حائضہ کے سفر کے بارے میں دوسرا قول:

4 min readFatwa Vol 2 #385Urdu
Vol. 2كتاب الصلاةباب (۱۵): مسافرت میں نماز پڑھنے کا بیان

Question

حائضہ کے سفر کے بارے میں دوسرا قول:

Answer

مسئلہ مذکورہ کے بارے میں ایک قول تو یہ ہے کہ مقامِ طہارت سے ابتدائے سفر کا اعتبار ہے جیسا کہ اوپر مذکور ہوا لیکن دوسرے فقہاء نے لکھا ہے کہ ابتدائے سفر کا اعتبار ہے، مقامِ طہارت کا اعتبار نہیں، چنانچہ مذکورہ عورت ڈربن میں قصر کرے گی۔ ملاحظہ کیجیے علامہ شرنبلالی رحمه الله فرماتے ہیں:

قال في مختصر الظهيرية: الحائض إذا طهرت وبينها وبين المقصد أقل من ثلاثة أيام تصلي أربعاً هو الصحيح، قلت: ولا يخفي أنها لا تنزل عن رتبة الذي أسلم فكان حقها القصر مثله. (حاشية الشرنبلالية على الدرر: ۱/۱۳۲).
وقال في المحيط البرهاني: وفي متفرقات الفقيه أبي جعفر

وأما الحائض إذا طهرت في بعض الطريق قصرت الصلاة، لأنها مخاطبة. (المحيط البرهاني: ۲/٤۱).

الجوہرۃ النیرۃ میں مذکور ہے:

(قوله والحيض يسقط عن الحائض والصلاة) فيه إشارة إلى أنها وجبت عليها الصلاة ثم سقطت وهذه المسألة اختلف فيها الأصوليون وهي أن الأحكام هل هي ثابتة على الصبي والمجنون والحائض أم لا؟ فاختار أبو زيد الدبوسي أنها ثابتة والسقوط بعذر الحرج، قال: لأن الآدمي أهل لوجوب الحقوق عليه ألا تري أن عليه عشر أرضه وخراجها بالإجماع و عليه الزكاة عند الشافعي وكلام الشيخ بناء على هذا. (الجوهرة النيرة: ۱/۳٤، إمدادية ملتان). (وكذا في البناية شرح الهداية: ۱/٦۳٤، مكتبه رشيديه، كوئٹه).
قال في الشامية: وأجاب في نهج النجاة بأن مانعها سماوي بخلافه، أي وإن كان كل منهما من أهل النية بخلاف الصبي، لكن منعها من الصلاة ما ليس بصنعها فلغت نيتها من الأول، بخلاف الكافر فإنه قادر على إزالة المانع من الابتداء فصحت نيته. (فتاوى الشامي: ۲/۱۳٥، سعيد).

مذکورہ بالا کتبِ فقہ مثلاً: حاشیہ شرنبلالیہ، متفرقات فقیہ ابی جعفر اور جوہرہ وغیرہ کی عبارات سے معلوم ہوا کہ حائضہ کا سفر اپنی بستی سے شروع ہو جاتا ہے وقتِ طہارت سے نہیں۔ بظاہر یہ قول آسان اور بہتر ہے کیوں کہ حائضہ اور کافر دونوں مکلف ہونے اور بالغ ہونے کی وجہ سے سفر کی نیت کی اہلیت رکھتے ہیں۔
اور علامہ شامی رحمه الله نے نہج النجاۃ سے جو بات نقل کی ہے کہ حائضہ کا عذر مانع سماوی ہے کہ وہ من جانب اللہ نماز کی اہل نہیں تو اس کی نیتِ صلوٰۃ لغو ہے تو اس کے متعلق عرض ہے کہ یہاں صلوٰۃ کی نیت مراد نہیں کہ وہ لغو ہو جائے بلکہ قطع مسافت کی نیت مراد ہے اور اس میں کافر اور حائضہ دونوں برابر ہیں، نیز حائضہ کو ابتدائے سفر سے مسافرہ سمجھنا آسان اور معقول ہے، ہاں صبی کی نیت عدمِ بلوغ کی وجہ سے ناقص ہے اس لیے اس کے سفر کے احکام وقتِ بلوغ سے شروع ہوں گے۔
بالفاظِ دیگر صبی غیر مکلف ہے اب مکلف بن گیا اور کافر اور حائضہ دونوں بالغ ہیں ہاں نماز کے بارے میں دونوں غیر مکلف ہیں لیکن سفر کی نیت کی اہلیت رکھتے ہیں، نیز حائضہ کے عذر کے سماوی ہونے اور اس کے بے قصور ہونے کا تقاضا بھی یہی ہے کہ حائضہ اور نفساء کو ابتدائے سفر سے مسافرہ تسلیم کیا جائے تاکہ ان کو قصر اور سنتِ مؤکدہ کے نہ پڑھنے کی رعایت مل جائے اور اس پر اتمام کا بوجھ نہ پڑے گویا یہ ایک قسم کا استحسان ہو جائے گا۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.