قضاء عمری با جماعت ادا کرنے کا حکم:

17 min readFatwa Vol 2 #327Urdu
Vol. 2كتاب الصلاةباب (۱۱): قضاء الفوائت قضا نمازوں کا بیان

Question

بعض علاقوں میں قضائے عمری جماعت کے ساتھ اجتماعی طور پر ادا کرنے کا رواج ہے، اس کا طریقہ یہ ہوتا ہے کہ رمضان کے آخری جمعہ کے دن نماز ِ جمعہ کے بعد فجر سے عشاء تک کی نمازیں امام کے پیچھے جماعت کے ساتھ لوگ پڑھتے ہیں، کیا یہ طریقہ صحیح ہے یا غلط؟ خیر القرون میں اس کا ثبوت ہے یا نہیں؟ مدلل بیان کیجیے؟ بینوا بالتفصیل توجروا بالاجر الجزیل ۔

Answer

قضائے عمری کا یہ طریقہ کہ رمضان کے آخری جمعہ میں قضا کرنا اور تمام نمازوں کی طرف کافی سمجھنا بدعت ہے، شریعتِ مطہرہ میں اس کی کوئی اصل نہیں ہے، اور اس سے متعلق جتنی روایات بیان کی جاتی ہیں وہ سب موضوع ہیں ۔ ملاحظہ ہو ملا علی قاری رحمه الله تحریر فرماتے ہیں:

من قضي صلاة من الفرائض في آخر جمعة من شهر رمضان كان ذلك جابراً لكل صلاة فاتته في عمره إلى سبعين سنة. قال: باطل قطعاً لأنه مناقض للإجماع على أن شيئاً من العبادات لا يقوم مقام فائتة سنوات ثم لا عبرة بنقل "صاحب النهاية" ولا ببقية شراح الهداية فإنهم ليسوا من المحدثين ولا أسندوا الحديث إلى أحد من المخرجين. (الموضوعات الكبرى، ص ۲٤۲، رقم: ٥۱۹).
ومثله في كشف الخفاء: (۲/۲۷۲/۲٥۷٥).

نیز محدثین نے کسی روایت کے موضوع ہونے کی علامات بیان فرمائی ہے وہ بھی اس میں موجود ہیں:
(۱) عقل کے خلاف ہونا ۔
(۲) مشاہدہ کے خلاف ہونا ۔
(۳) نصوص کے خلاف ہونا ۔
(٤) سنتِ متورثہ اور اجماعِ قطعی کے خلاف ہونا ۔
(۵) وعد و وعید میں افراط و تفریط سے کام لینا ۔ (مستفاد از تدریب الراوی: ۲/۲۷٦، ۲۷۷) ۔
مزید براں فقہی اصول کے بھی خلاف ہے ۔ مثلاً امام متنفل اور مقتدی مفترض،
وهذا لا يصح عندنا
۔ دونوں مفترض ہوں لیکن نمازوں کا الگ الگ ہونا ۔ مثلاً امام کی پیر کے دن کی ظہر کی نماز ہے اور مقتدی کی منگل کے دن کی ہے ۔
اشکال: اگر کوئی اشکال کرے کہ امام صاحب نے قضائے عمری ادا فرمائی تھی؟
الجواب: اس کا جواب یہ ہے کہ یہ ثابت نہیں ہے ۔
علامہ شامی رحمه الله فرماتے ہیں:

والجواب أولاً أنه لم يصح نقل ذلك عن الإمام. (رد المحتار: ۲/۳۸، سعيد).

اور اگر بالفرض والتقدیر ثابت ہو تو اس کا جواب یہ ہے کہ:
أنه فعل احتياطا وانفراداً لا جماعة على الإعلان.

خلاصہ یہ ہے کہ اس طرح قضائے عمری ثابت نہیں اور شریعتِ مطہرہ میں اس کی کوئی اصل بھی نہیں ہے، یہ خراسان کے بعض علاقوں میں شروع ہوئی تھی ۔ نیز قضا شدہ نمازوں کے لیے اذان و اقامت کا اہتمام بھی فقہاء کے کلام کی روشنی میں درست نہیں ۔
مروجہ قضائے عمری میں درجِ ذیل خرابیاں و مفاسد پائے جاتے ہیں:

ظ
یہ نماز نہ قرآن و حدیث سے ثابت ہے اور نہ فقہائے کرام سے مروی ہے ۔ اس کا فاعل از روئے شریعتِ مقدسہ مبتدع اور مخترع ہے ۔
علامہ لکھنوی رحمه الله فرماتے ہیں:

إنها اختراع بدعي وضلالة ما أجاز لهم الشارع لذلك لا دلالة، ولا إشارة، ولا قياساً، ولا إجماعاً، وما رووه من حديث في ذلك كذب لا ينبغي للمومن المحقق أن يصغي إليه. (مجموعة رسائل اللكنوي: ۲/۲۲).

