ایک غیر مقلد کے ۵٤ سولات کے جوابات:
Question
ات:
سوال نمبر (۱) یہود اور نصاریٰ اپنے مولویوں اور درویشوں کا کہا مانتے تھے اس لیے اللہ نے مشرک فرمایا، مؤمنوں کو حکم کیا کہ لوگوں کے قول مت پوچھو بلکہ یہ پوچھو کہ اللہ اور رسول کا کیا حکم ہے؟
(مقدمة الفتاوى الهندية: ۱/۱۳)
سوال نمبر (۲) آنحضرت ﷺ کی محبت محض زبان سے نہیں ہوتی بلکہ اتباع رسول سے ہوتی ہے ۔ (
شرح الوقاية، ص: ۱۰۷).
سوال نمبر (۳) جو سنت کو حقیر جانے وہ کا فر ہوگا؟
(الدر المختار: ۱/۲۱۸، والهداية: ۱/۵٤۱).
سوال نمبر (٤) جو سنت کو ہلکا جان کر برابر ترک کرے وہ کا فر ہے ۔ (
مقدمة الهداية: ۱/۷۷).
سوال نمبر (۵) حدیث کا رد کرنے والا گمراہ ہے ۔ (
مقدمة الهداية: ۱/۳۰).
سوال نمبر (٦) جو شخص مسخرہ پن یا بے ادبی کسی آیت کے ساتھ کرے وہ کا فر ہے ۔ (
الدر المختار: ۲/۵۱۳).
سوال نمبر (۷) لوگ بغیر علم کے حدیث طلب کریں گے تو تباہ ہوں گے ۔ (
مقدمة الفتاوى الهندية: ۱/٤۳).
سوال نمبر (۸) فقہ میں جو احادیث ہیں ان پر اعتماد کلی نہیں ہو سکتا، جب تک کہ کتب حدیث سے ان تصحیح نہ کر لی جائے کیونکہ فقہ میں احادیث موضوع بھی ہیں ۔ (
مقدمة الهداية: ۱/۱۰۸).
سوال نمبر (۹) حدیث امام کے قول پر مقدم ہے ۔ (
الهداية: ۱/۱۹۱).
سوال نمبر (۱۰) اہلحدیث و احناف میں ا تفاقِ باہم ہونا چاہیے (یقیناً) ۔ (
الهداية: ۱/۳۱۰).
سوال نمبر (۱۱) امام اعظم جب بغداد میں وارد ہوے تو ایک اہلحدیث نے سوال کیا کہ رطب (پکا کھجور) کی بیع تمر (سوکھا کھجور) سے جائز ہے یا نہیں (اہلحدیث) کا وجود امام ابو حنیفہ کے زمانہ میں ثابت ہوا ۔ (
الدر المختار: ۳/ ۱۳۰، ومقدمة الهداية: ۱/۵۹).
سوال نمبر (۱۲) سلام کے وقت جھکنا مکروہ ہے اس کی حدیث میں ممانعت آئی ہے ۔ (
الفتاوى الهندية: ٤/۳٤۵).
سوال نمبر (۱۳) مصافحہ ایک ہاتھ سے کرنا اکثر روایاتِ صحاح سے ثابت ہے ۔ (
الهداية: ٤/۳٤۳).
سوال نمبر (۱٤) بیعت میں عورت سے مصافحہ کرنا جائز نہیں ۔ (
الهداية: ٤/٤٤٤).
سوال نمبر (۱۵) ڈاڑھی منڈانا، کترانا حرام ہے، کفار مجوسی کی رسم ہے عورتوں کی تشبیہ ہے ۔ (
الدر المختار: ۱/۵۲٤).
سوال نمبر (۱٦) ازار آدھی پنڈلی تک پہنچے، ٹخنوں تک جائز ہے ٹخنوں سے نیچے حرام ہے ۔ (
ما لا بد منه، ص: ۷۲).
سوال نمبر (۱۷) بے نمازی کو امام اعظم رحمہ اللہ کے یہاں ہمیشہ قید میں رکھنا واجب ہے ۔ (
ما لا بد منه ص: ۱۱، الهداية: ۱/۱۵).
سوال نمبر (۱۸) گردن کا مسح بدعت ہے، اس کی حدیث موضوع ہے ۔ (
الدر المختار: ۱/۵۸).
سوال نمبر (۱۹) نمازِ قضا کے لیے سر کھول کر نماز پڑھنا درست ہے ۔ (
الدر المختار: ۱/۱۸۱).
سوال نمبر (۲۰) انکساری کے لیے سر کھول کر نماز پڑھنا درست ہے ۔ (
الدر المختار: ۱/۲۹۹).
سوال نمبر (۲۱) امام مقتدی کو حکم کرے کہ ایک دوسرے سے ملے ر ہے بیچ کی جگہ بند کر دے ۔ (
الدر المختار: ۱/۲٦٤).
سوال نمبر (۲۲) سینہ پر ہاتھ باندھنے کی احادیث مرفوع اور قوی ہیں ۔ (
الهداية: ۱/۳۵۰).
سوال نمبر (۲۳) ناف کے نیچے ہاتھ باندھنے کی احادیث ضعیف ہیں ۔ (
الهداية: ۱/۳۵۰).
سوال نمبر (۲٤) ناف کے نیچے ہاتھ باندھنے کی حدیث حضرت علی رضي اللہ عنہ کا قول ہے اور وہ ضعیف ہے اس مسئلہ کی مرفوع حدیث نہیں ہے ۔ (
شرح الوقاية مصري، ص ۹۳).
سوال نمبر (۲۵) سورۂ فاتحہ پڑھے بغیر کسی کی نماز قبول نہیں ہوتی ۔ (
الهداية: ۱/۳٦۱).
سوال نمبر (۲٦) مقتدی سورۂ فاتحہ دل میں پڑھ لے اور یہ حق ہے ۔ (
الهداية: ۱/۳٦۱).
