ریڈیو پر نشر ہونے والے خطبہ کے سننے کا حکم:
Question
جب ریڈیو پر جمعہ کا خطبہ نشر کیا جا رہا ہو تو استماع واجب ہے نہیں؟
Answer
ریڈیو پر اگر خطیب کی آواز کو براہِ راست نشر کیا جا رہا ہے تو جن پر جمعہ واجب ہے ان کے لیے خطبہ کی جگہ آ کر سننا بھی واجب ہو گا اور نہ نہیں، اور اگر آواز کو ٹیپ کیا گیا تھا اس کو نشر کیا جا رہا ہے تو سننا واجب نہیں ہے ۔ جیسا کہ سجدۂ تلاوت کا حکم ہے ۔ ملاحظہ ہو حاشیۃ الطحطاوی میں ہے:
وفي النهر عن البدائع يكره الكلام حال الخطبة، وكذا كل عمل يشغله عن سماعها من قراءة قرآن أو صلاة أو تسبيح أو كتابة ونحوها بل يجب عليه أن يستمع ويسكت، في شرح الزاهدي يكره لمستمع الخطبة ما يكره في الصلاة من أكل وشرب وعبث والتفات ونحو ذلك، وفي الخلاصة كل ما حرم في الصلاة حرم حال الخطبة ولو أمراً بمعروف، وفي السيد استماع الخطبة من أولها إلى آخرها واجب
والنائي كالقريب. (حاشية الطحطاوي على مراقي الفلاح: ص ٥۱۹، قديمي. وكذا في إمداد الفتاح: ص ٥٦۹، واجبات الجمعة، بيروت)
نظام الفتاوی میں ہے:
ریڈیو، اس میں اکثر بیان کرنے والے کی تقریر و آواز ٹیپ کر لی جاتی ہے اور پھر اسی کو نشر کرایا جاتا ہے، پس اگر ایسا ہونے کا ظن غالب ہو تو اس کی آواز پر سجدۂ تلاوت کرنا لازم نہ رہے گا ۔ ہاں جب بولنے والا بغیر ان وسائل کے خود بول رہا ہے اور آیتِ سجدہ تلاوت کرے تو سجدۂ تلاوت واجب ہوگا، اور ریڈیو میں متکلم کی بعینہ آواز اور ٹیپ کی آواز میں موقعہ استعمال کا فرق مدلل طور پر ہو جاتا ہے اسی کے اعتبار سے عمل کرے ۔ (نظام الفتاوی: ۱/۷۲، کتاب الصلاۃ، فقہ اکیڈمی)
نیز ملاحظہ ہو: فتاوی محمودیہ: ۷/٤۷۲، مبوب و مرتب ۔ و جدید فقہی مسائل: ۱/۱۷۱، نعیمیہ دیوبند ۔ و آلاتِ جدیدہ کے شرعی احکام: ص ۱۷٤ ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.