وضو میں ترکِ مسح پر نماز کے اعادہ کا حکم:
Question
ایک لڑکی بالغ ہونے کے بعد نماز کے لیے جب بھی وضو کرتی تھی تو سر کا مسح نہیں کرتی تھی اس کو معلوم نہیں تھا کہ سر کا مسح بھی فرض ہے بعد میں مدرسہ میں پڑھنے کے لیے گئی تو معلوم ہوا اب بالغ ہونے کے بعد سے جو نمازیں پڑھی ہیں ان کا اعادہ لازم ہے یا نہیں؟
Answer
فی زماننا کسی مسلمان کا اسلام کے فرائض سے ناواقف ہونا کوئی مقبول عذر نہیں ہے، کیوں کہ اسلام کی بنیادی چیزوں کا علم حاصل کرنا بالغ ہونے کے بعد نہایت اہم اور ضروری ہے، بنا بریں صورتِ مسئولہ میں بلوغ کے بعد سے تمام نمازوں کی قضا لازم اور ضروری ہے ۔ ملاحظہ ہو فتاوی ہندیہ میں مرقوم ہے:
طلب العلم فريضة بقدر الشرائع وما يحتاج إليه لا مر لا بد منه من أحكام الوضوء والصلاة وسائر الشرائع ولأمور معاشه وما وراء ذلك ليس بفرض. (الفتاوى الهندية: ۵/۳۷۷).
التيسير بشرح الجامع الصغير
میں ہے:
طلب العلم فريضة على كل مسلم، وهو العلم الذي لا يعذر المكلف في الجهل به والعلم ستة أقسام فرض كفاية إذا قام به البعض سقط الحرج عن الكل وإلا أثم الكل وفرض عين وهو ما يحتاجه المكلف في الفرض كوضوء وصلاة وصوم
(التيسير: ۱/۳۲۹، ط: الرياض).
مجمع الأنهر في شرح ملتقى الأبحر
میں ہے:
وفي البزازية: طلب العلم والفقه
وهو أقسام فرض وهو مقدار ما يحتاج إليه لا قامة الفرائض ومعرفة الحق والباطل والحلال والحرام. (مجمع الأنهر: ٤/۱۸٤، ط: بيروت).
قاموس الفقہ میں ہے:
دنیوی حکم کے اعتبار سے جہل کی کئی قسمیں اور صورتیں ہیں: پہلی صورت: شریعت نے جس چیز کا حکم دیا اسے انجام نہ دیا تو اس کی وجہ سے یہ فرض اس سے معاف نہ ہوگا بلکہ اس کا تدارک واجب ہوگا اور چونکہ تعمیل امر ہی نہیں کیا اس لیے اس کے ثواب و اجر سے بھی محروم رہے گا، مثلاً: کپڑے و جسم میں اتنی نجاست لگی تھی کہ اس کے ساتھ نماز درست نہیں ہوتی بے خبری میں نجاست کے ساتھ نماز ادا کر لی بعد میں معلوم ہوا تو قضا واجب ہو گئی ۔ (قاموس الفقہ: ۳/۱٦۸) ۔ مزید ملاحظہ ہو : (نور الانوار، ص ۲۹۹، و اصول البزدوی، ص ۳۳۸، ط: کراتشی، و کشف الاسرار: ٤/٤۵۷، ط: بیروت) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.