سوال نمبر (۲۷) امام کے پیچھے سورۂ نہ پڑھنے کی احادیث ضعیف ہیں ۔ (
شرح الوقاية، ص: ۱۰۸. ۱۰۹).
سوال نمبر (۲۸) حضرت علی رضي اللہ عنہ کا قول منع فاتحہ بھی ضعیف اور باطل ہے ۔ (
الدر المختار: ۱/۲۲۹).
سوال نمبر (۲۹) مقتدی آمین سن کر آمین ک ہے ۔ (
الدر المختار: ۱/۲۲۹).
سوال نمبر (۳۰) ایک دو آدمیوں نے سنا تو جہر نہ ہوگا جہر جب ہے کہ سب سنیں ۔ (
الدر المختار: ۱/۲٤۹).
سوال نمبر (۳۱) رفع یدین قبل الرکوع کی احادیث کی تصدیق ۔ (
الهداية: ۱/۳۸٤، وشرح الوقاية ص: ۱۰۲).
سوال نمبر (۳۲) رفع یدین کو اکثر فقہا ء و محدثین سنت کہتے ہیں ۔ (
ما لا بد منه، ص: ۲۷).
سوال نمبر (۳۳) حق یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ سے رفع یدین ثابت ہے ۔ (
الهداية: ۱/۳۸٦).
سوال نمبر (۳٤) یہی (رفع یدین والی) آپ کی نماز رہی یہاں تک اللہ تعالی سے ملاقات ہوئی ۔ (
الهداية: ۱/۳۸٦).
سوال نمبر (۳۵) صبح کی سنت پڑھنے کے بعد داہنی کروٹ لیٹیے ۔ (
الهداية: ۱/۵٤۱. الدر المختار ۳۱٦).
سوال نمبر (۳٦) ظہر کی چار سنت دو سلام سے پڑھے ۔ (
الهداية: ۱/٤٤٤).
سوال نمبر (۳۷) تراویح آٹھ رکعت کی حدیث صحیح ہے ۔ (
شرح الوقاية، ص: ۱۲۳).
سوال نمبر (۳۸) خطیب جب منبر پر بیٹھے تو سلام کرے ۔ (
الدر المختار ۱/۳۷٤).
سوال نمبر (۳۹) خطبہ ہر زبان میں جائز ہے ۔ (
الدر المختار: ۱/ ٤۰۳. الهداية: ۱/۳٤۹).
سوال نمبر (٤۰) بیوی اپنے شوہر کی نعش کو نہلا دے ۔ (
الدر المختار: ۱/ ٤۰۳).
سوال نمبر (٤۱) تکبیرات جنازہ میں رفع یدین جائز ہے ۔ (
الدر المختار: ۱/٤۱۰).
سوال نمبر (٤۲) تیجہ، دسواں، چالیسواں، نہایت مذموم بدعت ہے ۔ (بہشتی زیور) ۔
سوال نمبر (٤۳) ولی کی قبر پر بلند مکان بنانا، چراغ جلانا بدعت و حرام ہے ۔ (
الدر المختار: ٤/۲٤۳).
سوال نمبر (٤٤) قبر کو بو سہ دینا جائز نہیں کہ یہ نصاریٰ کی عادت ہے ۔ (
الدر المختار: ٤/۲٤۲).
سوال نمبر (٤۵) انبیاء اولیاء کی قبروں کو سجدہ کرنا ، طواف کرنا نذریں چڑھانا حرام و کفر ہے ۔ (
ما لا بد منه، ص: ۵۲).
سوال نمبر (٤٦) جو ولی کی قبر کے واسطے مسافت (سفر) طے کرے وہ جاہل و کا فر ہے ۔ (
الدر المختار: ۲/۵۲۹).
سوال نمبر (٤۷) غیر اللہ کی منت ماننا شرک ہے اور اس منت کا کھانا حرام ہے ۔ (بہشتی زیور) ۔
سوال نمبر (٤۸) جس جانور پر غیر اللہ کا نام پکارا گیا اگر چہ ذبح کے وقت بسم اللہ، اللہ اکبر، کہا ہو تو وہ ذبیحہ حرام ہے ۔ (
الدر المختار: ٤/۱۷۹. ۲۷۲).
سوال نمبر (٤۹) دعاء بحق نبی و ولی (بطور وسیلہ) مانگنا مکروہ ہے، اس لیے کہ مخلوق کا کچھ حق اللہ پر نہیں ہے ۔ (
الدر المختار: ٤/۲۳۱. الهداية: ۱/۵۹).
سوال نمبر (۵۰) علم غیب
Answer
ات:
(۱) اس حقیقت مسلمہ واقعہ سے شاید ہی کسی کو انکار ہو کہ یہود و نصاریٰ کو اپنے اپنے انبیاء سے جو احکام شریعت ملے اور جو کتابیں اللہ تعالی نے ان کی ہدایت کے واسطہ نازل فرمائیں ان احکامات شرعیہ اور کتب سماویہ میں علمائے یہود و نصاریٰ نے گزرتے وقت کے ساتھ ساتھ اپنی سہولتوں اور آسانیوں کو مدِ نظر رکھتے ہوے کھل کر تغیر و تبدل کیا اور تحریف جیسے جرمِ عظیم کے مرتکب ہوے، اور اس جرم کا اصل سبب اور موجب تن آسانی اور راحت پسندی تھا کہ جس حکم میں وہ دشواری محسوس کرتے اسے تبدیل کر ڈالتے اور مقدس آسمانی کتابوں میں تحریف کر کے اپنی مرضی کے موافق مضمون درج کر دیتے، چنانچہ قرآنِ پاک میں ان کی اس قبیح حرکت کو بایں الفاظ ذکر کیا گیا ہے ۔
﴿يكتبون الكتاب بأيديهم ثم يقولون هذا من عند الله﴾ (سورة البقرة: ۷۹).
