مسجد چھوڑ کر میدان میں جماعت کا حکم:
Question
بعض حضرات تبلیغی جماعت پر اعتراض کرتے ہیں کہ یہ لوگ مسجد چھوڑ کر باہر اجتماع گاہ میں جماعت کرتے ہیں معترضین یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ مسجد میں جماعت سنتِ مؤکدہ ہے باہر کی جماعت میں کوئی فضیلت نہیں ہے کیا ان کی یہ بات درست ہے یا نہیں؟ اور حضرت عبد اللہ بن مسعود
رضي الله عنه
کی ایک روایت پیش کرتے ہیں جس میں مسجد کی جماعت کو سنن ہدیٰ فرمایا گیا ہے ۔
Answer
اگر مسجد سے باہر جماعت کر لی جائے تو جماعت کا ثواب مل جاتا ہے ہاں مسجد میں جماعت کا ثواب اس سے زیادہ ہے ۔
فتاوی سراجیہ میں مرقوم ہے:
قوم تخلفوا عن المسجد وصلوا في البيت بجماعة فإنهم ينالون فضل الجماعة لكن دون ما ينالون في المسجد. (الفتاوى السراجية:، قبيل باب الإمامة، ص ۷۸).
طحطاوی علی مراقی الفلاح میں ہے:
حتى لو صلى في بيته بزوجته أو جاريته أو ولده فقد أتي بفضيلة الجماعة، كذا في الشرح، لكن فضيلة المسجد أتم. (حاشية الطحطاوي على مراقي الفلاح: ص ۲۸۷، باب الإمامة).
فتاوی قاضيخان میں مذکور ہے:
والصحيح أن للجماعة في البيت فضيلة وللجماعة في المسجد فضيلة أخري فإذا صلى في البيت بجماعة فقد حاز فضيلة أدائها بالجماعة وترك الفضيلة الأخرى.
یہ بات انہوں نے تراویح کے بارے میں لکھی ہے پھر بعد میں فرماتے ہیں:
وكذلك في المكتوبات. (فتاوى قاضيخان على هامش الهندية: ۱/۲۳۳، باب التراويح).
شرح منیۃ المصلی میں ہے:
لو صلى جماعة في البيت على هيئة الجماعة في المسجد نالوا فضيلة الجماعة وهي المضاعفة بسبع وعشرين درجة لكن لم ينالوا فضيلة الجماعة الكائنة في المسجد فالحاصل أن كل ما شرع فيه الجماعة فالمسجد فيه أفضل لما اشتمل عليه من شرف المكان وإظهار الشعائر وتكثير سواد المسلمين. (
یہ کلام انہوں نے تراویح کے بارے میں فرمایا ہے لیکن اس سے قبل لکھا ہے)
وهكذا في المكتوبات أي الفرائض. (شرح منية المصلي، ص ٤۰۲، أبواب التراويح، سهيل).
مذکورہ بالا عباراتِ فقہیہ سے بخوبی واضح ہوا کہ تبلیغی حضرات کو اجتماع گاہ میں جماعت کا ثواب ملتا ہے اور سنت ادا ہو جاتی ہے ہاں مسجد بہتر ہے لیکن بعض مصالح کی وجہ سے سب مسجد نہیں جا سکتے، اور اجتماع والے لوگ مسجدوں میں سما بھی نہیں سکتے ۔ باقی یہ بات کہ مسجد کے کیا فضائل ہیں تو وہ آپ مساجد کے فضائل میں بآسانی دیکھ سکتے ہیں، مثلاً سات آدمی عرش کے سایہ میں ہوں گے، ان میں وہ لوگ بھی ہیں جن کا دل مسجد کے ساتھ اٹکا ہوا ہو جب نکلتے ہیں تو واپس آنے کا سوچتے ہیں، اور ان دو صحابہ کا واقعہ تو مشہور ہے کہ مسجد میں نماز پڑھنے کے بعد سخت اندھیرے میں ان کی لاٹھیوں سے روشنی نکلتی تھی، اور جو صبح و شام مسجد میں جاتا ہو اللہ تعالی اس کے لیے جنت میں مہمانی کا انتظام فرمائیں گے، اور جب صرف نماز کی نیت سے مسجد کی طرف نکلتا ہے تو اس کا درجہ بلند ہوتا ہے اور گناہ مٹایا جاتا ہے پھر جب نماز پڑھ کر فارغ ہو جاتا ہے تو فرشتے اس کے لیے رحمت کی دعا مانگتے ہیں، یہ سب فضائل کتبِ احادیث میں مذکور و مشہور ہیں ۔
حضرت عبد اللہ بن مسعود
رضي الله عنه
کی روایت کا بھی یہی مطلب ہے کہ جماعت سنت ہے اس کو چھوڑنا نفاق کی علامت ہے، چنانچہ وہ فرماتے ہیں: "
من سره أن يلقي الله غداً مسلماً فليحافظ على هؤلاء الصلوات الخمس حيث ينادي بهن فإن الله شرع لنبيكم ﷺ سنن الهدي وأنهن "أي الصلوات الخمس بالجماعة" (فتح الملهم) من سنن الهدي "أي من طريق الهدي" (فتح الملهم) ولو أنكم صليتم في بيوتكم كما يصلي هذا المتخلف في بيته لتركتم سنة نبيكم ولو تركتم سنة نبيكم لضللتم. (رواه مسلم: ۱/۲۳۲).
اس روایت میں
"كما يصلي هذا المتخلف"
سے پتا چلتا ہے کہ ابن مسعود
رضي الله عنه
منفرد متخلف کو قابل وعید سمجھتے ہیں جس کے مقابلہ میں جماعت سے نماز پڑھنا قابل مدح و ستائش ہے، ہاں دوسری روایت جو مسلم شریف میں مذکور ہے اس میں یہ الفاظ مذکور ہیں:
لقد رأيتنا وما يتخلف عن الصلاة إلا منافق قد علم نفاقه أو مريض ان كان المريض ليمشي بين رجلين حتى يأتي الصلاة وقال: إن رسول الله ﷺ علمنا سنن الهدي وإن من سنن الهدي الصلاة في المسجد الذي يؤذن فيه. (رواه مسلم: ۱/۲۳۲).
اس روایت کی ابتداء میں بھی مختلف منافق کا ذکر ہے جو جماعت کو چھوڑتا ہے تو اس کے مقابلہ میں نماز باجماعت ہی قابل مدح و لائق ثواب ہے، ہاں چونکہ جماعت شہروں اور آبادی میں عموماً مسجد میں ہوتی ہے اس لیے بنا بر غالب مسجد کا ذکر فرمایا، لہذا بظاہر یہ قید احترازی نہیں دوسری روایت میں رسول اللہ ﷺ نے جماعت کی نماز کو منفرد کی نماز سے ۲۷ درجہ فضیلت والی بتلایا ہے، اس میں مسجد کا ذکر نہیں ہے، نیز حدیث میں ہے: "
الصلاة مع الإمام أفضل من خمس وعشرين صلاة يصليها وحده. (مسلم ۱/۲۳۱).
یہاں منفرد کے مقابلہ میں جماعت کی فضیلت وارد ہے ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.