سیل فون کی گھنٹی بجنے پر عملِ قلیل سے بند کرنے سے نماز کا حکم:
Question
اگر نماز میں سیل فون کی گھنٹی بجنے لگے تو اس کو عملِ قلیل سے بند کر سکتے ہیں یا نہیں؟
Answer
نماز کے دوران گھنٹی بجنے پر عملِ قلیل سے بند کرنا جائز ہے یعنی ایک ہاتھ جیب میں ڈال کر بند کر دے نماز فاسد نہیں ہو گی البتہ نماز مکروہ ہو گی ۔
مصلی کے لیے ضروری ہے کہ نماز شروع کرنے سے پہلے سائلنٹ (silent) پر کر دے یا بند کر دے، اور اس کی طرف خاص توجہ رکھے لیکن کسی وجہ سے بھول گیا اور نماز میں بجنے لگے تو فوراً عملِ قلیل سے بند کر دینا چاہیے کیوں کہ گھنٹی کا مسلسل بجنا دیگر مصلیوں کی سخت ناگواری کا سبب ہے اور خود اپنی نماز کے لیے بھی باعثِ خلل ہے ۔
حدیث شریف میں آتا ہے کہ نبی کریم ﷺ ایک مرتبہ نماز پڑھا رہے تھے کہ ایک بچہ کے رونے کی آواز آئی تو آپ ﷺ نے نماز مختصر فرما دی تاکہ بچہ کی ماں پریشان نہ ہو جائے معلوم ہوا کہ جس طرح بچہ روتا ہے اور چپ کرنا مشکل ہوتا ہے تو آپ ﷺ نے خیال فرمایا، اسی طرح سیل فون جب رونا شروع کرے تو اس کو بند کرنا بدرجۂ اولیٰ درست ہوگا کیونکہ سیل فون بھی بچہ کی طرح جلدی خاموش ہونے والا نہیں ہے اور اس میں مصلیوں کی تشویش کا سبب ہے ۔ ملاحظہ ہو بخاری شریف میں ہے:
عن أبي قتادة رضي الله عنه عن النبي ﷺ قال: إني لا قوم في الصلاة أريد أن أطول فيها فأسمع بكاء الصبي فأتجوز في صلاتي كراهة أن أشق على أمه. وفي رواية: قال أنس رضي الله عنه: فيخفف مخافة أن تفتن أمه. وفي رواية: قال: فأتجوز في صلاتي مما أعلم من شدة وجد أمه من بكائه. (صحيح البخاري: ۱/۹۸، باب أخف الصلاة عند بكاء الصبي)
ملاحظہ ہو امداد الفتاح میں ہے:
والثاني أن ما يقام باليدين عادة كثير
ويقام بيد واحدة قليل
وفي مكروهات الصلوة
ويكره العمل القليل. (إمداد الفتاح: ۳٥۹. ۳۸۳، بيروت)
فتاوی ہندیہ میں ہے:
العمل الكثير يفسد الصلاة والقليل لا، كذا في محيط السرخسي وكل ما يقام بيد واحد فهو يسير ما لم يتكرر كذا في فتاوى قاضيخان وأنه لو نظر إليه ناظر من بعيد إن كانت لا يشك أنه في غير الصلاة فهو كثير مفسد وإن شك فليس بمفسد وهذا هو الأصح كما في التبيين. وهو أحسن كذا في محيط السرخسي وهو اختيار العامة كذا في فتاوى قاضيخان والخلاصة وإن تقلد سيفاً أو نزعه لا تفسد صلاته. (الفتاوى الهندية: ۱/۱۰۱، الباب السابع فيما يفسد الصلاة وما يكره فيها)
ندائے شاہی میں ہے:
نماز میں موبائل بند کرنا: ضروری ہے کہ نماز شروع ہونے سے پہلے موبائل کی گھنٹی بند کر دی جائے اور اس کا خاص اہتمام رکھنے کی عادت ڈالی جائے لیکن اگر اتفاق سے گھنٹی بند کرنا بھول گیا اور دورانِ نماز گھنٹی بجنے لگی تو عملِ قلیل کے ذریعہ (ایک ہاتھ سے جیب میں رکھے) موبائل بند کر دینا چاہیے ۔ (ماہنامہ: ص
۱
٤ ندائے شاہی مراد آباد، دسمبر
۲۰۰
٦) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.