بوقت اذان انگوٹھے چومنا:

3 min readFatwa Vol 2 #18Urdu
Vol. 2كتاب الصلاةباب (۲): اذان اور اقامت کا بیان

Question

بوقتِ اذان انگوٹھے چومنا کیسا ہے؟

Answer

اذان کے وقت آنحضرت ﷺ کا نام مبارک سن کر انگوٹھے کے ناخن چومنا اور آنکھوں پر رکھنا اور اس فعل کو سنت سمجھنا اور حدیثِ نبوی سے ثابت تصور کرنا اور نہ چومنے والے کو لعن طعن اور ملامت کے قابل سمجھنا یہ سب غلط ہے اور دین میں تحریف ہے ۔ اتنی بات درست ہے کہ بعض علماء نے اس عمل کو جائز قرار دیا ہے مگر یہ بھی آنکھ کی بیماری کے عمل اور علاج کے طور پر عبادت اور سنتِ مقصودہ اور آنحضرت ﷺ کی تعظیم اور عظمت کے لیے نہیں ۔
ملاحظہ ہو علامہ شامی فرماتے ہیں:

وفي كتاب الفردوس "من قبل ظفري إبهامه عند سماع "أشهد أن محمدا رسول الله"

وذكر ذلك الجراحي وأطال، ثم قال: ولم يصح من المرفوع من كل هذا شيء. (شامي: ۱/۳۹۸، سعيد)

فتاوی رحیمیہ میں ہے:
اذان کے وقت انگوٹھے چومنے کے متعلق جو احادیث اور روایات آئی ہیں وہ مسند الفردوس دیلمی کے حوالے سے موضوعاتِ کبیر اور تذکرۃ الموضوعات اور الفوائد المجموعہ فی الاحادیث الموضوعہ وغیرہ میں منقول ہیں ۔
علامہ سخاوی رحمه الله کے حوالے سے ملا علی قاری رحمه الله مذکورہ روایات کے متعلق نقل فرماتے ہیں کہ "
لا يصح"
(موضوعاتِ کبیر: ص ۷۵) یعنی روایات صحیح نہیں ہے ۔
اور علامہ محمد طاہر رحمه الله رقم طراز ہیں کہ
"ولا يصح"
(تذکرۃ الموضوعات ص ۳۴) یہ روایت صحیح نہیں ہے ۔
اور امام المحدثین علامہ جلال الدین سیوطی رحمه الله لکھتے ہیں:
الأحاديث التي رويت في تقبيل الأنامل وجعلها على العينين عند سماع اسمه ﷺ عن المؤذن في كلمة الشهادة كلها موضوعات.
یعنی مؤذن سے کلمہ شہادت میں آپ ﷺ کا نام مبارک سن کر انگلیاں چومنے اور آنکھوں پر رکھنے کے متعلق جو حدیثیں نقل کی جاتی ہیں وہ سب موضوع یعنی غلط اور بناوٹی ہیں ۔ (تیسیر المقال وغیرہ) موضوع حدیث پر عمل ناجائز ہے ۔ (فتاوی رحیمیہ: ۱/۶۰)
فتاوی دار العلوم دیوبند میں ہے:
اذان میں بوقتِ شہادتین انگوٹھا چومنا سنت سمجھ کر صحیح نہیں ہے ۔ اور چونکہ اس زمانہ میں اکثر لوگ سنت سمجھ کر کرتے ہیں اور تارک کو ملام اور مطعون کرتے ہیں اس لیے اب اس کو علماء محققین نے متروک کر دیا ۔ (فتاوی دار العلوم دیوبند: ۲/۹۰، از مفتی عزیز الرحمٰن صاحب رحمه الله)
کفایت المفتی میں ہے:
اذان میں بوقتِ شہادتین انگوٹھا چوم کر آنکھوں پر لگانے کا کوئی ثبوت نہیں ۔ (کفایت المفتی: ۳/۵۱) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.