خطبہ کے بعد نماز سے قبل امام کے لیے اعلان کرنے کا حکم:
Question
خطبہ کے بعد نماز سے قبل امام کے لیے کوئی مسئلہ بیان کرنا یا مثلاً یہ کہنا صفیں سیدھی کر لیں یا پہلے مسجد کے اندر سے پُر کریں یا وعظ و نصیحت کرنا جائز ہے یا نہیں؟
Answer
صورتِ مسئولہ میں امام کے لیے نماز سے قبل یہ اعلان کرنا کہ صفیں درست کر لیں یا پہلے مسجد کو اندر سے پُر کر لیں یا مختصر مسئلہ بیان کر دینا جائز ہے، طویل وعظ درست نہیں ہے ۔ ملاحظہ ہو شامی میں ہے:
فاذا أتم أي الإمام الخطبة أقيمت بحيث يتصل أول الإقامة بآخر الخطبة وتنتهي الإقامة بقيام الخطيب مقام الصلاة
ويكره الفصل بأمر الدنيا ذكره العيني
إما بنهي عن منكر أو أمر بمعروف فلا وكذا الوضوء
حتى لو طال الفصل استأنف الخطبة. (شامي: ۲/۱٦۲، باب صلاة الجمعة، سعيد)
احسن الفتاوی میں ہے:
مختصر طور پر کوئی مسئلہ بتانا اور امر بالمعروف و نہی عن المنکر جائز ہے طویل وعظ جائز نہیں ۔ (احسن الفتاوی: ٤/۱۲۲، باب الجمعہ و العیدین) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.