خیر الفتاوی میں ہے:
احادیثِ صحیحہ اور کتبِ معتبرہ میں قضائے عمری کا مسئلہ نہیں ملتا، اور مسئلہ حکمِ خداوندی کو کہتے ہیں، تو جب باسنادِ معتمدہ اس مسئلہ کی نسبت پیغمبر علیہ السلام اور مجتہدین کی طرف ثابت نہ ہو تو یہ شریعت اور خداوندِ قدوس پر افترا ہوگا کہ یہ بھی حق سبحانہ کا حکم ہے، اور واقعہ میں حکم ہونا ثابت نہیں ۔ (خیر الفتاوی: ۱/٦۰۹) ۔

ظ
قضائے عمری کے بارے میں جو حدیث پیش کرتے ہیں وہ موضوع ہے ۔ حدیث پر کلام اور تحقیق ملاحظہ ہو ملا علی قاری رحمه الله فرماتے ہیں:

باطل قطعاً لأنه مناقض للإجماع على أن شيئاً من العبادات لا يقوم مقام فائتة سنوات ثم لا عبرة بنقل "صاحب النهاية" ولا ببقية شراح الهداية فإنهم ليسوا من المحدثين ولا أسندوا الحديث إلى أحد من المخرجين. (الموضوعات الكبرى، ص ۲٤۲، رقم: ٥۱۹).

علامہ شوکانی رحمه الله فرماتے ہیں:

حديث من صلى في آخر جمعة من رمضان

هذا موضوع لا إشكال فيه ولم أجده في شيء من الكتب التي جمع مصنفوها فيها الأحاديث الموضوعة، ولكنه اشتهر عند جماعة من المتفقهة بمدينة صنعاء في عصرنا هذا وصار كثير منهم يفعلون ذلك ولا أدري من وضعه لهم فقبح الله الكذابين. (الفوائد المجموعة في الأحاديث الموضوعة، ص: ٥٤، رقم ۱۱٥، المكتب الإسلامي بيروت، وكذا في الآثار المرفوعة في الأخبار الموضوعة للعلامة اللكنوي رحمه الله، ص: ۸٥).

حضرت شاہ عبد العزیز محدثِ دہلوی رحمه الله عجالہ نافعہ میں رقم طراز ہیں:

الأمارة الخامسة: أن ما رواه الراوي يخالف ما اقتضاه العقل والشرع وتكذبه أصول الشرع كالقضاء العمري ومثله. (العجالة النافعة، المندرجة في ابتداء "تنظيم الأشتات لحل عويصات المشكاة"، ص: ۷۲، ط: آرام باغ كراتشي).
وفي "شرح المواهب اللدنية" نقلاً عن "شرح منهاج النووي" لابن حجر المكي الهيتمي الشافعي المسمى بـ "التحفة" بعد ذكر قباحة حفيظة رمضان: وأقبح من ذلك ما اعتيد في بعض البلاد من صلاة الخمس في آخر جمعة من رمضان عقب صلاتها زاعمين أنها تكفر صلوات العام أو العمر المتروكة وذلك حرام بوجوه لا تخفي. (ملتقط من رسائل اللكنوي رحمه الله: ۲/۳٦٦).

ملاحظہ ہو شیخ ابراہیم حلبی (م ۹۵٦ ھ) اس قسم کی احادیث کے بارے میں فرماتے ہیں:

موضوع باطل لا أصل له ولا يجوز العمل به ولا نقله إلا لبيان بطلانه كما هو شأن الأحاديث الموضوعة ويدلك على وضعه ركاكته والمبالغة الغير الموافقة للشرع والعقل فإن الأجر على قدر المشقة شرعاً وعقلاً وأفضل الأعمال أحمزها وإنما قصد بعض الملحدين بمثل هذا الحديث إفساد الدين وإضلال الخلق وإغراء هم بالفسق وتثبيطهم عن الجد في العبادة فيغتر به بعض من ليس له خبرة بعلوم الحديث وطرقه ولا ملكة يميزها بين صحيحه وسقيمه، قال الربيع بن خيثم: إن للحديث ضوء مثل ضوء النهار يعرفه وظلمة كظلمة الليل تنكره. وقال ابن الجوزي: إن الحديث المنكر يقشعر منه جلد الطالب للعلم وينفر منه قلبه في الغالب انتهى. (شرح منية المصلي، ص ٦۱۷، فصل في مسائل شتي، ط: سهيل).

