جمع بین الصلاتین شوافع کے نزدیک جائز ہے احناف کیوں نہیں کرتے؟
Question
مسافر کے لیے عند الشوافع جمع بین الصلاتین جائز ہے ایک شخص کا یہ اشکال ہے کہ پھر کیوں حنفی کے لیے ایسا کرنا جائز نہیں ہے؟ سمجھانے کے باوجود وہ نہیں مانتا اور یہ شخص سلفی قسم کا آدمی ہے۔
Answer
تمام ائمہ کرام نے انتہائی دیانت اور امانت سے دلائل شرعیہ کی روشنی میں مسائل شرعیہ کا استنباط کیا اور جس مسئلہ کو دلائل و نصوص کی روشنی میں ثابت پایا اسے راجح قرار دیا۔ اب ہمارے لیے ضروری ہے کہ جو جس امام کا مقلد ہو اسی امام کی پیروی کرے خواہشات پر نہ چلے ورنہ دین دین نہیں رہے گا، اتباع ہویٰ بن جائے گا، لہذا اس مسئلہ میں بھی حنفیہ نے دلائل اور نصوصِ قطعیہ کی روشنی میں اس جانب کو ترجیح دی ہے کہ جمع بین الصلاتین جائز نہیں ہے اور جہاں بھی جمع بین الصلاتین کی روایات پائی جاتی ہیں ان سے جمع حقیقی مراد نہیں ہے بلکہ جمع صوری مراد ہے یعنی ایک نماز کو آخرِ وقت میں پڑھا اور دوسری نماز کو اولِ وقت میں پڑھا۔
چنانچہ ایسی روایات کو جمع حقیقی پر محمول کرنے سے بہت سے دلائل مانع ہیں۔ مثلاً قرآن کریم میں ہے:
ـــ
(۱) ﴿حافظوا على الصلوات والصلاة الوسطي﴾
(۲) ﴿إن الصلاة كانت على المؤمنين كتاباً موقوتاً﴾
ان آیات کے ذیل میں مفسرین و علمائے محققین نے یہی فرمایا ہے کہ ہر نماز کے لیے مستقل وقت ہے ایک نماز کو دوسری کے وقت میں پڑھنا درست نہیں ہے۔ احادیث ملاحظہ ہو بخاری شریف میں ہے:
(۳) قال سمعت أبا عمرو الشيباني يقول حدثنا صاحب هذه الدار وأشار إلى دار عبد الله بن مسعود رضي الله عنه فقال: سألت النبي ﷺ أي العمل أحب إلى الله قال: الصلاة على وقتها. (رواه البخاري: ۱/۷
٦
)
اس حدیث شریف سے معلوم ہوا کہ نماز کو اپنے وقت میں پڑھنا اللہ کے نزدیک محبوب ترین عمل ہے۔
(٤) بخاری شریف میں ہے:
عن عبد الله بن مسعود رضي الله عنه قال: ما رأيت النبي ﷺ صلى صلاة لغير ميقاتها إلا صلاتين جمع بين المغرب والعشاء (بالمزدلفة) وصلي الفجر (يومئذٍ) قبل ميقاتها. (بخاري شريف: ۱/۲۲۸)
جمع صوری کے دلائل: علامہ شوکانی رحمہ الله فرماتے ہیں:
ومما يدل على تعيين حمل حديث الباب على الجمع الصوري ما أخرجه النسائي عن ابن عباس رضي الله عنه بلفظ "صليت مع النبي ﷺ الظهر والعصر جميعاً والمغرب والعشاء جميعاً أخر الظهر وعجل العصر، وأخر المغرب وعجل العشاء" فهذا ابن عباس رضي الله عنه راوي حديث الباب قد صرح بأن ما رواه من الجمع المذكور هو الجمع الصوري. (نيل الاوطار: ۳/۲۳۰، باب جمع المقيم لمطر أو غيره)
اس کی تائید میں ایک اور روایت نقل کرتے ہیں ملاحظہ ہو:
ومما يؤيد ذلك ما رواه الشيخان عن عمرو بن دينار أنه قال: "يا أبا الشعثاء أظنه أخر الظهر وعجل العصر، وأخر المغرب وعجل العشاء؟ قال: وأنا أظنه، وأبو الشعثاء هو راوي الحديث عن ابن عباس رضي الله عنه كما تقدم. (نيل الاوطار: ۳/۲۳۰، باب جمع المقيم لمطر أو غيره)
حضرت عبد اللہ بن مسعود رضي الله عنه بھی جمع صوری کے قائل تھے ورنہ ان کی روایتوں میں تعارض ہو جائے گا اس لیے کہ انہوں نے فرمایا کہ نبی پاک ﷺ نے عرفہ اور مزدلفہ کے علاوہ کبھی دو نمازوں کو جمع نہیں فرمایا۔