ترجمہ: "وہ (اہل کتا ب) اپنے ہاتھوں سے کتاب ( میں) لکھ ڈالتے ہیں پھر کہتے ہیں یہ اللہ کی طرف سے ہے ۔
قرآنِ پاک میں جا بجا ان کی اس قبیح حرکت اور عظیم جرم کو بیان کیا گیا ہے، اور جن لوگوں نے ان کی پیروی کی اور ان علمائے سوء کے کہنے پر چلے جو کہ غلط احکام کی تعلیم دیتے اور لوگوں کو بدی کی طرف لے جاتے تھے ایسے پیروں کو مشرک قرار دیا گیا کہ یہ لوگ احکام الہیہ سے رو گردانی کرتے اور محرف احکام پر عمل کرتے ہیں اور حکم الہی کو پس پشت ڈال کر انہوں نے محرف احکام کی پیروی کی اور علمائے سوء کا کہنا مان کر انہوں نے حق تعالی کے ساتھ شرک کیا ۔
لیکن محترم یہ بات کہنا کہ موجودہ زمانہ کے مقلدین ائمہ اربعہ بھی مشرک ہیں قطعاً درست نہیں، وجہ اس کی یہ ہے کہ یہود و نصاریٰ کو مشرک بتلایا گیا ہے اس وجہ سے کہ انہوں نے احکاماتِ الٰہیہ کو پسِ پشت ڈال کر اپنے علما ء کے گھڑے ہوے احکامات کو مان لیا اور ان پر عمل کیا اور راہِ حق چھوڑ کر راہِ ضلال اختیار کی ۔
اب ہم منصفانہ غور کرتے ہیں کہ کیا مقلدین ائمہ اربعہ بھی اس جرمِ عظیم کے مرتکب ہو ر ہے ہیں یا نہیں؟ اس بات کے ثبوت کے لیے ضروری ہے کہ پہلے ہم فقہاء اور ائمہ کا کام جانچیں کہ انہوں نے جو کچھ بھی کیا وہ خدمت دین ہے یا علماءِ یہود و نصاریٰ کی طرح دین میں تحریف کے مرتکب ہوتے ر ہے؟ اور کیا فقہاء محض اپنی طرف سے احکامات گھڑ کر لوگوں کو تعلیم کرتے ر ہے یا مرادِ شریعت واضح فرمانے کا عظیم کام سر انجام دیا ۔
علامہ ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے بڑے عجیب و غریب الفاظ میں فقہائے امت کی تعریف فرمائی ہے ۔ ملاحظہ ہو:
"ويفهمونهم مراده بحسب اجتهادهم واستطاعتهم".
(الكلام المفيد، ص: ۱۳۵ بحواله فتاوى ابن تيميه: ۲/۲۰۲).
یعنی فقہاء و عام مسلمانوں کو اپنے اجتہاد اور طاقت کے مطابق آنحضرت ﷺ کی (احادیث کی) مراد بتلاتے ہیں اب ہم غور کرتے ہیں کہ کیا علمائے یہود و نصاریٰ بھی ایسا ہی کیا کرتے تھے کیا وہ لوگوں کو مراد نبوت سمجھا یا کرتے تھے یا اپنے نفس اور خواہشات کی پیروی کراتے تھے اس کا فیصلہ قرآن پاک میں موجود ہے حق تعالی فرماتے ہیں:
﴿يلوون ألسنتهم بالكتاب لتحسبوه من الكتاب وما هو من الكتاب﴾ (سورة آل عمران: ۷۸).
ایک اور مقام پر ان کا تذکرہ یوں فرمایا گیا ہے:
﴿يكتبون الكتاب بأيديهم ثم يقولون هذا من عند الله﴾ (سورة البقرة: ۷۹).
ان آیاتِ مبارکہ کی روشنی میں یہود و نصاریٰ کے علماء اور فقہائے امتِ محمدیہ کے کام میں فرق واضح ہو گیا، وہ دین الہی میں سراسر تحریف کے مرتکب ہوے اور فقہائے امتِ محمدیہ نے مرادِ نبوت کو امت پر واضح کیا اور صحیح دین کا مل اخلاص اور دیانت کے ساتھ لوگوں تک پہنچایا، ایسے فقہاء جن کی دیانت کا یہ عالم ہے کہ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ واضح الفاظ میں فرما گئے ۔ ملاحظہ ہو:
"اتركوا قولي بخبر رسول الله ﷺ"
۔ (
شرح عقود رسم المفتي، ص: ۲۰).
ترجمہ: یعنی میرا قول اگر حدیثِ رسول کے معارض پاؤ تو چھوڑ کر حدیث پر عمل کرنا "
یہ حضرات تو امت کے محسنین ہیں ان کے مقلدین بھلا مشرک ہو سکتے ہیں؟ فقہاء اور علمائے امت تو چراغِ راہ کا کام دیتے ہیں جن کے ذریعہ دین کے سمجھنے میں آسانی ہوتی ہے نیز تکوینی طور پر دین کی خدمت کا کام علماء اور فقہاء امت ہی کے ذریعہ لیا جاتا تھا اسی لیے فرمانِ باری تعالی ہے:
﴿وأطيعوا الله وأطيعوا الرسول وأولي الأمر منكم﴾ (سورة النساء: ۵۹).
چنانچہ اکثر مفسرین نے
﴿أولي الأمر﴾
سے علماء اور فقہاء امت کو مراد لیا ہے اور اس سے تقلید کا وجوب ثابت کیا ہے، غیر مقلد ین کے مشہور عالم نواب صدیق حسن خاں اپنی کتاب
"الجنة"
میں اس کا مصداق یہی لکھتے ہیں ۔ ملاحظہ ہو:
"قال ابن عباس وجابر والحسن وأبو العالية وعطاء والضحاك ومجاهد والإمام أحمد: هم العلماء"
اسی طرح اس کی تفسیر امام ابو بکر جصاص، علامہ محمود آلوسی، امام رازی اور دیگر مفسرین سے یہی منقول ہے کہ اس سے مراد علماء ہیں اور ان کی اطاعت واجب ہے ۔ نواب صدیق حسن خاں صاحب رقم طراز ہیں کہ اگر اس سے مراد امراء بھی ہوں تو بھی کوئی تضاد نہیں ہے ۔ ملاحظہ ہو:
"والتحقيق أن الأمراء إنما يطاعون إذا أمروا بمقتضى العلم فطاعتهم تبع لطاعة العلماء كما أن طاعة العلماء تبع لطاعة الرسول".
