حالت حیض میں سفر کا حکم:

2 min readFatwa Vol 2 #384Urdu
Vol. 2كتاب الصلاةباب (۱۵): مسافرت میں نماز پڑھنے کا بیان

Question

ایک عورت جوہانسبرگ سے حائضہ تھی ڈربن پہنچی تو پاک ہو گئی۔ ڈربن میں تین دن قیام ہے وہاں قصر کرے گی یا اتمام؟

Answer

حالتِ حیض میں سفر احکام کے اعتبار سے کالعدم ہے یعنی اس کا شمار نہیں ہے لہذا حائضہ عورت ڈربن کے قیام میں پاک ہو کر اتمام کرے گی، البتہ واپسی میں قصر کرے گی۔ ملاحظہ ہو شامی میں ہے:

طهرت الحائض وبقي لمقصدها يومان تتم في الصحيح كصبي بلغ بخلاف كافر أسلم (قوله: تتم في الصحيح) كذا في الظهيرية قال ط: وكأنه لسقوط الصلاة عنها فيما مضي لم يعتبر حكم السفر فيه فلما تأهلت للأداء اعتبر من وقته. (شامي: ۲/۱۳٥، باب صلاة المسافر. وكذا في حاشية الطحطاوي على الدر المختار: ۱/۳۳۷. وشرح منية المصلي: ص٥٤۲، سهيل ايكدمي).
وفي البحر الرائق: أما في الرجوع فإن كانت مدة سفر قصروا. (البحر الرائق: ۲/۱۲۸. وكذا في الشامي: ۲/۱۲۲، سعيد. والطحطاوي على الدر المختار: ۱/۳۳۰).

بہشتی زیور میں ہے:
مسئلہ: چار منزل جانے کی نیت سے چلی لیکن پہلی دو منزلیں حیض کی حالت میں گزریں تب بھی وہ مسافر نہیں ہے۔ اب نہا دھو کر پوری چار رکعتیں پڑھے۔ (بہشتی زیور دوسرا حصہ: ص ٤
۹
)۔
نیز ملاحظہ ہو: احسن الفتاوی: ٤/
۸۷
۔ و عمدۃ الفقہ: کتاب الصلاۃ حصہ دوم: ص ٤
۱
٤۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.