اذان میں "أشهد أن محمدا رسول الله" پڑھ کر یا سن کر درود پڑھنے کا حکم:

2 min readFatwa Vol 2 #16Urdu
Vol. 2كتاب الصلاةباب (۲): اذان اور اقامت کا بیان

Question

اگر کوئی شخص اذان میں
"أشهد أن محمدا رسول الله"
پڑھ کر یا سن کر درود پڑھے تو کیا حکم ہے؟

Answer

بوقتِ اذان
"أشهد أن محمدا رسول الله"
پڑھ کر یا سن کر درود پڑھنا ثابت نہیں بلکہ خلافِ سنت ہے ۔ کیوں کہ آپ ﷺ کا ارشاد ہے: جب تم اذان سنو تو وہی کلمات کہو جو مؤذن کہتا ہے پھر اذان کے بعد مجھ پر درود بھیجو اور پھر دعاء پڑھو ۔ اس حدیث شریف سے معلوم ہوا کہ درود شریف اذان کے بعد پڑھنا ثابت ہے نہ کہ اذان کے درمیان ۔ ہاں سامع جواب میں جب یہ کلمہ
"أشهد أن محمدا رسول الله"
دوہرائے تو ساتھ میں
"صلى الله عليه وسلم"
پڑھے تو کوئی حرج نہیں ہے ۔
مسلم شریف میں ہے:

عن عبد الله بن عمرو بن العاص رضي الله عنه أنه سمع النبي ﷺ يقول: إذا سمعتم المؤذن فقولوا مثل ما يقول ثم صلوا على فإنه من صلى على واحدة صلى الله عليه بها عشراً ثم سلوا الله لي الوسيلة فإنها منزلة في الجنة لا تنبغي إلا لعبد من عباد الله وأرجو أن أكون أنا هو فمن سأل لي الوسيلة حلت عليه الشفاعة. (رواه مسلم: ۱/۱٦٦)

شامی میں ہے:

ويستحب أن يقال عند سماع الأولى من الشهادة: صلي الله عليك يا رسول الله

وذكر ذلك الجراحي وأطال، ثم قال: ولم يصح في المرفوع من كل هذا شيء. (شامي: ۱/۳۹۸)

احسن الفتاوی میں ہے:
اذان میں حضور ﷺ کے نام کے ساتھ درود شریف نہ منقول ہے نہ معمول بلکہ اس کے بر عکس حضور ﷺ کا ارشاد ہے کہ تم بھی وہی کلمات کہو جو مؤذن کہتا ہے پھر اذان کے بعد پہلے درود شریف پڑھو پھر دعا ۔ (احسن الفتاوی: ۲/۲۷۸) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.