بوقتِ اذان بات کرنے کی وعید میں وارد شدہ حدیث کی تحقیق:
Question
میں ایک ساتھی کے ساتھ باتیں کر رہا تھا اور مسجد میں اذان ہو رہی تھی، ایک مولوی صاحب نے بتایا کہ اس میں زوالِ ایمان کا اندیشہ ہے اور بات چیت کی وجہ سے اعمال ضائع ہو جاتے ہیں، کیا مولوی صاحب کی بات صحیح ہے یا نہیں؟ اور اگر کوئی حدیث ہو تو اس کا کیا درجہ ہے؟ بینوا توجروا ۔
Answer
بوقتِ اذان بات چیت کرنے سے زوالِ ایمان اور حبط اعمال کی دونوں روایات موضوع ہیں، ہاں اذان کے وقت خاموش رہنا چاہیے اور بات چیت سے احتراز کرنا چاہیے، اور اذان کا جواب دینا صحیح احادیث سے ثابت اور مستحب ہے، فقہاء نے اذان کا جواب دینے کو مستحب لکھا ہے ۔
چنانچہ ملا علی قاری رحمه الله فرماتے ہیں:
ويستحب إجابة المؤذن باللسان فيمسك عن التلاوة وغيرها في المسجد وغيره. (فتح باب العناية: ۱/۱۹٦، باب الأذان، دار إحياء التراث العربي).
حدیث کی تحقیق ملاحظہ کیجیے: (
۱) من تكلم عند الأذان خيف عليه زوال الإيمان. موضوع. (موضوعات الصغاني، ص ۸۰) وفي تعليقاته: أقره العجلوني في كشف الخفاء ومزيل الإلباس في الحكم علي الحديث" من تكلم عند الأذان
قال الصغاني: موضوع. (كشف الخفاء: ۲/۲۲٦/۲۳۷۰، و ۲/۲٤۰/۲٤۳۹). (وكذا في تذكرة الموضوعات للمقدسي، رقم: ۱٤۵).
(۲) من تكلم بكلام الدنيا في المسجد أحبط الله عمله. وفي رواية: أعماله أربعين سنة. قال الصغاني: موضوع. وقال القاري: وهو كذلك لأنه باطل مبنى ومعنى. (كشف الخفاء: ۲/۲٤۰/۲٤٤۰).
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.