مسجد میں جماعت کے ساتھ قضا کرنے کا حکم:
Question
اگر امام کی عصر کی نماز فاسد ہوئی مغرب کے وقت لوگ آئے اور امام کو بتلایا تو اب جماعت کے ساتھ مسجد میں عصر کی نماز کی قضا کر سکتے ہیں یا نہیں؟
Answer
صورتِ مسئولہ میں چونکہ امرِ عام کی وجہ سے قضا کرنا ہے تو مسجد میں جماعت کے ساتھ درست ہے بشرطیکہ وقت میں گنجائش ہو کہ قضا کے بعد وقتیہ بھی پڑھ سکیں ۔ ملاحظہ ہو الدر المختار میں ہے:
(ولا فيما يقضي من الفوائت في مسجد) لأن فيه تشويشاً وتغليظاً، وفي الشامي: (قوله لأن فيه تشويشاً) إنما يظهر أن لو كان الأذان لجماعة
وفي الإمداد أنه إذا كان التفويت لا مر عام فالأذان في المسجد لا يكره لانتفاء العلة كفعله ليلة التعريس
(الدر المختار مع الشامي: ۱/۳۹۱، مطلب في أذان الجوق، سعيد كمپني)
فتاوی ہندیہ میں ہے:
الترتيب بين الفائتة والوقتية وبين الفوائت مستحق كذا في الكافي حتى لا يجوز أداء الوقتية قبل قضاء الفائتة كذا في محيط السرخسي. (الفتاوى الهندية: ۱/۱۲۱).
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.