خطیب کے علاوہ دوسرے شخص کا نماز ِ جمعہ پڑھانا:
Question
ایک شخص مسلسل کئی ہفتوں سے خطبہ پڑھ کر نماز ِ جمعہ دوسرے شخص کو سپرد کرتا ہے یہ عمل کیسا ہے؟
Answer
صورتِ مسئولہ میں اس شخص کا یہ عمل خلافِ اولیٰ ہے ہر جمعہ کو اس طرح کرنے سے اجتناب کرنا چاہیے ۔ ملاحظہ ہو شامی میں ہے:
(لا ينبغي أن يصلي غير الخطيب لا نهما كشيء واحد) قوله لا نهما أي الخطبة والصلاة كشيء واحد لكونهما شرطاً ومشروطاً لا تتحقق المشروط بدون شرطه فالمناسب أن يكون فاعلهما واحد. (شامي: ۲/۱٦۲، باب صلاة الجمعة، سعيد)
وفي الطحطاوي: (قوله: لا ينبغي) الظاهر أن اختلافهما مكروه تنزيهاً. (حاشية الطحطاوي على الدر المختار: ۱/۳٤۸)
نیز ملاحظہ ہو: فتاوی محمودیہ: ۸/۲۱۵، مبوب و مرتب، جامعہ فاروقیہ ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.