اور موضوع حدیث پر عمل جائز نہیں ہے ۔
علامہ لکھنوی رحمه الله فرماتے ہیں:

اعلم أنه قد صرح الفقهاء والمحدثون بأجمعهم في كتبهم بأنه تحرم رواية الموضوع وذكره ونقله والعمل بمفاده مع اعتقاد ثبوته إلا مع التنبيه على أنه موضوع ويحرم التساهل فيه سواء كان في الأحكام أو القصص أو الترغيب والترهيب أو غير ذلك ويحرم التقليد في ذكره ونقله إلا مقروناً ببيان وضعه بخلاف الحديث الضعيف

(الاثار المرفوعة في الأخبار الموضوعة، ص ۲۱، حرمة رواية الحديث الموضوع، دار الكتب العلمية).
ظ
عوام اور کم علم خواص کا عقیدہ ہے کہ اس سے عمر بھر یا ستر سال یا کم از کم ایک سال کی فوت شدہ نمازوں سے آدمی فارغ البال ہو جاتا ہے ۔
علامہ لکھنوی رحمه الله نقل فرماتے ہیں:

إنهم يعتقدون أن هذه الصلاة تكفيهم عن جميع الفوائت، وهذا الاعتقاد يقلع أصل أحكام الإسلام. (مجموعة رسائل اللكنوي: ۲/۲۲).
ظ
لوگ اس کے لیے اس قدر اہتمام کرتے ہیں جتنا فرائض و واجبات کے لیے اہتمام نہیں کیا جاتا ۔

ظ
قضائے عمری کے لیے مسجد میں اذان دی جاتی ہے، جب کہ فقہاء کی تصریحات کہ بموجب یہ صحیح اور درست نہیں ہے ۔ البحر الرائق میں ہے:

وفي المجتبى معزياً إلى الحلواني أنه سنة القضاء في البيوت دون المساجد فإن فيه تشويشاً وتغليطاً، وإذا كانوا قد صرحوا بأن الفائتة لا تقضي في المسجد لما فيه من إظهار التكاسل في إخراج الصلاة عن وقتها فالواجب الإخفاء فالأذان للفائتة في المسجد أولى بالمنع. (البحر الرائق: ۱/باب الاذان، كوئته).
وكذا في حاشية الطحطاوي على مراقي الفلاح، ص:، باب الأذان، ورد المحتار: (۱/۳۹۰، ۳۹۱، سعيد).
ظ
قضا نمازوں کو تداعی اور تشہیر و جماعت کے ساتھ مسجد میں ادا کرنا ناجائز ہے ۔ بلکہ گناہِ کبیرہ کی تشہیر "
ضِغْثٌ على إبَّالَة"
ستم بالائے ستم" کے قبیل سے ہے ۔

وفي الدر المختار: وينبغي أن لا يطلع غيره على قضاء ه لأن التأخير معصية فلا يظهرها. وفي الشامية: قوله وينبغي

أنه يكره قضاء الفائتة في المسجد، وعلله الشارح بما هنا من أن التأخير معصية فلا يظهرها، وظاهره أن الممنوع هو القضاء مع الإطلاع عليه سواء كان في المسجد أو غيره كما أفاده في المنح. قلت: والظاهر أن ينبغي هنا للوجوب وأن الكراهة تحريمية، لأن إظهار المعصية معصية، لحديث الصحيحين: "كل أمتي معافي إلا المجاهرين، وإن من الجهار أن يعمل الرجل بالليل عملاً ثم يصبح وقد ستره الله فيقول: عملت البارحة كذا وكذا وقد بات يستره ربه ويصبح يكشف ستر الله عنه". والله تعالى أعلم. (الدر المختار مع رد المحتار: ۲/۷۷، سعيد).
الفتاوى الهندية
میں ہے:

ولا يقضي الفوائت في المسجد وإنما يقضيها في بيته كذا في الوجيز للكردي. (الفتاوى الهندية: ۱/۱۲٥).
وكذا في حاشية الطحطاوي على الدر المختار: (۱/۱۸۷، كوئته)، والدر المختار مع رد المحتار (۱/۳۹۱، سعيد).

