وعظ و نصیحت کے لیے اجتماع قائم کرنے کا حکم:

6 min readFatwa Vol 8 #155Urdu
Vol. 8باب (۱۳): حظر و اباحت سے متعلق متفرق مسائل کا بیان

Question

وعظ و نصیحت کے جو اجتماعات ہوتے ہیں وہ مندوب اور مستحب ہیں یا فرض کفایہ میں داخل ہیں، اور دونوں میں کیا فرق ہے؟ بینوا توجروا۔

Answer

وعظ کی مجلس میں وعظ و نصیحت کرنا مندوب یا سنت ہے فرض نہیں ہے۔

قال في الهدية العلائية: التذكير على المنابر للوعظ والاتعاظ سنة الأنبياء والمرسلين. (الهدية العلائية، ص ۲۱۷). (وكذا الدر المختار: ٦/٤۲۱، سعيد).
ومسجد أستاذه لدرسه أو لسماع الأخبار أفضل من الجوامع وما بعدها. (الهدية العلائية، ص ۲۳۰). (وكذا في الدر المختار: ۱/٦۵۹، سعيد).

اس جزئیہ سے معلوم ہوا کہ جس مسجد میں احادیث اور وعظ سنانے کا انتظام ہو اس میں جانا بہتر ہے لازم نہیں۔
نیز علم کی مجلس میں قدرِ ضرورت سے زائد علم حاصل کرنا بھی فرض و واجب نہیں۔

قال في الفتاوى السراجية: طلب العلم فريضة بقدر ما يحتاج إليه لا مر لا بد منه من أحكام الوضوء والصلاة وسائر الشرائع ولا مور معاشه وما وراء ذلك ليس بفرض فإن تعلمها فهو أفضل وإن تركها فلا إثم عليه. (الفتاوى السراجية، ص ۳۱۰، وكذا في الفتاوى الهندية: ۵/۳۷۷).

فتاوی ہندیہ میں مرقوم ہے:
اگر غالب گمان ہے کہ مخاطبین امر بالمعروف قبول کریں گے تو واجب ہے اور اگر غالب گمان ہے کہ سب و شتم یا پٹائی کریں گے اور صبر مشکل ہو یا قتل و قتال ہوگا تو ترک بہتر ہے اور اگر پٹائی پر صبر کر سکتا ہے تو پھر نہی عن المنکر کر سکتا ہے اور اگر یہ یقین ہے کہ بات نہیں مانیں گے مگر سب و شتم بھی نہ کریں گے تو اختیار ہے امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کر سکتا ہے۔ عبارت ملاحظہ ہو:

ذكر الفقيه في كتاب البستان: إن الأمر بالمعروف على وجوه: إن كان يعلم بأكبر رأيه أنه لو أمر بالمعروف يقبلون ذلك منه ويمتنعون عن المنكر فالأمر واجب عليه ولا يسعه تركه ولو علم بأكبر رأيه أنه لو أمرهم بذلك قذفوه وشتموه فتركه أفضل وكذلك لو علم أنهم يضربونه ولا يصبر على ذلك ويقع بينهم عداوة ويهيج منه القتال فتركه أفضل ولو علم أنهم لو ضربوه صبر على ذلك ولا يشكو إلى أحد فلا بأس بأن ينهي عن ذلك وهو مجاهد ولو علم أنهم لا يقبلون منه ولا يخاف منه ضرباً ولا شتماً فهو بالخيار والأمر أفضل كذا في المحيط. (الفتاوى الهندية: ۵/۳۵۲. ۳۵۳).

فتاوی سراجیہ میں مرقوم ہے:

الأمر بالمعروف واجب إذا علم أنهم ليستمعون قوله فعليه الأمر بالمعروف وإن لحقه الضرر. (الفتاوى السراجية، ص ۳۲۰).