بدور الاہلہ میں ہے:
اصل در امر وجوب فعل مامور بہ است ۔ (
الكلام المفيد ص ۵۷ بحوالة بدور الأهلة ص ۲۲).
ان تمام تفصیلات سے یہی ماخوذ ہوتا ہے کہ اس امت کے علماء اور فقہاء کی اطاعت اور پیروی مامور بہ ہے نہ کہ شرک، اسی لیے اکثر علماء نے تقلید کو واجب قرار دیا ہے اور اس پر اجماع بھی نقل کیا گیا ہے اور یہ بھی ملحوظ ر ہے کہ مقلدین جو تقلید کرتے ہیں وہ مجتہد کو معصوم عن الخطا نہیں سمجھتے بلکہ اس نظریہ سے تقلید کرتے ہیں: (
المجتهد يخطئ ويصيب).
اور یہ بات تمام ائمہ کے مقلدین ببانگِ دہل کہتے ہیں کہ منصوص مسائل قرآن و حدیث اور اجماع کے خلاف کسی کی تقلید جائز نہیں ہے، اسی لیے فقہاء نے جا بجا تصریح کر دی ہے کہ حدیث رسول اللہ کے معارض اگر ہمارا قول ہو تو وہ قابلِ قبول نہیں ہے ۔
تقلید کی اہمیت اور ضرورت پر اکابر علماء کے اس قدر اقوال ہیں اور آیات و احادیث اتنی تعداد میں دال ہیں کہ اس مختصر تحریر میں ان کا احاطہ بھی مشکل ہے لیکن ذکر کردہ اجمال سے یہ بات واضح ہو گئی کہ علمائے امت سے دین سمجھنا اور پوچھ کر چلنا یہ شرک نہیں ہے بلکہ بقول نواب صدیق حسن خاں صاحب یہ تو مامور بہ کی ادائیگی ہے ۔
جواب: (۲) بے شک نبی کریم ﷺ کی محبت محض زبان سے نہیں ہوتی بلکہ اصل تو اتباعِ رسول ہے، اور تعلیمات اور احکامات پر عمل کرنا ہے، اور اس بات سے مقلدین ائمہ پر کوئی نقص وارد نہیں ہوتا، اگر یہ مقصود ہو کہ مقلدین دعوی محبت رسول تو بہت کرتے ہیں لیکن اتباع رسول کی نہیں ہے بلکہ اپنے ائمہ کی کرتے ہیں تو اس بات کے بدیہۃ البطلان ہونے میں کوئی کلام نہیں ہے اور ہم نے نمبر (۱) میں وضاحت سے تحریر کر دیا ہے کہ فقہاء اور ائمہ کرام تو چراغِ راہ کا کام دیتے ہیں ان کا مقصود اپنی اتباع اور پیروی کرانا نہیں ہوتا بلکہ وہ تو اتباعِ رسول ﷺ کی طرف بلانے والے ہیں ۔
اور صرف یہی نہیں بلکہ حق تعالی جل وعلا نے ہدایت کو تکوینی طور پر ان ائمہ کی تقلید میں محصور فرما دیا ہے چنانچہ اکثر علمائے امت کے اقوال ہمارے سامنے آتے ہیں کہ اب لوگوں کی ہدایت ان ائمہ کی تقلید میں رکھ دی گئی ہے اور اس میں خیر کثیر ہے، چنانچہ حضرت شاہ ولی اللہ رحمہ اللہ جن میں بذاتِ خود اجتہاد کی اعلی صلاحیت موجود تھی اور ان کے بعض ابتداء کے اقوال کو لوگوں نے تقلید کی تردید میں بھی پیش کیا ہے وہ اپنا ایک خواب اپنی کتاب "فیوض الحرمین" میں ذکر فرماتے ہیں ۔ ملاحظہ ہو:
"واستفدت منه ﷺ ثلاثة أمور، خلاف ما كان عندي وما كانت طبعي تميل إليه أشد ميل فصارت هذه الاستفادة من براهين الحق تعالى إلى قوله. وثانيها الوصاة بالتقليد بهذه المذاهب الأربعة لا أخرج منها إلى آخره (
تقلیدِ شرعی کی ضرورت، ص
۱۱
، بحوالہ فیوض الحرمین ص:
٦٤
۔
٦۵
)
اس عبارت سے معلوم ہوا کہ تقلید ابتداء ً حضرت شاہ ولی اللہ صاحب رحمہ اللہ کی سوچ و فکر کے خلاف تھی لیکن نبی کریم
ﷺ
نے انہیں اس کا حکم فرمایا ۔ یہ عبارات ان لوگوں کو بھی ساکت و صامت کرنے کے لیے کا فی ہیں جو حضرت شاہ صاحب رحمہ اللہ کی عبارات تقلید کی مذمت میں پیش کرتے ہیں ۔ چونکہ یہ بات واضح ہو گئی کہ یہ حضرت شاہ صاحب رحمہ اللہ کا ابتدائی نظریہ تھا جس سے رجوع بھی ثابت ہو گیا اب ہم بتاتے ہیں کہ یہ عبارت کیسے دعوتِ فکر، دے رہی ہے، مقلدین کی کتب میں موجود یہ عبارات در اصل غیر مقلدین کو دعوتِ فکر دے رہی ہیں کہ محض زبانی اور قلمی طور پر اہل حدیث نام تجویز کر لینے سے تم دعوائے محبت میں پورے نہیں اتر سکتے جب تک کہ حقیقتاً اتباع نہ ہو اور حقیقتاً اتباع تب ہوگی جب کہ ان لوگوں سے رہنمائی لے کر چلو جن سے رہنمائی لینے کا امر قرآن پاک اور احادیث میں وارد ہوا ہے یہ تو اتباع رسول نہیں کہ جن سے سوادِ اعظم رہنمائی لے اور جن کی بات کتاب و سنت کے موافق پا کر پیروی کرے اور وہ ائمہ جنہوں نے براہِ راست صحابہ و تابعین سے کسبِ فیض کیا اور خیر القرون میں ہوے وہ تو اصحاب الرائے ہیں، اور آپ لوگ ناقص علم اور کج فہمی کے باوجود اگر اپنی ناقص رائے پر عمل کریں تو آپ متبع رسول شمار ہوں یہ محال ہے حدیث شریف میں ہے ۔ "
اتبعوا السواد الأعظم". (رواه الحاكم في "المستدرك" (۱/۱٤۷، رقم: ۳۹۱).
