مسافت قصر کی مقدار:

9 min readFatwa Vol 2 #376Urdu
Vol. 2كتاب الصلاةباب (۱۵): مسافرت میں نماز پڑھنے کا بیان

Question

مذہبِ احناف کے مطابق کتنی مسافت طے کرنے پر احکامِ سفر وابستہ ہوں گے؟

Answer

مذہبِ احناف میں ظاہر الروایہ کے مطابق مسافت کی مقدار تین دن درمیانی رفتار سے چلنا ہے، علاوہ ازیں فرسخ و میل وغیرہ کا اعتبار نہیں کیا گیا ۔ ملاحظہ ہو:
مراقي الفلاح: ص۱٦۲، بيروت. والهداية: ۱/۱٦٥. والفتاوى الهندية: ۱/۱۳۸، وغيره.

البتہ موجودہ زمانہ میں عوام الناس کی سہولت اور آسانی کی غرض سے علمائے متأخرین نے فرسخ و میل کا اعتبار کیا ہے ۔
چنانچہ تعیینِ فرسخ میں بھی مختلف اقوال پائے جاتے ہیں مثلاً: ۱۵، ۱٦، ۱۸، ۲۱ وغیرہ ائمہ ثلاثہ سے منقول ہیں ۔
پھر مفتی بہ قول میں بھی مختلف اقوال ہیں: مثلاً بعض علماء نے ۱۸ فرسخ پر فتوی نقل کیا ہے ملاحظہ ہو:
الشامي: ۲/ ۱۲۳، سعيد. الفتاوى التاتارخانية: ۲/۲. شرح منية المصلي: ص٥۳٥، سهيل. عمدة القاري: ٥/۳۸٥. حاشية الدرر على الغرر: ۱/۸۱. وغيره.

اس کے مقابل بعض دوسرے حضرات نے ۱۵ فرسخ والے قول پر فتوی نقل کیا ہے، جو ائمہ خوارزم کا مفتی بہ قول ہے ۔ ملاحظہ ہو:
الشامي: ۲/۱۲۳، سعيد. بدائع الصنائع: ۱/۹۳، سعيد. البحر الرائق: ۲/۱۲۹، كوئتة. حاشية الطحطاوي على مراقي الفلاح: ص ٤۲۱. وغيره.

ہمارے اکابر سے بھی مختلف اقوال منقول ہیں: مثلاً حضرت مولانا نانوتوی رحمه الله سے ۲٤ میل ۔ حضرت مفتی کفایت اللہ رحمه الله اور حضرت مولانا خلیل احمد سہارنپوری رحمه الله اور حضرت مولانا عبد الحی لکھنوی رحمه الله وغیرہ سے ۳٦ میل انگریزی ۔ حضرت مولانا یعقوب نانوتوی رحمه الله سے ٤۸ میل ۔ حضرت مولانا ظفر احمد تھانوی رحمه الله، حضرت مفتی محمد شفیع صاحب رحمه الله اور علامہ یوسف بنوری رحمه الله وغیرہ سے ٤۵ میل (یعنی ۱۵ فرسخ جو ائمہ خوارزم کا مفتی به قول ہے) منقول ہیں ۔
نیز اکثر اکابر حضرات سے ٤۸ میل منقول ہیں وہ بھی ٤۵ میل شرعی کو انگریزی میں منتقل کرنے کی وجہ سے ہے پھر ٤۸ میل انگریزی سے حساب لگا کر ۷۸ کلومیٹر بنائے، اسی وجہ سے ۷۸ والا قول مشہور ہے ۔
لیکن اگر ٤۵ میل شرعی کو انگریزی میں منتقل نہ کریں تو جدید حساب کے اعتبار سے ۸۲ کلومیٹر ۲۹٦ میٹر بنتا ہے ۔
خلاصہ یہ ہے کہ ائمہ خوارزم کے قول کا اعتبار کرتے ہوے جس کو ہمارے اکابر رحمه الله نے اختیار فرمایا ہیں، مسافتِ قصر کی مقدار ۱۵ فرسخ، یعنی ٤۵ میل شرعی بحساب ۸۲ کلومیٹر ۲۹٦ میٹر ہے ۔
یہ قول اس وجہ سے اختیار کیا گیا ہے کہ اکابر رحمه الله کی موافقت کے ساتھ ساتھ ائمہ ثلاثہ کے قول کے قریب بھی ہے، اور اس میں آسانی بھی ہے ۔ دلائل ملاحظہ فرمائیں: اعلاء السنن میں ہے:

عن عبد الرحمن بن أبي بكر عن أبيه "أن رسول الله ﷺ وقت في المسح على الخفين ثلاثة أيام ولياليهن للمسافر، وللمقيم يوم وليلة" رواه ابن حبان في صحيحه زيلعي: ۱/۸۷، وقال الطحاوي في معاني الآثار (۱/۱٥۰): قد تواترت الآثار عن رسول الله ﷺ في المسح على الخفين للمسافر ثلاثة أيام ولياليها، وللمقيم يوم وليلة. (إعلاء السنن: ۷/۲٦۹/۱۹۷۰، باب مسافت القصر، إدارة القرآن).

دوسری جگہ مذکور ہے:

وفي البحر عن المجتبى: فتوي أكثر أئمه خوارزم على خمسة عشر فرسخاً قلت: وهذا أقرب إلى ما علقه البخاري ونصه كان ابن عمر رضي الله عنه وابن عباس رضي الله عنه يقصران ويفطران في أربعة برد وهو ستة عشر فرسخاً. (إعلاء السنن: ۷/۲۸۳، إدارة القرآن كراچي)

بدائع الصنائع میں ہے:

واختلفوا في التقدير قال أصحابنا: مسير ثلاثة أيام سير الإبل ومشي الأقدام وهو المذكور في ظاهر الروايات وروي عن أبي يوسف رحمه الله يومان وأكثر الثالث، وكذا روي الحسن عن أبي حنيفة رحمه الله وابن سماعة عن محمد رحمه الله ومن مشايخنا من قدره بخمسة عشر فرسخاً وجعل لكل يوم خمس فراسخ ومنهم من قدره بثلاث مراحل وقال مالك رحمه الله: أربعة برد كل بريد اثنا عشر ميلاً واختلفت أقوال الشافعي فيه قيل ستة وأربعون ميلاً وهو قريب من قول بعض مشايخنا لأن العادة أن القافلة لا تقطع في يوم أكثر من خمسة فراسخ. (بدائع الصنائع: ۱/۹۳، بيان ما يصير به المقيم مسافراً، سعيد)

البحر الرائق میں ہے:

وأشار المصنف رحمه الله إلى أنه لا اعتبار بالفراسخ وهو الصحيح

وفي النهاية الفتوى على اعتبار ثمانية عشر فرسخاً وفي المجتبى: فتوي أكثر أئمه خوارزم على خمسة عشر فرسخاً. (البحر الرائق: ۲/۱۲۹، باب المسافر، الماجدية)

شامی میں ہے:

قوله: ولا اعتبار بالفراسخ

على المذهب، لأن المذكور في ظاهر الرواية اعتبار ثلاثة أيام كما في الحلية وقال في الهداية: هو الصحيح احترازاً عن قول عامة المشايخ من تقديرها بالفراسخ، ثم اختلفوا فقيل: أحد وعشرون، وقيل: ثمانية عشر، وقيل: خمسة عشر، والفتوى على الثاني لأنه الأوسط، وفي المجتبى: فتوي أئمة خوارزم على الثالث، وجه الصحيح أن الفراسخ تختلف باختلاف الطريق في السهل والجبل والبر والبحر بخلاف المراحل، معراج. (الشامي: ۲/۱۲۳، باب صلاة المسافر، سعيد. وكذا في حاشية الدرر للعلامة الشرنبلالي: ۱/۱۳۲، باب المسافر. وكذا في معارف السنن: ٤/٤۷۳، تحقيق مسافت القصر، سعيد)

