امام کے سلام پھیرتے وقت مسبوق نے تحریمہ کہی تو اقتداء کا حکم:
Question
ایک شخص اما م کے سلا م پھیرتے وقت شاملِ نماز ہوا یا اس سے پہلے لیکن قعدہ میں بیٹھنے سے قبل امام نے سلام پھیر دیا تو اس شخص کی اقتداء صحیح ہوئی یا نہیں؟ اور صحیح نہ ہو تو نیت توڑے گا یا سابقہ نماز جاری رکھے گا؟
Answer
مسبوق مقتدی نے امام کے سلام سے پہلے تحریمہ کہی تو اقتدا صحیح ہو گی اور اگر امام نے ایک جانب سلام پھیر دیا اس کے بعد تحریمہ کہی تو اقتدا صحیح نہیں ہوئی، اب یہ شخص نئی تحریمہ کے ساتھ علیحدہ نماز پڑھے ۔ ملاحظہ ہو فتاوی شامی میں ہے:
(قوله وتنقضي قدوة بالأول) أي بالسلام الأول، قال في التجنيس: الإمام إذا فرغ من صلاته فلما قال: السلام جاء رجل واقتدي به قبل أن يقول عليكم لا يصير داخلاً في صلاته. (شامي: ۱/٤٦۸ واجبات الصلاة، سعيد. وكذا في حاشية الطحطاوي على مراقي الفلاح: ۲٥۱، فصل في بيان واجبات الصلاة، قديمي)
در مختار میں ہے:
وإذا فسد الاقتداء بأي وجه كان لا يمنع شروعه في صلاة نفسه لأنه قصد المشاركة وهي غير صلاة الانفراد على الصحيح، محيط، وادعي في البحر أنه المذهب. (الدر المختار: ۱/ ٥۸۲، باب الإمامة، سعيد)
بدائع الصنائع میں ہے:
الاقتداء عبارة عن المتابعة والشركة فيقتضي المساواة. (بدائع الصنائع: ۱/۱۲۸، سعيد)
کفایت المفتی میں ہے:
جب مسبوق مقتدی نے امام کے سلام سے پہلے امام کی نماز میں شریک ہونے کی نیت سے تکبیر تحریمہ ادا کر لی تو وہ امام کی نماز میں داخل ہو گیا صحتِ اقتداء کے لیے تحریمہ به نیت اقتدا کہنا کافی ہے اقتدا کی صحت صرف نیت اقتداء کے ساتھ تکبیر تحریمہ کہنے سے ہو جاتی ہے، پس اگر مقتدی کے بیٹھنے سے پہلے امام نے سلام پھیر دیا تو مقتدی اسی تحریمہ سے مسبوق کی طرح نماز ادا کرے ۔ (کفایت المفتی:
۳/٤۳۸
، کتاب الصلاۃ، دار الاشاعت)
فتاوی محمودیہ میں ہے:
اقتدا بعد لفظ السلام: یہ اقتدا صحیح نہیں ہوئی ۔ (فتاوی محمودیہ: ٦/
٥٤۷
، باب المسبوق و اللاحق، جامعہ فاروقیہ)
فتاوی رحیمیہ میں ہے:
امام کے سلام پھیرنے سے پہلے تکبیر تحریمہ کہہ دی ہے تو جماعت میں شامل ہونے والا شمار ہوگا ۔ تکبیر تحریمہ دہرانے کی ضرورت نہیں ہے ۔
اور امام نے لفظ السلام کہا علیکم نہیں بولا اور کسی نے اقتداء کی یہ اقتداء معتبر نہیں ہے دوبارہ تکبیر تحریمہ کہہ کر نماز شروع کرے ۔ بحوالہ شامی ۔ (فتاوی رحیمیہ:
۱/۲۰٥
مزید وضاحت:
٥/۱۳٥)
نیز ملاحظہ ہو: احسن الفتاوی:
۳/۲۷۰
، باب الامامۃ و الجماعۃ ۔ و فتاوی دار العلوم دیوبند:
۳/٦۹
، باب الجماعۃ، مدلل و مکمل، دار الاشاعت ۔ و امداد الاحکام :
۱/٥٤۹
، فصل فی المسبوق و اللاحق، مکتبہ دار العلوم کراچی ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.