لوگوں میں غور کیا جائے کہ اس وقت امت کا سواد اعظم کس طرز پر ہے اور پھر حدیث
"من شذ شذ في النار"
کو لے کر اپنی حالت پر بھی غور کریں کیا آپ لوگ اسی کا مصداق نہیں ہیں اور ظاہر و باہر ہے یہ بات کہ حق ہمیشہ سواد اعظم کے ساتھ ہوگا، اس لیے کہ امت کی اکثریت ضلالت و گمراہی پر جمع نہیں ہو سکتی از روئے حدیث اور شاہ ولی اللہ فرماتے ہیں: "
ولما اندرست المذاهب الحقة إلا هذه الأربعة كان اتباعها اتباعاً للسواد الأعظم". (
تقلیدِ شرعی کی ضرورت، ص
۵
، ط: سورت، بحوالہ عقد الجید) ۔
جواب: (۳) (٤) (۵) (٦): اس بات میں کسی کو بھی تردد نہیں ہے کہ جو حدیث رسول اللہ ﷺ کو حقیر جان کر ترک کر دے وہ کا فر ہے، اگر اس بات کو نقل کرنے سے مقصود اعتراض ہو کہ احناف اور دیگر مقلدین بعض احادیث کے مقابلہ میں بعض کو ترک کر دیتے ہیں اور یہ حدیث کی حقارت ہے، تو جاننا چاہیے کہ بعض احادیث کے مقابلہ میں بعض کا ترک یہ حقارت نہیں ہو تا، اس کی توضیح یہ ہے کہ احادیث ہر طرح کی ہیں، ضعیف قوی موضوع وغیرہ فی نفسہ احادیث میں کوئی نقص نہیں ہے اور نہ ہی کوئی اس کا قائل ہے در اصل راویان حدیث کے طبقات میں ہر طرح کے روات موجود ہیں اعلی صفاتِ حسنہ کے حامل بھی اور وضاع کذاب بھی، فقہاء امت جو دین اور شرع متین کی طرف لوگوں کی رہنمائی کرتے ہیں ان کا فرض بنتا ہے کہ کسی بھی حدیث کو لینے سے پہلے اچھی طرح جانچ پڑتال کریں کہ یہ حدیث کن ذرائع اور وسائط سے ہم تک پہنچی ہے تا کہ غلط بات کو دلیل بنا کر نبی عليہ السلام کی طرف منسوب نہ کر دیا جائے اس لیے یہ عین مقتضائے دیانت ہے کہ کسی بھی حدیث کو دلیل بنانے سے پہلے خوب کھنگال کر دیکھ لیا جائے جو حدیث اصول و قواعد اور شرائط پر پوری ہو اُسے لے لیا جائے اور جو اس طرح نہ ہو اسے ترک کر دیا جائے اور جس حدیث کو ترک کیا گیا وہ حقارت کی بناء پر نہیں بلکہ دیانت اور امانت کا تقاضا یہی ہے کہ صحیح کو لیا جائے اور اس کو بنیاد بنایا جائے، اور اس بات کی دلیل کہ ایسا حقارت سے نہیں کیا جاتا یہ ہے کہ حدیث ضعیف پر کوئی متناً طعن نہیں کرتا بلکہ ہمیشہ روات کو دیکھا جاتا ہے اور روات ہی پر جرح کی جاتی ہے حدیث خواہ ضعیف ہو اسے کوئی برا نہیں کہتا، اسی اہمیت کے پیشِ نظر کتب احناف میں جا بجا حدیث کی تحقیر کر کے رد کرنے کو کفر کہا گیا ہے ۔
جواب: (۷): حدیث کو علم کے بغیر طلب کرنا یہ نتیجۃً نہایت درجہ تباہ کن اور مضر ہے، جس طرح سابقہ نمبروں میں غیر مقلدین کی ہی غلطیاں سامنے آئیں اسی طرح یہاں بھی ہم غور کریں تو غیر مقلدین حضرات بدوں علم کے حدیث طلب کرنے میں پیش پیش نظر آتے ہیں حیرت ہے صیاد چلا آتا ہے اب اپنے دام میں ۔
اب ہم بتاتے ہیں کہ غیر مقلدین میں یہ خرابی کس طرح پائی جاتی ہے وہ یوں کہ لوگوں میں یہ بات پھیلا کر انہیں تقلید ائمہ سے متنفر اور باغی کر دیا جاتا ہے کہ یہ اپنی رائے سے مسائل بتاتے ہیں تم خود غور کرو اس کے لیے عامی اور ان پڑھ لوگوں کو کتب احادیث مترجم پکڑا دی جاتی ہیں غور کیجیے کہ ان لوگوں کو عربیت اور دیگر علوم ضروریہ سے واقفیت کے بغیر احادیث میں غور کرنا اور مسائل کا بزعم خود استنباط کرنا صحیح ہے؟ جب کہ استنباطِ مسائل کے لیے تو علوم میں بھر پور مہارت کے ساتھ ساتھ ملکۂ اجتہاد کا ہونا بھی ضروری ہے یعنی ائمہ کرام نے جو مسائل بعد استنباط کے پیش فرمائے وہ تو رائے ہے جب کہ ائمہ کرام کا مل مہارت کے ساتھ ساتھ اعلی درجہ کے ملکۂ اجتہاد و استنباط کے حامل تھے اور یہ لوگ جو فیصلہ کریں ناقص فہم اور بغیر علم کے مطالعۂ حدیث سے وہ رائے زنی نہیں ہے سبحان اللہ جب کہ ایسے عامی اور علم سے بے بہرہ لوگوں کے لیے تو امت کا اجماعی نقطۂ نظریہ رہا ہے کہ ان کی عافیت اسی میں ہے کہ کسی کے دامن سے وابستہ ہو جائیں خود دین میں دخل اندازی نہ کریں وگر نہ ان کی تباہی میں کوئی شبہ نہیں ۔ چنانچہ امام غزالی رحمہ اللہ (
٤۵۰
۔
۵۰۵
ھـ) فرماتے ہیں:
"وإنما حق العوام أن يؤمنوا ويسلموا ويشتغلوا بعبادتهم ومعايشهم ويتركوا العلم للعلماء فإن العامي لو يزني ويسرق كان خيراً له من أن يتكلم في العلم فإنه من تكلم في الله وفي دينه من غير إتقان العلم وقع في الكفر من حيث لا يدري كمن يركب لجة البحر وهو لا يعرف السباحة. (إحياء علوم الدين: ۳/۳٤، بيان تفصيل مداخل الشيطان إلى القلب، مطبعة البابي الحلبي).
