خطبۂ نکاح سننے کا حکم:

3 min readFatwa Vol 3 #365Urdu
Vol. 3كتاب النكاحباب (۱): منگنی اور خطبہ نکاح کا بیان

Question

اگر ایک آدمی نکاح کی مجلس میں بیٹھ گیا یا مسجد میں بیٹھا ہوا تھا جب نکاح کا خطبہ شروع ہو تو چلا گیا، اس پر کوئی گناہ ہے یا نہیں؟

Answer

نکاح کا خطبہ مسنون ہے اور اس کے لیے بیٹھنا واجب نہیں ہے، لیکن پہلے سے بیٹھا ہو پھر خطبہ شروع ہو جائے تو اب سننا واجب ہے ۔ لہذا اٹھ کر چلے جانے پر گنہگار ہو گا اس طرح نہیں کرنا چاہیے ۔
ملاحظہ ہو اعلاء السنن میں ہے:

قال الشيخ: ولم أطلع على رواية فقهية في هذا الباب أنه هل يجب الجلوس لاستماع هذه الخطبة أم لا؟ نعم، ذكر في "الدر المختار" في باب الجمعة أنه يجب الاستماع لسائر الخطب، كخطبة النكاح وخطبة عيد وختم على المعتمد، لكن لا يلزم منه وجوب الجلوس كما في خطبة النكاح لا يجب الجلوس لكن إن جلس يجب استماعه، والظاهر أن يقال: إنه لا يجب الجلوس لخطبة العيد كما لا يجب نفس خطبة العيد، ولكن إن جلس يجب استماعه، كما قالوا: إن من حضر التلاوة يجب استماعه مع عدم وجوب الجلوس له، فإن ظفر أحد بالرواية الفقهية في هذا الباب فليخبرنا أو يلحق بهذا المقام.

فثبت أن التخلف عن خطبة العيد جائز. وأما إذا جلس لها فيكره الكلام وترك الاستماع لها، كما صرح به في الدر. (إعلاء السنن: ۸/۱٤٤، كيفية صلاة العيدين، إدارة القرآن).

ابن ماجہ شریف کی روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ بیٹھنا واجب نہیں ہے بلکہ اختیار ہے ۔ ملاحظہ ہو :

عن عبد الله بن السائب رضي الله عنه قال حضرت العيد مع رسول الله ﷺ فصلى بنا العيد ثم قال: قد قضينا الصلاة فمن أحب أن يجلس للخطبة فليجلس ومن أحب أن يذهب فليذهب. (رواه ابن ماجة: ص ۹۱، باب ما جاء في انتظار الخطبة بعد الصلاة، قديمي. وأبو داود: ۱/۱٦۳، باب الجلوس للخطبة، وقال: هذا حديث مرسل. والنسائي: ۱/۲۳۳، باب التخيير بين الجلوس للخطبة).

شراح حدیث نے بھی یہی تشریح فرمائی ہے کہ بیٹھنا واجب نہیں ہے ۔
ملاحظہ ہو: (
عون المعبود: ٤/۱۲. وحاشية السندي على سنن النسائي: ۳/٤۳. وفتح الباري لا بن رجب الحنبلي: ٦/۱٤۸).

احسن الفتاوی میں ہے:
سوال: کوئی خطیب صاحب نکاح کا خطبہ پڑھ رہے ہوں، یا منبر پر تقریر کرنے کے لیے خطبہ مسنونہ پڑھ رہے ہوں، اس وقت حاضرین کا آپس میں بات چیت کرنا یا کوئی دنیوی کام کرنا کیسا ہے؟
الجواب: جائز نہیں ہے،
قال في العلائية وكذا يجب الاستماع لسائر الخطب كخطبة النكاح وخطبة عيد

(
احسن الفتاوی: ۵/۳۵) ۔
امداد الفتاوی میں ہے:
سنن ابی خطبوں کا واجب ہے ۔ (امداد الفتاوی: ۱/٤۵۸) ۔
امداد المفتین میں ہے:
خطبہ عید کا پڑھنا اور سننا سنتِ مؤکدہ ہے، لیکن جب خطبہ پڑھا جائے تو خطبہ سننا واجب ہو جاتا ہے اس وقت کلام وغیرہ کرنا ناجائز ہے اور شور مچانا سخت گناہ ہے ۔ (امداد المفتین: ۱/۳۳۰، بحوالہ در مختار ۔ و امداد الفتاوی: ۱/٤۵۸ ۔ و فتاوی محمودیہ: ۸/٤۵٦، مبوب و مرتب) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.