ریڈیو اسلام پر قراءت نشر کر کے ایصالِ ثواب کرانے کا حکم:

5 min readFatwa Vol 2 #534Urdu
Vol. 2كتاب الصلاةباب (۱۹): احکام الجنائز

Question

ریڈیو اسلام پر مختلف قراء کی قراءت نشر کرتے ہیں بعض حضرات کچھ رقم دیتے ہیں تاکہ اس کا ثواب ان کے مرحوم رشتہ داروں کو پہنچ جائے کیا اس طرح ایصالِ ثواب کرانا صحیح ہے؟ اور اس طرح رقم لینا صحیح ہے یا نہیں؟ اور بہت سی مرتبہ قاری خود نہیں پڑھتا بلکہ ٹیپ ریکارڈ پر تلاوت جاری کرتے ہیں کیا اس کے سننے سے بھی ثواب ملے گا؟ اور مردوں کو ثواب پہنچے گا؟

Answer

اگر قاری کچھ رقم لے کر ایصالِ ثواب کے لیے قرآن پڑھ لے تو یہ ناجائز ہے، لیکن قاری کچھ نہ لے بلکہ کچھ رقم ریڈیو اسلام کے وقت کو مخصوص کرنے اور ریڈیو کے دوسرے اخراجات کے لیے ہو تو اس کی گنجائش نکل سکتی ہے، نیز جب قرآن کریم کا پڑھنا ثواب ہے سننا بھی باعثِ اجر ہے لہذا اس کا ایصالِ ثواب کرنا بھی درست اور صحیح ہے ۔ ملاحظہ ہو مشکوۃ شریف میں ہے:

عن أبي سعيد الخدري رضي الله عنه قال جلست في عصابة من ضعفاء المهاجرين وان بعضهم ليستتر ببعض من العري وقارئ يقرأ علينا إذ جاء رسول الله ﷺ فقام علينا فلما قام رسول الله ﷺ سكت القاري فسلم ثم قال ما كنتم تصنعون قلنا كنا نستمع إلى كتاب الله فقال الحمد ﷲ الذي جعل من امتي من أمرت أن أصبر نفسي معهم قال فجلس وسطنا ليعدل بنفسه فينا ثم قال بيده هكذا فتحلقوا وبرزت وجوههم له فقال أبشروا يا معشر صعاليك المهاجرين بالنور التام يوم القيمة تدخلون الجنة قبل أغنياء الناس بنصف يوم وذلك خمس مئة سنة. رواه أبو داود. (مشكوة شريف: ۱/۱۹۱، فضائل القرآن).

جہاں تک اجر و ثواب کا تعلق ہے وہ کلامِ الٰہی کے کان میں پڑنے سے متحقق ہو جائے گا، اور یہ خاموش رہنے اور آداب کی رعایت کے ساتھ سننے سے حاصل ہو جاتا ہے ۔
ٹیپ ریکارڈ سے سماعِ تلاوت پر اجر و ثواب کی دلیل ملاحظہ ہو :

قال الله تعالى: ﴿وإذا قرئ القرآن فاستمعوا له وأنصتوا لعلكم ترحمون﴾ (سورة الأعراف: ۲۰٤).

اس آیتِ کریمہ سے پتا چلتا ہے کہ جب قرآن کریم پڑھا جائے تو اس کو سننا چاہیے، پڑھنے والا چاہے کوئی بھی ہو ۔
"وإذا قرأتم"
نہیں فرمایا معلوم ہوا کہ ٹیپ ریکارڈ سے سننے میں بھی ثواب ملتا ہے ۔
علامہ شیخ محمد بخیت المطیعی الحنفی مفتی الدیار المصریۃ اپنے رسالہ
"أحكام قراءة الفونوغراف"
(
ص: ۹)
میں تحریر فرماتے ہیں: "
ومتي علمت أن ما يسمع من الصندوق من ألفاظ القرآن قرآن حقيقة وهو كلام الله بلا شك وأن صدوره منه وسماعه كصدوره من الإنسان وسماعه فإذا صدرت الكلمات القرآنية من ذلك الصندوق مستوفية للشروط بدون أن يكون بها خلل وقصد من رسم مخارج تلك الكلمات في الأسطوانات سماعها للعظة والتدبير فلا شك في الجواز وفي أن السماع عبادة.

فتاوی بینات میں ہے:
چونکہ کیسٹ سے وہ کلام اللہ کی آواز سن رہا ہے اور اس کے دل میں کلام اللہ کی عظمت میں اضافہ ہو رہا ہے اور دیگر گناہ کی چیزوں سے اپنے کانوں کو محفوظ رکھے ہوے ہے، اس لیے اس کو ریکارڈ شدہ تلاوت سننے پر اجر و ثواب ضرور ملے گا ۔ (فتاوی بینات، جلد چہارم، ص ٤۲۲) ۔
نیز ٹیپ ریکارڈ سے گانا سننے میں گناہ ہے تو تلاوت سننے میں ثواب بھی ہونا چاہیے، حضرت اقدس مولانا یوسف لدھیانوی رحمه الله نے تحریر فرمایا ہے کہ ٹیپ ریکارڈ سے تلاوت سننے میں ثواب نہیں یہ ان کی رائے ہے ہماری سمجھ سے بالا ہے ۔ ملاحظہ ہو: (آپ کے مسائل اور ان کا حل: ۳/۲۲۸ ۔ ۲۳۱) ۔
مولانا خالد سیف اللہ صاحب فرماتے ہیں:
قرآن سننے کے آداب کا تعلق ان تمام صورتوں سے ہے جن میں کسی مسلمان کے کان میں کلامِ الٰہی کے الفاظ پہنچ جائیں، خواہ وہ خود تلاوت کرنے والے کی زبان سے ہو یا کسی اور ذریعہ سے ۔ اس لیے سماعت کے آداب یعنی خاموشی اختیار کرنا اور قرآن مجید کی طرف متوجہ رہنا ٹیپ ریکارڈ سے قرآن سنتے وقت بھی ضروری ہے اور سننے والے کو چوں کہ اسی بنیاد پر اجر ملتا ہے ۔ اس لیے ان شاء اللہ اجر بھی ملے گا ۔ (جدید فقہی مسائل: ۱/۱۷۰) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
فصلِ ششم
تعزيت کا بیان

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.