اس عبارت سے معلوم ہو گیا کہ زنا اور چوری (جو کہ بہت بڑے گناہ ہیں) سے بھی زیادہ عامی کے حق میں یہ بات خطرناک ہے کہ وہ دین میں دخل اندازی کرے اب انصاف سے کام لیجیے! کیا عامی لوگوں کو اس طرح علم کے بغیر حدیث میں غور کرنے اور دین میں رائے زنی کی ترغیب دلانا درست ہو گا اسی لیے مقلدین نے ائمہ کرام کے فہم پر اعتماد کیا کہ ان کا فہم ہم سے بہتر تھا اور وہ خیر القرون میں ہوے اور صحابہ و تابعین سے علوم حاصل کیے، اخیر میں سفیان بن عیینہ کا عجیب و غریب جملہ ملاحظہ ہو فرماتے ہیں:
"الحديث مضلة إلا للفقهاء". (الفتاوى الحديثية، ص ۱/۲۰۲، دار الفكر، والمدخل: ۱/۱۲۸، في ذكر النعوت، دار الفكر، والرسالة الباهرة للإمام ابن حزم، عن ابن وهب).
یعنی فقہاء کے سوا حدیث اور لوگوں کے لیے سبب گمراہی ہے کیونکہ حدیث کے رموز واسرار پر اطلاع پانا ہر ایک کے بس کی بات نہیں ممکن ہے کہ مراد نبوت کچھ اور ہو اور یہ سمجھ کچھ اور لے تو یہ اس کی گمراہی کا سبب ہوگا، اسی لیے بڑے بڑے محدثین سے یہ منقول ہے کہ ہمارا کام اس ذخیرہ کا پہنچا دینا ہے اسے سمجھ کر مسائل کا استنباط کرنا یہ فقہاء کا کام ہے اسی لیے اکثر بڑے بڑے محدثین کسی نہ کسی کے مقلد ہوے ہیں اگر ہر ایک کے لیے دین میں دخل مناسب ہوتا تو سب سے زیادہ یہ حضرات اس بات کے مستحق تھے کیونکہ احادیث کے بڑے بڑے ذخائر ان کے پاس موجود تھے اور آج کل کے عامی اور غیر مقلدین سے تو یہ علمی قابلیت کے لحاظ سے بہت بلند تھے ۔
جواب (۸): جس طرح کتب حدیث میں موجود ہر حدیث کو جا نچا اور پر کھا جاتا ہے اسی طرح کتب فقہ میں مذکور احادیث کو بھی علماء نے جا نچا اور پر کھا ہے چنانچہ جب کسی مسئلہ پر بحث کی جاتی ہے تو دلیل میں احادیث مذکور ہو ں ان کے قوی اور ضعیف ہونے کو بھی زیر بحث لا یا جاتا ہے، آنکھ بند کر کے کوئی حدیث بطور دلیل قبول نہیں کی جاتی چنانچہ کتب فقہ میں موجود احادیث کو جانچنے اور حیثیت پرکھنے کے لیے مستقل کتابیں تحقیق و مراجعت کے موضوع پر لکھی جا چکی ہیں، مثلاً ہدایہ میں مذکورہ احادیث کی تخریج نصب الرایہ للزیلعی کی تلخیص الدرایہ کے عنوان سے ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ نے کی ہے اور جاننا چاہیے کہ جو کوئی دلیل یا دلیل میں مذکور حدیث ہو وہ صاحب مذہب امام سے بھی منقول ہو بلکہ ایک ہی مسئلہ میں بہت سی احادیث بھی دلیل ہوتی ہیں اور بعض مرتبہ صاحب مذہب امام تو صحیح اور عالی سند سے روایت لے کر دلیل بناتا ہے لیکن صاحب کتاب اسی حدیث کو کسی ضعیف طریق سے لے کر درج کر دیتا ہے اور جب ایک ہی مسئلہ میں کئی حدیثیں بطور دلیل ہوتی ہیں تو صاحب کتاب اپنے انتخاب سے کوئی سقیم روایت ذکر کر دیتا ہے ہر دلیل کی نسبت صاحب مذہب امام کی طرف ضروری نہیں، لیکن بہر حال کسی دلیل کو بغیر بحث اور جرح کے قبول نہیں کیا جاتا ہے ۔
جواب (۹): یہ بات کہ حدیث امام کے قول پر مقدم ہے ائمہ مقلدین کی اعلی درجہ امانت اور دیانت پر دال ہے، اگر یہ حضرات اپنی نفسانی تقلید کرانا چاہتے تو کہ سکتے تھے کہ فقط امام کے قول کو لا زم پکڑ لو، لیکن غایت درجہ دیانت کا ثبوت دیتے ہوے ائمہ کرام نے ہمیشہ یہی بات کہی کہ حدیث کو قول امام پر مقدم رکھا جائے، چنانچہ اس سلسلہ میں امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے ایک تاریخی جملہ نے جہاں ان کی دیانت اور اخلاص کو روزِ روشن کی طرح واضح کر دیا اور تقلید کی مذمت کرنے والوں کو بھی ساکت اور صامت کر دیا جو یہ الزام لگاتے ہیں کہ ائمہ فقط اپنی ذاتی رائے کو احادیث پر مقدم گردانتے ہیں حضرت الامام کا تاریخی جملہ ملاحظہ ہو:
"اتركوا قولي بخبر رسول الله إذا صح الحديث فهو مذهبي". (شرح عقود رسم المفتي).
