تصویر والے س کے جیب میں رکھ کر نماز پڑھنے کا حکم:

2 min readFatwa Vol 2 #236Urdu
Vol. 2كتاب الصلاةباب (۷): فیما یفسد الصلاۃ و ما یکرہ فیھا

Question

ابھری ہوئی تصویر والے دھات کے سکے جیب میں رکھنے سے نماز ہو جاتی ہے یا نہیں؟

Answer

تصویر والے س کے جیب میں ہونے سے نماز میں کچھ نقصان نہیں آتا البتہ احتیاط سے رکھنے چاہیے تاکہ سجدہ کی جگہ نہ گرے ۔
ملاحظہ ہو امداد الفتاح میں ہے:

إلا أن تكون الصورة صغيرة بحيث لا تبدو للقائم إذا نظرها إلا بتأمل كالتي على الدينار لأنها لا تعبد عادة، وقال في التجنيس والمزيد: إذا صلى ومعه دراهم عليها تماثيل ملك لا بأس به؛ لأن هذا يصغر عن البصر انتهى. (إمداد الفتاح: ۳۹۲، فصل في المكروهات، بيروت)

شامی میں ہے:

(قوله لا المستتر بكيس أو صرة) بأن صلي ومعه صرة أو كيس فيه دنانير أو دراهم فيها صور صغار فلا تكره لا ستتارها بحر، ومقتضاه أنها لو كانت مكشوفة تكره الصلاة مع أن الصغيرة لا تكره الصلاة معها. (قوله لا تتبين) هذا ضبط مما في القهستاني حيث قال بحيث لا تبدو للناظر إلا بتبصر بليغ كما في الكرماني، أو لا تبدو له من بعيد كما في المحيط ثم قال: لكن في الخزانة: إن كانت الصورة مقدار طير يكره، وإن كانت أصغر فلا. (شامي: ۱/٦٤۸، مكروهات الصلاة، سعيد)
تبيين الحقائق
میں ہے:

قال رحمه الله (إلا أن تكون صغيرة) لا نها لا تعبد إذا كانت صغيرة بحيث لا تبدو للناظر والكراهة باعتبار العبادة فإذا لم يعبد مثلها لا يكره. (تبيين الحقائق: ۱/۱٦٦، باب ما يفسد الصلاة وما يكره فيها، إمدادية)

فتاوی محمودیہ میں ہے:
پیسے روپیے پر اولاً تو تصویر چھوٹی ہے جس کا کوئی اعزاز نہیں ہوتا ہے دوسرے جیب یا کسی اور کپڑے میں نماز کے وقت مخفی رہتی ہے سامنے نہیں ہوتی ۔ (فتاوی محمودیہ: ٦/
٦۷٤
، باب ما یفسد الصلاۃ و ما یکرہ فیھا، جامعہ فاروقیہ)
آپ کے مسائل اور ان کا حل میں ہے: تصویر والی نوٹوں کے جیب میں ہونے کی صورت میں نماز صحیح ہے ۔ (آپ کے مسائل اور ان کا حل:
۲/۳۱۲
) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.