٥٥٤، سعيد)
یعنی علماء نے گھر میں جماعت کرنے کے بارے میں اختلاف کیا ہے اصح قول یہ ہے کہ مسجد میں جماعت کرنے کی طرح ہے ہاں افضل و بہتر مسجد ہے ۔
در مختار میں مرقوم ہے:
والجماعة سنة مؤكدة للرجال
وأقلها اثنان مع الإمام ولو مميزاً أو ملكاً أو جنياً في المسجد أو غيره.
طحطاوی علی الدر میں ہے:
فلو صلى في بيته بزوجته أو جاريته أو ولده فقد أتي بفضيلة الجماعة. (الطحطاوي على الدر المختار: ۱/۲٤۰)
یعنی جماعت میں کم سے کم دو آدمی امام کے ساتھ ہوں اگر چہ ہوشیار بچہ یا فرشتہ یا جن ہو مسجد میں ہو یا مسجد سے باہر ہو پس اگر کوئی بیوی بچوں یا باندی کے ساتھ جماعت کر لے تو اس نے جماعت کی فضیلت حاصل کی ۔
علامہ شامی نے منحۃ الخالق میں تحریر فرمایا ہے:
اختلف العلماء في إقامتها في البيت والأصح أنها كإقامتها في المسجد إلا في الأفضلية وهو ظاهر مذهب الشافعي رحمه الله قلت: ويظهر أن ما سيأتي عن الحلواني مبني على ما مر منه من وجوب الإجابة بالقدم وتقدم أن الظاهر خلافه فلذا صححوا خلاف ما قاله هنا. (منحة الخالق حاشية البحر الرائق: ۱/۳٤٥، كوئتة)
یعنی علماء نے جماعت گھر پر کرنے میں اختلاف کیا ہے اور صحیح یہ ہے کہ مسجد کی طرح ہے مگر فضیلت میں اور یہی امام شافعی رحمه الله کا مذہب بھی ہے اور شمس الائمۃ حلوانی رحمه الله نے مسجد کے باہر جماعت کو بدعت کہا ہے یہ ان کے اس مذہب پر مبنی ہے کہ چلنا مسجد تک واجب ہے اور یہ خلافِ ظاہر ہے ۔
بہرحال تبلیغی حضرات کو کوشش کرنا چاہیے کہ بعض ساتھی مسجد میں پہونچیں لیکن اجتماع گاہ میں بھی جماعت اور جمعہ جائز ہے، نیز معلوم ہوا کہ مسجد ایک کیلو میٹر دور بھی ہے، فقہا ء لکھتے ہیں کہ ایک میل کی دوری پر پانی کے لیے جانا بھی ساقط ہو جا تا ہے اور تیمم کر سکتا ہے لہذا اس صورت میں مسجد میں جانا بھی زیادہ ضروری نہیں ہے ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.