اور فقہ حنفی کو محض ایک شخصی رائے سے تعبیر کرنے والوں کے لیے یہی کا فی ہے کہ امام اعظم رحمہ اللہ نے فقہ کو اپنی رائے سے مدون نہیں کیا بلکہ پوری شوریٰ نے غور و خوض اور بحث و مباحثہ کے بعد جن مسائل کا استخراج کیا وہ سب کچھ بمع اختلاف کے بعینہٖ درج کیا گیا لہذا بعد میں آنے والے علماء اور مفتیان کرام اس بات کے پابند نہیں ر ہے کہ فقط قول امام کو لیں بلکہ جس کا قول اقرب الی الحدیث ہوتا ہے فتوی اسی پر دیا جاتا ہے چنانچہ جا بجا کتنے ہی مسائل میں قول امام کو چھوڑ کر صاحبین وغیرہ کے قول پر فتوی دیا جاتا ہے ۔
اس سلسلہ میں حضرت شاہ ولی اللہ رحمہ اللہ کی شہادت بھی ملاحظہ ہو، فرماتے ہیں:
مجھ کو پہنچوا دیا رسول اللہ ﷺ نے کہ حنفی مذہب میں ایک بہت اچھا طریقہ ہے وہ بہت موافق ہے اس طریقہ سنت سے جو تنقیح ہوا زمانہ بخاری اور اس کے ساتھ والوں کے اور وہ یہ ہے کہ اقوالِ ثلاثہ یعنی امام اعظم اور صاحبین سے جو قول اقرب ہو وہ لے لیا جائے پھر اس کے بعد حنفی فقہاء کی پیروی کی جائے جو علمائے حدیث سے ہیں کیونکہ بہت سی چیزیں ہیں کہ امام اور صاحبین نے اصول میں نہیں بیان کیں اور نہ ان کی نفی کی ہے اور حدیثیں ان پر دلالت کرتی ہیں، تو ان کا اثبات ضرور ہے اور سب مذہب حنفی ہیں ۔ (فیوض الحرمین اردو ص
۵۸
) ۔
یہ شہادت حضرت شاہ ولی اللہ صاحب رحمہ اللہ کی ہے جو خود ابتداء ً تقلید کو درست نہ سمجھتے تھے اور یہ بھی ملحوظ ر ہے کہ یہ بیان دربار رسالت سے مصدقہ ہے ۔ "
سبحان الله".
جواب (۱۰) (۱۱): غیر مقلدین کا یہ کہنا کہ کتب قدیمہ اور عبارات اکابر میں جا بجا اہل حدیث کا لفظ آتا ہے اس سے خاص انہی کا طبقہ مراد ہے یہ محض خیالی ہے اور کچھ بھی نہیں ۔
چہ نسبت خاک را با عالم پاک
لطیفہ: یہ تو ایسا ہی ہے کہ اگر کسی کے بدن میں صفراء غلبہ کر جائے تو اسے ہر چیز اسی رنگ میں نظر آتی ہے جب کہ حقیقت اس کے خلاف ہوتی ہے، یہ عوام الناس کے لیے بہت بڑا دھوکا ہے کہ انہیں کتبِ اکابر سے لفظ اہلحدیث دکھا کر مطمئن کر دیا جاتا ہے اور یہ ب اور کرایا جاتا ہے کہ اہلحدیث سے مراد خاص ہمارا طبقہ ہے، اب ہم غور کرتے ہیں کہ جن لوگوں کو غیر مقلدین اپنے فرقہ میں شامل کرنے کی ناکام کو شش کرتے ہیں کیا وہ تقلید کیا کرتے تھے چنانچہ اس سلسلہ میں سب سے پہلے یہ ملحوظ ر ہے کہ جہاں کہیں بھی کتب میں لفظ اہل حدیث آیا ہے اس سے مراد محدثین کرام کی جماعت ہے، اور یہ بات اتنی وضاحت سے ثابت ہے کہ اس پر قیام دلیل ایک عمل لا یعنی ہے دیکھنا یہ ہے کہ کیا محدثین کی جماعت ج نہیں غیر مقلدین اپنے ساتھ ملاتے ہیں تقلید کیا کرتے تھے یا نہیں، غیر مقلدین کے مایۂ ناز عالم دین نواب صدیق حسن صاحب اپنی کتاب "الحطة في ذکر صحاح ستة" میں امام نسائی کے متعلق رقم طراز ہیں:
"كان أحد أعلام الدين وأركان الحديث إمام أهل عصره ومقدمهم بين أصحاب الحديث وجرحه وتعديله معتبر بين العلماء وكان شافعي المذهب". (
تقلیدِ شرعی کی ضرورت ص
۱۳
) ۔
امام بخاری رحمہ اللہ کے متعلق بحوالہ ابو عاصم:
وقد ذكره أبو عاصم في طبقات أصحابنا الشافعية نقلا عن السبكي
امام ابو داود کے متعلق فرماتے ہیں:
فقيل حنبلي وقيل شافعي. (
تقلیدِ شرعی کی ضرورت ص
۱۳
) ۔
اس کے علا وہ امام مسلم، امام ترمذی امام بیہقی، امام دار قطنی اور امام ابن ماجہ رحمہم اللہ تعالی وغیرہ یہ سب مقلد تھے اور صحیح قول کے مطابق شافعی تھے، اسی طرح یحیی بن معین، محدث یحیی بن سعد القطان، محدث یحیی بن ابی زائدہ وکیع بن الجراح، امام طحاوی، امام زیلعی یہ سب حضرات مقلد تھے اور حنفی تھے، اور امام ذہبی، ابن تیمیہ، ابن قیم، ابن جوزی، اور شیخ عبد القادر جیلانی حنبلی تھے ۔
