سننِ قبلیہ اذان سے پہلے پڑھنے کا حکم:

2 min readFatwa Vol 2 #287Urdu
Vol. 2كتاب الصلاةباب (۹): سنن اور نوافل کا بیان

Question

اگر کوئی شخص ظہر کی سنت وقت داخل ہونے کے بعد اذان سے پہلے پڑھ لے تو سنت ادا ہو گی یا نہیں؟ نیز استحباب کے خلاف ہے یا نہیں؟

Answer

صورتِ مسئولہ میں وقت داخل ہونے کے بعد اذان سے پہلے سنت ادا کر لے تو ادا ہو جائے گی، البتہ اذان کے بعد فرض سے پہلے ادا کرنا افضل اور بہتر ہے وجہ یہ ہے کہ سننِ قبلیہ فرائض کا مقدمہ ہیں تاکہ فرائض خشوع اور توجہ کے ساتھ کامل طور پر ادا ہو س کے اسی وجہ سے فرائض اور سنن کے درمیان فقہاء کلامِ دنیوی سے منع کرتے ہیں لہذا اذان کے بعد ادا کرنا چاہیے تاہم اذان سے پہلے بھی درست ہے ۔
ملاحظہ ہو ترمذی شریف میں ہے:

عن عبد الله بن السائب رضي الله عنه أن رسول الله ﷺ كان يصلي أربعاً بعد أن تزول الشمس قبل الظهر فقال: إنها ساعة تفتح فيها أبو ب السماء وأحب أن يصعد لي فيها عمل صالح. (رواه الترمذي: ۱/۱۰۸. وكذا في الشامي: ۲/۱۳. وكذا في الطحطاوي على مراقي الفلاح: ۳۸۸، قديمي)

بدائع الصنائع میں ہے:

وأما الصلاة المسنونة فوقت جملتها وقت المكتوبة لا نها توابع للمكتوبات فكانت تابعة لها في الوقت. (بدائع الصنائع: ۱/۲۸٤، سعيد)

شامی میں ہے:

ثم اختلف في الأفضل بعد ركعتي الفجر قال الحلواني رحمه الله: ركعتا المغرب ثم التي بعد الظهر بخلاف التي قبلها لا نها قيل: هي للفضل بين الأذان والإقامة. (شامي: ۲/۱٤، سعيد. وكذا في الطحطاوي على مراقي الفلاح: ۳۸۸، قديمي).

واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.