ریڈیو سے آیت سجدہ سن کر وجوبِ سجدہ کا حکم:
Question
ریڈیو سے آیتِ سجدہ سنی تو سجدہ واجب ہے یا نہیں؟
Answer
صورتِ مسئولہ میں اگر تلاوت کو کسی آلہ مثلا کسیٹ، سی ڈی یا ٹیپ ریکارڈ وغیرہ میں محفوظ کر لیا تھا وہ تلاوت ریڈیو پر نشر کی جا رہی ہے تو سامع پر سجدہ واجب نہیں ہے، اور اگر قاری تلاوت کر رہا ہے اور اس نے آیتِ سجدہ پڑھی تو سامع پر سجدۂ تلاوت واجب ہے، خلاصہ یہ ہے اصل تلاوت سے سجدہ تلاوت واجب ہوتا ہے نقل یا عکس سے سجدۂ تلاوت واجب نہیں ہوتا ۔ ملاحظہ ہو حاشیۃ الطحطاوی علی مراقی الفلاح میں ہے:
ولا تجب بسماعها من الصدى وهو ما يجيبك مثل صوتك في الجبال والصحاري ونحوها، الأولي قول بعضهم الصوت الذي يسمعه المصوت عقب صياحه راجعاً إليه من جبل أو بناء مرتفع فإنه لا إجابة في الصدى إنما هو محاكاة. (حاشية الطحطاوي على مراقي الفلاح: ٤۸٦، باب سجود التلاوة، قديمي)
نظام الفتاوی میں ہے:
ٹیپ ریکارڈ، گراموفون وغیرہ جن میں متکلم کی آواز بعینہ نہیں آتی بلکہ متکلم کی آواز کی نقل آتی ہے صدائے باز گشت وغیرہ میں آتی ہے، تو اس کی تلاوت کی بنا پر سجدۂ تلاوت واجب نہ ہوگا ۔
ریڈیو میں اکثر بیان کرنے والے کی تقریرو آواز ٹیپ کر لی جاتی ہے اور پھر اسی کو نشر کرایا جاتا ہے پس اگر ایسا ہو نے کا ظنِ غالب ہو تو اس کی آواز پر سجدۂ تلاوت کرنا لازم نہ رہے گا ۔
ہاں جب بولنے والا بغیر ان وسائل کے خود بول رہا ہے اور آیت سجدہ کی تلاوت کرے تو اس کی آیتِ سجدہ کی تلاوت کرنے پر سجدۂ تلاوت واجب ہو جائے گا، اور ریڈیو میں متکلم کی بعینہ آواز اور ٹیپ کی آواز میں موقعہ استعمال کا فرق مدلل طور پر ہو جاتا ہے اس کے اعتبار سے عمل کرے ۔ (منتخب نظام الفتاوی:
۱/۷۲
، اسلامک فقہ اکیڈمی)
نیز ملاحظہ ہو: فتاوی محمودیہ:
۷/٤۷۲
، باب سجود التلاوۃ، جامعہ فاروقیہ ۔ و احسن الفتاوی: ٤/
٦٥
۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.