علامہ شوکانی فرماتے ہیں:
نفي ابن مسعود رضي الله عنه مطلق الجمع وحصره في جمع المزدلفة مع أنه ممن روى حديث الجمع بالمدينة كما تقدم، وهو يدل على أن الجمع الواقع بالمدينة صوري، ولو كان جمعاً حقيقياً لتعارض روايتاه. (نيل الاوطار: ۳/۲۳۰، باب جمع المقيم لمطر أو غيره)
حافظ ابن حجر رحمه الله جو شافعی المسلک ہے وہ خود فرماتے ہیں کہ جمع صوری کا رجحان زیادہ قوی ہے۔
قال الحافظ أيضاً: ويقوي ما ذكر من الجمع الصوري أن طرق الحديث كلها ليس فيها تعرض لوقت الجمع، فإما أن يحمل على مطلقها فيستلزم إخراج الصلاة عن وقتها المحدود بغير عذر وإما أن يحمل على صفة مخصوصة لا يستلزم الإخراج ويجمع بين متفرق الأحاديث، فالجمع الصوري أولي والله أعلم. (نيل الاوطار: ۳/۲۳۰، باب جمع المقيم لمطر أو غيره)
اسی طرح حضرت انس رضي الله عنه کے اثر سے معلوم ہوتا ہے کہ صحابہ کرام
ث
جمع صوری کو جمع سے تعبیر کیا کرتے تھے۔ ملاحظہ ہو مجمع الزوائد میں ہے:
وعن أنس رضي الله عنه أنه كان إذا أراد أن يجمع بين الصلاتين في السفر أخر الظهر إلى آخر وقتها وصلاها وصلي العصر في أول وقتها ويصلي المغرب في آخر وقتها ويصلي العشاء في أول وقتها، ويقول هكذا كان رسول الله ﷺ يجمع بين الصلاتين في السفر. (مجمع الزوائد: ۲/۱٦۳، دار الفكر)
نیز حضرت عبد اللہ بن عمر رضي الله عنہ کی روایت سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ آنحضرت ﷺ سفر میں جمع صوری فرماتے تھے۔ ملاحظہ ہو شرح معانی الآثار میں ہے:
عن نافع قال: أقبلنا مع ابن عمر رضي الله عنه حتى إذا كنا ببعض الطريق استصرخ على زوجته بنت أبي عبيد فراح مسرعاً حتى غابت الشمس فنودي بالصلاة فلم ينزل حتى إذا أمسي فظننا أنه قد نسي فقلت الصلاة فسكت حتى إذا كادت الشفق أن يغيب نزل فصلي المغرب وغاب الشفق فصلي العشاء وقال: هكذا كنا نفعل مع رسول الله ﷺ إذا جد بنا السير. (شرح معاني الآثار: ۱/۱۲۱، باب الجمع بين الصلاتين كيف هو)
حضرت مولانا خلیل احمد سہارنپوری رحمہ الله تحریر فرماتے ہیں:
واستدل الحنفية على عدم جواز الجمع حقيقة في غير عرفات والمزدلفة بقوله تعالى: ﴿حافظوا على الصلوات﴾ أي أوردوها في أوقاتها وبقوله تعالى: ﴿إن الصلاة كانت على مؤمنين كتاباً موقوتاً﴾ أي لها وقت معين له ابتداء لا يجوز التقدم عليه وانتهاء لا يجوز التأخر عنه، وحملوا الروايات التي فيها الجمع في السفر على الجمع الصوري لأنه ﷺ صلى أول الصلاة في آخر وقتها وثانيها في أول وقتها لئلا يعارض خبر الواحد الآية القطعية". (بذل المجهود في حل أبي داود:
٦
/۲۸۳، المكتبة الإمدادية)
نیز محدثین میں سے بھی کئی حضرات نے جمع حقیقی کا صراحۃً انکار کیا ہے۔ ملاحظہ ہو:
حدثنا يزيد بن هارون عن هشام عن الحسن ومحمد قالا: ما نعلم من السنة الجمع بين الصلاتين في حضر ولا في سفر إلا بين الظهر والعصر بعرفة وبين المغرب والعشاء بجمع. (مصنفِ ابن أبي شيبة: ۲/٤٥۹).
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.