تہجد کے وقت قضاء عمری پڑھنے کا حکم:
Question
تہجد کے وقت تہجد پڑھنا بہتر ہے یا قضائے عمری بہتر ہے؟ جب کہ وقت تہجد کا ہے اور قضا کی اہمیت ہے ۔ بینوا توجروا ۔
Answer
قضائے عمری پڑھنا بہتر ہے، ہاں تہجد بھی ساتھ میں پڑھ لے تو نور علی نور ہے ۔
ملاحظہ ہو شامی میں ہے:
الاشتغال بقضاء الفوائت أولى وأهم من النوافل إلا سنن المفروضة وصلاة الضحى وصلاة التسبيح والصلاة التي رويت فيها الأخبار أي كتحية المسجد، والأربع قبل العصر والست بعد المغرب. (شامي: ۲/۷٤، باب قضاء الفوائت، سعيد)
فتاوی ہندیہ میں ہے:
وفي الحجة: والاشتغال بالفوائت أولى وأهم من النوافل إلا السنن المفروضة
(الفتاوى الهندية: ۱/۱۲٥. وكذا في حاشية الطحطاوي على مراقي الفلاح: ۲٤۳، قديمي)
فتاوی دار العلوم دیوبند میں ہے:
وقتیہ سننِ مؤکدہ کو نہ چھوڑ نا چاہیے اور فوائت کو اوقاتِ فارغہ میں ادا کرنا چاہیے، اور یہ ظاہر ہے کہ ادائے فوائت اہم ہے لیکن اگر دونوں کام ہو سکیں کہ فوائت بھی پڑھے اور سنن مؤکدہ کو بھی نہ چھوڑے تو بہتر ہے ۔ (فتاوی دار العلوم دیوبند: ٤/۳٤٤، دار الاشاعت ۔ و احسن الفتاوی ٤/۱۹) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.