میت کے غسل میں سر کا مسح اور انگلیوں کا خلال کرنے کا حکم:
Question
میت کو غسل دیتے وقت انگلیوں اور ڈاڑھی کا خلال اور سر کا مسح سنت ہے یا نہیں؟ جس طرح زندہ کے وضو میں سنت ہے ۔
Answer
فقہاء نے ذکر کیا ہے کہ میت کو غسل دیتے وقت پورا وضو کرایا جائے جیسا کہ نماز کے لیے ہوتا ہے، البتہ کلی اور ناک میں پانی نہیں ڈالا جائے گا، پانی نکالنا مشکل ہونے کی وجہ سے، ہاں تر روئی کو منہ اور ناک میں گھما دیں تو بہتر ہے تاکہ مضمضہ اور استنشاق کی سنت ادا ہو جائے اور منہ سے پانی نکالنے کی ضرورت بھی نہ پڑے، نیز سر کا مسح کرنا بہتر ہے اور ڈاڑھی اور انگلیوں کا خلال بھی کرنا چاہیے ۔
ملاحظہ ہو الحجہ علی اہل المدینہ میں مرقوم ہے:
قال أبو حنيفة رحمه الله في غسل الميت يجرد ثيابه ويطرح على عورته خرقة ويوضع على تخت ويوضأ وضوءه للصلاة ولا يمضمض ولا يستنشق ويغسل رأسه ولحيته بالخطمي. (الحجة على أهل المدينة: ۱/۳٤۸، ط: عالم الكتب).
قال في الهندية: ثم يوضأ وضوءه للصلاة
واختلفوا في مسح رأسه والصحيح أنه يمسح رأسه. (الفتاوى الهندية: ۱/۱۵۸). وكذا في بدائع الصنائع: ