مسبوق کا امام کے ساتھ سجدۂ سہو میں عمداً سلام پھیرنے سے نماز کا حکم:

1 min readFatwa Vol 2 #205Urdu
Vol. 2كتاب الصلاةباب (٦): امامت کا بیان

Question

اگر مسبوق امام کے ساتھ سجدۂ سہو میں عمداً سلام پھیر دے تو نماز کا کیا حکم ہے؟

Answer

مسبوق کی نماز فاسد ہو جائے گی اگر عمداً سلام پھیر دیا، ورنہ فاسد نہیں ہو گی ۔
ملاحظہ ہو شامی میں ہے:

(قوله والمسبوق يسجد مع إمامه) قيد في السجود لأنه لا يتابعه في السلام بل يسجد معه ويتشهد فإذا سلم الإمام قام إلى القضاء فإن سلم فإن كان عامداً فسدت وإلا لا. (شامي: ۲/۸۲، باب سجود السهو، سعيد)

فتاوی ہندیہ میں ہے:

ومنها أن يتابع الإمام في السهو ولا يتابعه في التسليم والتكبير والتلبية فإن تابعه في التسليم والتكبير فسدت. (الفتاوى الهندية: ۱/۹۲)

البحر الرائق میں ہے:

ثم المسبوق إنما يتابع الإمام في السجود لا في السلام فيسجد معه

فإن سلم فإن كان عامداً فسدت وإلا فلا. (البحر الرائق: ۲/۱۰۰، باب سجود السهو، الماجدية)

فتاوی محمودیہ میں ہے:
مسبوق کا امام کے ساتھ سجدہ سہو تو کرنا ضروری ہے لیکن سجدہ سہو کے لیے سلام میں امام کا اتباع ناجائز ہوتا ہے، اگر قصد اً امام کے ساتھ سلام پھیرے گا تو مسبوق کی نماز فاسد ہو جائے گی اور سہوا پھیرنے سے فاسد نہ ہو گی ۔ (فتاوی محمودیہ: ٦/
٥٥
٦، باب المسبوق و اللاحق، جامعہ فاروقیہ) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.