مجلس نکاح میں وعظ و نصیحت کا حکم:

1 min readFatwa Vol 3 #434Urdu
Vol. 3كتاب النكاحباب (٦): نکاح کے متفرق مسائل

Question

مجلس نکاح میں کسی عالم کا وعظ و نصیحت کرنا درست ہے یا نہیں؟ یا بدعت ہے؟

Answer

صورتِ مسئولہ میں اگر اس کو سنت یا لازم نہ سمجھے، بلکہ مصلحتِ وقت سمجھ لے تو اس میں کوئی حرج نہیں، امورِ محدثہ کو زہر قاتل سمجھنے والے سلفی بھی اس کو جائز کہتے ہیں ۔
ملاحظہ فرمائیں فتاوی علماء البلد الحرام میں ہے:

لا مانع من القاء محاضرة نافعة على الحاضرين في أمرهم بالمعروف ونهيهم عن المنكر في حفل الزواج. (فتاوى علماء البلد الحرام: ۱۳۸۵، الباب الرابع عشر، النكاح).

کتاب الفتاوی میں ہے:
اردو میں خطبہ نکاح نہیں پڑھنا چاہیے، بہتر یہ ہے کہ پہلے اردو میں خطبہ نکاح کا مطلب بیان کر دیا جائے، پھر عربی زبان میں خطبہ پڑھ دیا جائے، اس سے ایک طرف لوگ اپنی زبان میں احکام نکاح کو سمجھ لیں گے، اور خطبہ کا اصل مقصد حاصل ہوگا، اور عربی میں خطبہ دینے سے یہ فائدہ ہوگا کہ بعینہٖ رسول اللہ ﷺ کے مبارک الفاظ میں خطبہ کی ادائے گی ہو گی، اور اس کا افضل و اولیٰ ہونا ظاہر ہے ۔ (کتاب الفتاوی: ٤/۳۰۰) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.