علامہ لکھنوی رحمه الله فرماتے ہیں:

إنها إعلان وتشهير لكبائر نفوسهم، وهو فسق. (مجموعة رسائل اللكنوي: ۲/۲۲).
ظ
یہ اعتقاد رکھنا کہ ایک نماز ادا کرنے سے سب قضا نمازیں ادا ہو گئیں اور ذمہ ساقط ہو گیا، بتصریح فقہاء موجبِ کفر ہے ۔ فتاوی ہندیہ میں ہے:

رجل يصلي في رمضان لا غير ويقول:
"ایں خود بسیار است"
أو يقول:
"زیادہ می آید"
لأن كل صلاة في رمضان تساوي سبعين صلاة يكفر. (الفتاوى الهندية: ۲/۲٦۸، موجبات الكفر).
(وكذا في الفتاوى البزازية، وفي فصول العمادية، وفي جامع الفصولين، وفي كشف الوقاية).

علامہ لکھنوی رحمه الله نقل فرماتے ہیں:

إنهم يعتقدون أن هذه الصلاة تكفيهم عن جميع الفوائت، وهذا الاعتقاد يقلع أصل أحكام الإسلام. (مجموعة رسائل اللكنوي: ۲/۲۲).
ظ
امام کی نماز اور مقتدی کی نماز کا الگ ہونا، مثلاً امام کی پیر کے دن کی ظہر کی نماز ہے اور مقتدی کی منگل کے دن کی ہے ۔ اور اس کے باوجود اقتدا کرنا ۔
مقتدی کا فرض امام کے فرض سے مختلف ہو تو اقتداء درست نہیں ۔ ملاحظہ ہو مختصر القدوری میں ہے:

ولا من يصلي فرضاً خلف من يصلي فرضاً آخر. (مختصر القدوري: ص ٤۲، باب الجماعة، سعيد).

الجوہرۃ النیرۃ میں ہے:

لأن الاقتداء شركة وموافقة فلابد من الاتحاد وسواء تغاير الفرضان أي وصفة كمن صلى ظهر أمس خلف من يصلي ظهر اليوم فإنه لا يجوز. (الجوهرة النيرة: ۷۳)

نور الایضاح میں ہے:

وأن لا يكون الإمام مصلياً فرضاً غير فرضه. وقال المحشي رحمه الله: قوله غير فرضه: مثل أن يصلي المأموم صلاة الظهر من يوم السبت والإمام من صلاة الظهر من يوم الأحد. (نور الإيضاح مع الحاشية: ۷٦ باب الإمامة، مجيديه)

نیز ملاحظہ ہو
: مراقي الفلاح: ۱۰۸ باب الإمامة، مكة المكرمة. إمداد الفتاح: ۳۳٤، باب الإمامة شروط صحة الاقتداء، بيروت).
ظ
اصولِ شرعیہ کلیہ سے متصادم ہے ۔ شریعتِ مطہرہ کا اصول یہ ہے کہ ہر نماز کی قضا ضروری ہے، ایک نماز بھی اگر ذمہ میں باقی ہے تو فردا بروزِ قیامت جواب دہی ہو گی ۔ نیز اگر صحیح تعداد معلوم نہ ہو تو اندازہ اور تخمینہ سے تعداد متعین کرے پھر ی کے بعد دیگرے تمام نمازوں کی قضا کرے ۔
ملاحظہ ہو بخاری شریف میں ہے:

عن أنس بن مالك رضي الله عنه عن النبي ﷺ قال: "من نسي صلاة فليصل إذا ذكر لا كفارة لها إلا ذلك ﴿أقم الصلاة لذكري﴾. (رواه البخاري: ۱/۸٤، باب من نسي صلاة، فيصل).

ایک حدیث شریف میں صرف نماز ِ عصر کے فوت ہونے کے بارے میں سخت الفاظ وارد ہوئے ہیں ۔ ملاحظہ ہو بخاری شریف میں ہے:

عن عبد الله بن عمر رضي الله عنه أن رسول الله ﷺ قال: الذي تفوته صلاة العصر كأنما وتر أهله وماله. (رواه البخاري، رقم: ٥٥۲).

