وتر کے بعد دو رکعت نفل پڑھنے کا حکم:

5 min readFatwa Vol 2 #274Urdu
Vol. 2كتاب الصلاةباب (۹): سنن اور نوافل کا بیان

Question

وتر کے بعد دو رکعت نفل پڑھنا ثابت ہے یا نہیں؟

Answer

وتر کے بعد دو رکعت نفل پڑھنا احادیث سے ثابت ہے نیز اکابرین کے مختلف فتاوی میں بھی مذکور ہے، البتہ کتبِ فقہیہ میں اس کا تذکرہ نہیں ملتا، لیکن علامہ شامی رحمه الله نے امام ابو حنیفہ رحمه الله کا یہ فرمان نقل کیا ہے "
إذا صح الحديث فهو مذهبي"
لہذا اس کی بنا پر وتر کے بعد دو رکعت پڑھنے سے دائرۂ مذہب سے خارج نہیں ہوگا بلکہ عینِ مذہب پر عمل ہوگا چونکہ صحیح احادیث موجود ہیں ۔ حضرت گنگوہی رحمه الله نے بھی (فتاوی رشیدیہ ص: ۳۸٤) پر تحریر فرمایا ہے ۔ ملاحظہ فرمائیں مسلم شریف میں ہے:

عن أبي سلمة قال: سألت عائشة رضي الله تعالى عنها عن صلاة رسول الله ﷺ فقالت: كان يصلي ثلاث عشرة ركعة ثم يصلي ثماني عشرة ركعة ثم يوتر ثم يصلي ركعتين وهو جالس فإذا أراد أن يركع قام فركع ثم يصلي ركعتين بين النداء والإقامة من صلاة الصبح. (رواه مسلم: ۱/۲٥٤)

بیہقی سنن کبری میں ہے:

عن أنس بن مالك رضي الله عنه أن النبي ﷺ كان يصلي بعد الوتر الركعتين وهو جالس. (السنن الكبرى للبيهقي: ۳/۳۳، دار المعرفة)

مزید ملاحظہ فرمائیں: (
بخاري شريف: ۱/۱٥٥. باب المداومة على ركعتي الفجر. مسلم شريف: ۱/۲٥٦. وأبو داود شريف: ص ۱۹۰. جامع ترمذي شريف: ۱/۱۰۸. وابن ماجه شريف: ص ۸۳. ومسند امام أحمد بن حنبل: ٦/۲۹۸/۲٦٥۹٥. ودارقطني: ۲/۳۷. وموطأ امام محمد: ص ۱٤۸).

معارف السنن میں ہے:

والركعتان بعد الوتر لم يرو عن أبي حنيفة رحمه الله والشافعي رحمه الله شيء. وأنكرهما مالك رحمه الله، وقال أحمد رحمه الله: لا أفعلهما ولا أمنع من فعلهما، حكاه النووي رحمه الله في "شرح مسلم" و"شرح المهذب" وكذا في "شرح المواهب" وأباحهما الأوزاعي رحمه الله

وحكي عن أبي الحسن الآمدي رحمه الله: أنها من السنن الراتبة، وذكر أنه أوصى بهما خالد بن معدان، وكثير بن مرة الحضرمي، وفعلهما حسن. (معارف السنن: ٤/۲۰٥، بيان المذاهب في الركعتين بعد الوتر جالساً، سعيد)

شامی میں ہے:

وفي حاشية البحر للخير الرملي: رأيت في كتب الشافعية أنه قد سن الأذان لغير الصلاة

وعند تغول الغيلان: أي عند تمرد الجن لخبر صحيح فيه. أقول: ولا بعد فيه عندنا، أي لأن ما صح فيه الخبر بلا معارض فهو مذهب للمجتهد وإن لم ينص على ه، لما قدمناه في الخطبة عن الحافظ ابن عبد البر رحمه الله والعارف الشعراني رحمه الله عن كل من الأئمة أنه قال: إذا صح الحديث فهو مذهبي. (الشامي: ۱/۳۸٥، مطلب في المواضع التي يندب لها الأذان في غير الصلاة، سعيد. شرح عقود رسم المفتي: ص ۱۷)

فتاوی دار العلوم میں ہے:
وتر کے بعد نوافل پڑھنا جائز ہے، چنانچہ بعض صحابہ رضی اللہ عنہم جو عشاء کے بعد وتر پڑھ لیتے تھے وہ آخر رات میں تہجد پڑھتے تھے تو معلوم ہوا کہ وتر کے بعد نوافل ممنوع نہیں ہیں نیز آنحضرت ﷺ نے بعد وتر کے دو رکعت نفل پڑھی ہیں ۔ (فتاوی دار العلوم دیوبند ٤/۲۲۰، مسائل سنن غیر مؤکدہ، مدلل و مکمل، دار الاشاعت)
مزید ملاحظہ ہو: آپ کے مسائل اور ان کا حل: ۲/۳۳۵ ۔ و کفایت المفتی: ۳/۳۱۸ ۔ و فتاوی محمودیہ: ۷/۲۲٤ ۔ و فتاوی رحیمیہ: ۳/۲٤ ۔
اشکال اور جواب:
اشکال: "
اجعلوا آخر صلاتكم بالليل وتراً"
کی حدیث کے ساتھ رکعتین بعد الوتر والی روایت کا تعارض ہے اس کا کیا جواب ہے؟
الجواب: علماء نے اس کے متعدد جوابات دئیے ہیں: (۱) "
اجعلوا آخر صلاتكم بالليل وتراً"
کا حکم استحباب پر مبنی ہے اور رکعتان بعد الوتر جواز کے لیے ہے ۔
(۲) یہ دو رکعتیں وتر کی تکمیل کے لیے ہیں ۔
(۳) رات کی آخری نماز وتر کو رکھو مغرب اور عشاء پہلے ہو اور وتر بعد میں ۔
(٤) رات کو آخری نماز جو عشاء مع الوتر ہیں اس کا مجموعہ وتر یعنی طاق بناؤ مطلب یہ کہ وتر کو مت چھوڑ یہ بھی لازم ہے، اور وتراً نکرہ سے اس توجیہ کی تائید ہوئی کیوں کہ صلاۃ وتر کے لیے معرفہ الوتر کا لفظ احادیث میں مستعمل ہے ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.