علاوہ ازیں ان کے بعد کے حضرات جن کے ذریعہ یہ علوم ہمارے بلاد تک پہنچے یہ حضرات کون تھے، اس کے بارے میں مشہور غیر مقلد عالم مولانا محمد ابراہیم سیالکوٹی اپنی کتاب تاریخ اہل حدیث حصہ سوم میں یہ عنوان قائم کرتے ہیں ہندوستان میں علم و عمل بالحدیث اور اس کے تحت یہ نام درج کرتے ہیں ۔
(۱) شیخ رضی الدین صنعانی لاہوری المتوفی ٦۵۰ ھ ۔
(۲) علی متقی برہانپوری المتوفی ۹۸۵ ھ ۔
(۳) محمد طاہر گجراتی المتوفی ۹۸٦ ھ ۔
(٤) عبد الحق محدث دہلوی المتوفی ۱۰۵۲ ھ ۔
(۵) شیخ احمد سرہندی مجدد الف ثانی المتوفی ۱۰۳٤ ھ ۔
(٦) شیخ نور الحق المتوفی ۱۰۷۳ ھ ۔
(۷) سید مبارک محدث بلگرامی المتوفی ۱۱۵ ۱ ھ ۔
(۸) شیخ نور الدین احمد آبادی المتوفی ۱۱۵۵ ھ ۔
(۹) میر عبد الجلیل بلگرامی المتوفی ۱۱۳۸ ھ ۔
(۱۰) حاجی محمد افضل سیالکوٹی المتوفی ۱۱٤٦ ھ ۔
(۱۱) حضرت مرزا مظہر جانِ جاناں المتوفی ۱۱۹۵ ھ ۔
اور حضرت شاہ ولی اللہ رحمہ اللہ سے لے کر شاہ اسحاق صاحب تک سب کو حنفی اور مقلد فرمایا ۔
فرماتے ہیں کہ ہندوستان میں علم حدیث اور عمل بالحدیث انہی لوگوں کی بدولت پھیلا معلوم ہوا کہ قرونِ اولی، مصنفینِ صحاح ستہ وغیرہم سے لے کر اب تک سلسلۂ محدثین جو کہ کئی صدیوں پر محیط ہے یہ تمام حضرات مقلد گزرے ہیں، تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو: نزہۃ الخواطر، حدائق حنفیہ، انوار الباری کے مقدمہ کا حصہ دوم، تذکرۃ محدثین ۔ (تقلیدِ شرعی کی ضرورت ص
۱٤
۔
۱٦
، ط: سورت) ۔
تفصیلِ بالا کے بعد ایک سوال خود بخود پیدا ہوتا ہے کہ جب ابتداء سے اب تک غیر مقلدین کا وجود نہیں پایا جاتا ہے تو یہ لوگ کس زمانہ میں پیدا ہوے اور یہ نام کیسے حاصل کیا ؟ مختصراً یہ کہ بر صغیر میں انگریز کی آمد سے پہلے کوئی بھی اس نام سے واقف نہ تھا سب حضرات فقہ حنفی کے ماننے والے تھے، پھر انگریز نے مسلمانوں کو کمزور کرنے کے لیے چند فرقے کا شت کیے جن میں سے ایک فرقۂ غیر مقلدین بھی انہی کی محنتوں کا ثمرہ ہے، اس سے انگریز سامراج نے بہت سے فوائد حاصل کیے، مثلاً جب مسلمانانِ ہند نے انگریز کی غلامی سے نجات حاصل کرنے کے لیے میدانِ عمل میں آ کر علمِ جہاد بلند کیا تو ان فرقوں نے نہ صرف یہ کہ زبان اور قلم سے انگریز گورنمنٹ کی حمایت کی بلکہ مختلف لڑائیوں میں مالی امداد بھی کرتے ر ہے جس کے عوض تقرب اور جاگیروں سے نوازے گئے اس کا تذکرہ غیر مقلدین نے بڑے فخر سے اپنی کتابوں میں کیا ہے چنانچہ اس کے حوالہ کی چنداں ضرورت نہیں اگر کوئی شوقین ہو تو شیخ الکل کی خدمات ان کی سوانح میں اور حالات میں ملاحظہ کر لے، اور اہل حدیث کا خطاب اس نو مولود فرقہ کو کیونکر ملا در اصل یہ بھی انگریز سرکار کی عنایت میں سے ہے، چنانچہ مولوی عبد المجید سوبدری غیر مقلد رقم طراز ہیں:
مولوی محمد حسین بٹالوی نے اشعۃ السنہ کے ذریعہ غیر مقلدین کی بہت خدمت کی لفظ وہابی آپ ہی کوشش سے سرکاری دفاتر اور کاغذات سے محو ہوا اور اس جماعت کو اہل حدیث کے نام سے موسوم کیا گیا آپ نے حکومت انگریز کی خدمت بھی کی، اور انعام جاگیر پائی ۔ امید ہے کہ اب آپ کو اپنا نسب نامہ خوب یاد ہو گیا ہوگا ۔
(اہلحدیث اور انگریز ص
۸۷
بحوالہ رسائل اہل حدیث ص
۱۹
) ۔
جواب (۱۲): سلام کے وقت جھکنے کا کوئی بھی قائل نہیں ہے، جب کتب حنفیہ میں ہی جھکنے کو منع لکھا گیا ہے تو اس عبارت کا کیا مق
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.