غیر عربی میں دعا پڑھنے سے نماز کا حکم:
Question
اگر کسی شخص نے اردو میں قعدہ میں یہ دعا پڑھی: یا اللہ تمام مسلمانوں کی مغفرت فرما تو نماز کا کیا حکم ہے؟
Answer
نماز میں غیر عربی میں دعا کرنا راجح قول کے مطابق مکروہ تحریمی ہے لیکن ایک قول کے کراہتِ تنزیہی کا بھی ہے، لہذا اگر اس نماز کا اعادہ نہیں کیا تو بعض حضرات کے قول کے مطابق کوئی حرج نہیں ہے ۔ ملاحظہ ہو فتاوی شامی میں ہے:
لكن المنقول عندنا الكراهة، فقد قال في غرر الأحكام شرح درر البحار في هذا المحل: وكره الدعاء بالعجمية، لأن عمر رضي الله عنه "نهى عن رطانة الأعاجم"
ولا يبعد أن يكون الدعاء بالفارسية مكروهاً تحريماً في الصلاة. (شامي: ۱/٥۲۱، الدعاء بغير العربية، سعيد)
فتاوی قاضيخان میں ہے:
وعلى هذا الخلاف جميع أذكار الصلاة من التشهد والقنوت والدعاء وتسبيحات الركوع والسجود فإن قال بالفارسية
"یا رب بیامرزمرا" (اے اللہ مجھے بخش دے)
إذا كان يحسن العربية تفسد صلاته وكذا كل ما ليس بعربية كالتركية والزنجية والحبشية والنبطية. (فتاوى قاضيخان على هامش الهندية: ۱/۸٦، باب افتتاح الصلاة، بلوچستان)
احسن الفتاوی میں ہے:
نماز میں غیر عربی میں دعا کے بارے میں تین قول ہیں: حرام، مکروہ تحریمی، مکروہ تنزیہی، کراہتِ تحریمیہ کا قول ارجح و اوسط ہے لہذا نماز کا اعادہ واجب ہے ۔ (احسن الفتاوی:
۳/٤۳۲
، باب مفسدات الصلوۃ و مکروہات ۔ و فتاوی محمودیہ: ٦/
٦۲۷
، جامعہ فاروقیہ ۔ و فتاوی حقانیہ:
۳/۲۰۹
، باب مکروہات الصلوۃ) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.