اگلے صفحہ پر مذکور ہے: اگر کسی کے کپڑے میں نجاست دیکھ لے اگر ظن غالب ہو کہ بات مانے گا تو بتلانا ضروری ہے ورنہ ضروری نہیں ہے۔
قال: رجل رأي على ثوب إنسان نجاسة أكثر من قدر الدرهم، إن وقع في قلبه أنه لو أخبره بذلك اشتغل بغسله لم يسعه أن لا يخبره، لأن الإخبار مفيد، وإن وقع في قلبه أنه لو أخبره لا يلتفت إلى كلامه كان في سعة من أن لا يخبره. (الفتاوى السراجية، ص ۳۲۱، كتاب الكراهية والاستحسان).

حضرت عبد اللہ بن مسعود
رضي الله عنه
ہر جمعرات کو وعظ فرماتے تھے:

عن أبي وائل، قال: كان عبد الله يذكر الناس في كل خميس فقال له رجل: يا أبا عبد الرحمن لوددت أنك ذكرتنا كل يوم؟ قال: أما إنه يمنعني من ذلك أني أكره أن أملكم، وأني أتخولكم بالموعظة، كما كان النبي ﷺ يتخولنا بها، مخافة السأمة علينا. (رواه البخاري: ۱/۱٦/۷۰).

اس کے علاوہ حضرت ابو ہریرہ رضی الله عنه ہفتے میں ایک دفعہ منبر نبوی کے پاس کھڑے ہو کر احادیث سنایا کرتے تھے (المستدرک:
۱
/
۱۹۰
، کتاب العلم)، حضرت تمیم داری رضی الله عنه ہر جمعہ قبل از خطبہ احادیث سنایا کرتے تھے۔ (مسند احمد:
۳
/
٤٤۹
، دار الفکر)۔
وعظ و نصیحت کے اجتماع کے متعدد فوائد ہیں:۔
(۱) اجتماعات میں شرکت کرنے سے دینی جذبہ قوی ہوتا ہے۔
(۲) اس جذبہ کے اثر سے دوسروں کو فائدہ ہوتا ہے۔
(۳) گھر کے ماحول کو درست کرنے کی بھی فکر پیدا ہوتی ہے۔
(٤) علم میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔ ایمان میں پختگی آتی ہے۔
(۵) حضور آ کرم ﷺ کے طریقہ زندگی کو سن کر قلب میں اصلاح کا ولولہ پیدا ہوتا ہے۔
ماخوذ از: (فتاوی محمودیہ:
٤
/
۲۷۱
، جامعہ فاروقیہ)۔
فرضِ کفایہ اور مستحب کے درمیان فرق:۔
فرضِ کفایہ وہ ہے جس کا کرنا مجموعی اعتبار سے سب پر ضروری ہو البتہ چند کے کرنے سے سب بری الذمہ ہو جاتے ہیں اور اگر کوئی بھی نہ کرے تو تمام گنہگار ہوں گے۔
مستحب وہ ہے کہ جس کو نبی ﷺ اور صحابہ کرام رضی الله عنه نے کبھی کیا ہو اور سلفِ صالحین نے پسند کیا ہو۔
اس کے کرنے میں ثواب ہے نہ کرنے میں کوئی گناہ نہیں ہے۔ اس کو نفل، مندوب اور تطوع بھی کہتے ہیں۔
دونوں کے درمیان فرق یہ ہوا کہ اگر مستحب کو تمام بستی والے چھوڑ دیں تو کوئی بھی گنہگار نہیں ہوگا اور فرضِ کفایہ کو سب لوگ چھوڑ دیں تو بستی کے تمام لوگ گنہگار ہوں گے۔
مذکورہ بالا نقول سے معلوم ہوا کہ وعظ و نصیحت کے اجتماعات مستحب اور مندوب کے درجہ میں ہیں شریک ہو جائے تو فائدہ سے خالی نہیں اور شریک نہ ہو تو کوئی گناہ بھی نہیں ہوگا۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.