جواہر الفقہ میں حضرت مفتی محمد شفیع صاحب رحمه الله فرماتے ہیں:
راجح اور صحیح مذہب امام اعظم رحمه الله کا یہ ہے کہ کسی خاص مقدار کی تحدید میلوں وغیرہ سے نہ کی جاوے بلکہ تین دن اور تین رات میں جس قدر مسافت انسان پیدل چل کر بآسانی طے کر س کے یا اونٹ کی سواری پر بآسانی طے کرے وہ مقدار مسافتِ سفرِ شرعی ہے ۔
اس کے خلاف بعض فقہاء نے فراسخ یا میلوں کی تعیین بھی فرمائی ہے ۔ حضرت امام مالک رحمه الله کا مذہب ہے کہ ٤۸ میل سے کم میں قصر نہ کرے اور یہی امام احمد رحمه الله کا مذہب ہے اور امام شافعی رحمه الله کی ایک روایت یہی ہے ۔ اور مشائخ حنفیہ میں سے بعض نے اکیس فرسخ جس کے تریسٹھ میل ہوتے ہیں ۔ اور بعض نے اٹھارہ فرسخ جس کے چون میل ہوتے ہیں ۔ اور بعض نے پندرہ فرسخ جس کے پینتالیس میل ہوتے ہیں مسافتِ قصر قرار دی، عمدۃ القاری میں اٹھارہ فرسخ پر فتوی نقل کیا ہے، اور شامی اور بحر نے بحوالہ مجتبی اکثر ائمہ خوارزم کا فتوی پندرہ فرسخ کی روایت پر ذکر کیا ہے ۔
ہندوستان کے عام بلاد میں چونکہ راستے تقریباً مساوی ہیں پہاڑی یا دشوار گزار نہیں ہیں اس لیے علمائے ہندوستان نے میلوں کے ساتھ تعیین کر دی ہے ۔
نیز محققین علمائے ہندوستان نے ٤۸ میل انگریزی کو مسافتِ قصر قرار دیا ہے جو اقوال فقہاء مذکورین کے قریب قریب ہے ۔ اور اصل مدار اس کا اسی پر ہے کہ اتنی ہی مسافت تین دن تین رات میں پیادہ مسافر بآسانی طے کر سکتا ہے، اور فقہائے حنفیہ کے مفتی بہ اقوال میں سے جو فتوی ائمہ خوارزم کا پندرہ فرسخ کا نقل کیا گیا ہے وہ تقریباً اس کے بالکل مطابق ہے، کیوں کہ پندرہ فرسخ کے ٤۵ میل شرعی ٤۸ میل انگریزی سے کچھ زیادہ متفاوت نہیں رہتے ۔
اور ٤۸ میل کی تعیین پر ایک حدیث سے بھی استدلال کیا گیا ہے، جو دار قطنی نے حضرت عبد اللہ بن عباس رضي الله عنه سے روایت کی ہے کہ آنحضرت ﷺ نے ارشاد فرمایا: اے اہل مکہ چار برید سے کم میں نماز کا قصر مت کرو جیسے مکہ سے عسفان تک ۔

عن ابن عباس رضي الله عنه: أن رسول الله ﷺ قال: يا أهل مكة لا تقصروا الصلاة في أدني من أربعة برد من مكة إلى عسفان. (رواه الدارقطني: ۱/۳۸۷، باب قدر المسافة التي تقصر في مثلها صلاة، القاهرة)

اس روایت کی سند میں اگر چہ ایک راوی ضعیف ہے ۔
(جواہر الفقہ: "اوزانِ شرعیہ":
۱/٤۳٥
، مسافتِ سفر کی تحقیق، دار العلوم کراچی)
ایضاح المسائل میں ہے:
٤۵ میل شرعی کا اعتبار کیا جائے تو میٹروں کے حساب سے ۸۲ کلومیٹر ۲۹٦ میٹر مسافتِ سفر بنتی ہے، تو معلوم ہوا کہ شرعی میل کے لحاظ سے ۸۲ کلومیٹر ۲۹٦ میٹر سے کم کی مسافت میں قصر جائز نہ ہوگا ۔ (ایضاح المسائل: ص ٦
۸
، سفرِ شرعی کی مسافت پر سیر حاصل تحقیقی بحث، از مفتی شبیر احمد قاسمی، نعیمیہ دیوبند)
نیز ملاحظہ ہو:
إمداد المفتين: ۱/۲٦۳، دار الاشاعت. والمقاييس والمقادير عند العرب: ص ۹۰، تأليف: الشهيدة نسيبة محمد فتحي الحريري، دار المعارف ديوبند).

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.