صحیح ابن حبان میں ہے:

عن نوفل بن معاوية رضي الله عنه أن النبي ﷺ قال: "من فاتته الصلاة فكأنما وتر أهله وماله". قال شعيب الأرناؤوط: إسناده صحيح. (صحيح ابن حبان مع التعليقات).

حاشیۃ الطحطاوی میں ہے:

من لا يدري كمية الفوائت يعمل بأكبر رأيه فإن لم يكن له رأي يقض حتى يتيقن أنه لم يبق عليه شيء. (حاشية الطحطاوي على مراقي الفلاح، ص: ٤٤۷، ط: قديمي).
ظ
عظیم خرابی یہ ہے کہ جب کوئی بدعت کسی قوم میں گھر کر جاتی ہے تو اس کے مثل سنت کے نور سے وہ قوم محروم ہو جاتی ہے ۔ ملاحظہ ہو حدیث شریف میں ہے:

قال رسول الله ﷺ: "ما أحدث قوم بدعة إلا رفع مثلها من السنة فتمسك بسنة خير من إحداث بدعة. (رواه أحمد في مسنده، رقم: ۱۷۰۱۱، قال الشيخ شعيب: إسناده ضعيف لضعف أبي بكر بن عبد الله وهو ابن أبي مريم الغساني الشامي، بقية بن الوليد، وإن كان مدلساً، وقد عنعن، توبع وباقي رجاله ثقات رجال الصحيح غير غضيب بن الحارث (مختلف في صحبته كما في "التقريب").

دوسری روایت میں ہے کہ جب وہ سنت اٹھا لی جاتی ہے تو پھر قیامت تک اس قوم کو نہیں دی جاتی ۔
ملاحظہ ہو سنن دارمی میں ہے:

عن حسان بن عطية (من ثقات التابعين) قال: ما ابتدع قوم بدعة في دينهم إلا نزع الله من سنتهم مثلها ثم لا يعيدها إليهم إلى يوم القيامة. (رواه الدارمي في سننه، رقم: ۹۹).
قلت: إسناده صحيح إلا أنه من قول حسان رحمه الله وهو تابعي، ثقة، فقيه، عابد.
﴿تلك عشرة كاملة﴾

خلاصہ یہ ہے کہ مذکورہ بالا مفاسد کی وجہ سے مروجہ قضائے عمری بدعت ہے ۔
بطورِ قولِ فیصل علامہ لکھنوی رحمه الله کی عبارت ملاحظہ فرمائیں:

وبالجملة فهذه الصلاة التي اخترعوها مشتملة على مفاسد كثيرة، وأداء ها مع ما زعموا أنه قضاء لما فات خلاف المعقول والمنقول، ومضاد للفروع والأصول، والذي يدل على أن الصلاة المذكورة لا أصل لها خلو أكثر الكتب المعتمدة عن ذكرها

وكذلك كتب الشافعية والمالكية والحنبلية خالية عن ذلك، ومن المعلوم أنه لو كان لها أصل لبادروا إلى ذكرها، وذكر فضلها، كيف لا وهذه الصلاة على ما زعموا من أفضل الصلوات، حيث يكون أداء ركعات عديدة كفارة بجميع فوات العمر، بل عن فوائت الأجداد والأحفاد، فالغفلة عن مثل هذه الصلاة غفلة عظيمة، وهذا صاحب "جامع الرموز" جامع كل رطب ويابس لم يتنبه له، وصاحب "إحياء العلوم" مع اهتمامه بذكر العبادات الفاضلة وإن كانت رواياتها ضعيفة لم يتعرض له، وصاحب "خزانة الروايات" الجامع بين كل غث وسمين لم يذكره، وهذا كله يدل على عدم العبرة به. (ردع الإخوان عن محدثات آخر جمعة رمضان، ص ۱۳، مندرجة تحت مجموعة رسائل اللكنوي: ۲/۳٥۸، المكتبة الإمدادية).
وللاستزادة انظر: (مجموعة رسائل اللكنوي "ردع الإخوان من محدثات آخر جمعة رمضان": ۱/ ۲۱، وفتاوى حقانية: ۳/۳۰۱، وفتاوى فريديه: ۲/٦۱۷، ۳۲۱، وكفايت المفتي: ۳/۳۸۲، وفتاوى دار العلوم ديوبند: ٤/۳۳٥).

واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.