سورت ملانا بھول جانے کی وجہ سے سجدۂ سہو کا حکم:
Question
اگر کوئی نماز ی سورت ملانا بھول گیا اور رکوع میں چلا گیا تو واپس آنا ضروری ہے یا رکوع پورے کر کے آخر میں سجدہ سہو کرے؟
Answer
صورتِ مسئولہ میں واپس آنا چاہیے اور سورت ملانے کے بعد رکوع دوبارہ کر لے، لیکن اگر واپس نہیں آیا اور اخیر میں سجدۂ سہو کر لیا تو نماز درست ہے ۔ ملاحظہ ہو حاشیۃ الطحطاوی میں ہے:
ولوترك السورة فتذكر ما في الركوع أو بعد الرفع منه قبل السجود فأنه يعود ويقرأ السورة ويعيد الركوع، و عليه السهو لأنه بقراءة السورة وقعت فرضاً فيرتفض الركوع حتى لو لم يعده فسدت صلاته. (حاشية الطحطاوي على مراقي الفلاح: ٤٦۰، باب سجود السهو. وكذا في الشامي: ۲/۸٥، باب سجود السهو. وكذا في الفتاوى الهندية: ۱/۱۲٦)
مراقی الفلاح میں ہے:
وإن عاد الساهي عن القعود الأول إليه بعد ما استتم قائماً اختلف التصحيح في فساد صلاته وأرجحهما عدم الفساد لأن غاية ما في الركوع إلى القعدة زيادة قيام في الصلاة وهو وإن كان لا يحل لكنه بالصحة لا يخل
وقال صاحب البحر والحق عدم الفساد. (مراقي الفلاح: ۱۷۹، باب سجود السهو، مكة المكرمة)
اس عبارت سے معلوم ہوتا ہے کہ قعدہ چھوڑ کر قیام کی طرف چلا گیا پھر دو بارہ آگیا تو نماز فاسد نہ ہو گی حالانکہ فقہاء نے فرض سے واجب کی طرف لوٹنے کو منع فرمایا لیکن لوٹ آیا تو نماز فاسد نہیں ہوتی، تو صورتِ مسئولہ میں بھی فقہاء نے رکوع سے لوٹنے کو فرمایا تاکہ جو واجب چھوٹ گیا تھا اس کی تلافی کر لے اور جب نہیں لوٹا تو بدرجۂ اولیٰ نماز فاسد نہ ہونی چاہیے کیوں کہ رکوع سے نہ لوٹنا تو اخف ہے بنسبت اس کے جس میں قیام سے قعدہ کی طرف لوٹنا پایا جائے ۔
خلاصہ یہ ہے کہ صورتِ مسئولہ میں رکوع سے واپس نہ آنے کی صورت میں بھی سجدہ سہو کافی ہوگا اور نماز درست ہے، اگر چہ بعض مفتی حضرات نے فرمایا کہ نہ لوٹنے کی صورت میں نماز واجب الاعادہ ہے ۔ ملاحظہ ہو: احسن الفتاوی ٤/۲۳ ۔ لیکن یہ بات سمجھ میں نہیں آتی ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.