وطنِ اقامت میں سامان چھوڑ کر سفر کرنے سے وطنِ اقامت کا حکم:

3 min readFatwa Vol 2 #382Urdu
Vol. 2كتاب الصلاةباب (۱۵): مسافرت میں نماز پڑھنے کا بیان

Question

اگر کوئی شخص ڈربن کا رہنے والا ہے، اور لینس میں مقیم ہے، نیز سامان وغیرہ بھی لینس میں ہے، لیکن لینس وطنِ اصلی نہیں وطنِ اقامت ہے پھر سفر کر کے وائٹ ریور چلا گیا اور واپسی میں لینس میں صرف ۵ دن قیام کا ارادہ ہے تو ان ۵ دنوں میں قصر کرے گا یا اتمام؟

Answer

اس مسئلہ میں ہمارے اکابر رحمه الله کے درمیان اختلاف ہے ۔ بعض حضرات کی رائے یہ ہے کہ مطلق سفر سے وطنِ اقامت باطل ہو جاتا ہے ۔ اور دیگر بعض حضرات کی رائے یہ ہے کہ سامان وغیرہ ہونے کی وجہ سے باطل نہیں ہو گا بلکہ جب واپس آئے گا تو اتمام ہی کرے گا ۔ موجود ہ زمانہ میں حضرت مفتی رشید صاحب، حضرت مفتی عبد الستار صاحب اور حضرت مفتی فرید صاحب اور بعض دوسرے حضرات نے آسانی کی خاطر اسی پر فتوی دیا ہیں ۔ ملاحظہ ہو البحر الرائق میں ہے:

وفي المحيط ولو كان له أهل بالكوفة وأهل بالبصرة فمات أهل بالبصرة وبقي له دور وعقار بالبصرة قيل البصرة لا تبقي وطناً له لأنها إنما كانت وطناً بالأهل لا بالعقار ألا تري أنه لو تأهل ببلدة لم يكن له فيها عقار صارت وطناً له وقيل تبقي وطناً له لأنها كانت وطناً له بالأهل والدار جميعاً فبزوال أحدهما لا يرتفع الوطن كوطن الإقامة يبقى ببقاء الثقل وإن أقام بموضع آخر. (البحر الرائق: ۲/۱۳٦، باب المسافر، الماجدية. وكذا في مجمع الأنهر شرح ملتقى الأبحر: ۱/۱٦٤، باب صلاة المسافر. بحواله محيط السرخسي)

بدائع الصنائع میں ہے:

ووطن الإقامة ينتقض بالوطن الأصلي

وينتقض بالسفر أيضاً لأن توطنه في هذا المقام ليس للقرار ولكن لحاجة فإذا سافر منه يستدل به على قضاء حاجته فصار معرضاً عن التوطن به فصار ناقضاً له دلالة. (بدائع الصنائع: ۱/۱۰٤، مطلب في أن الأوطان ثلاثة، سعيد)

بحر اور بدائع کی عبارات سے معلوم ہوتا ہے کہ اگر سامان وہاں پڑا ہے اور وطن اقامت سے اعراض کا ارادہ بھی نہیں ہے تو محض سفر سے وطنِ اقامت باطل نہیں ہوگا۔
خیر الفتاوی میں ہے:
مستقل وطنِ اقامت سفر سے باطل نہیں ہوتا۔ (خیر الفتاوی:
۲/٦۸۷
)۔
تفصیل کے لیے ملاحظہ فرمائیں:
(احسن الفتاوی "رسالة وطن الارتحال يبقى ببقاء الأثقال" ٤/۹۸
۔
۱۱۰، باب صلا
ۃ
المسافر)
۔

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.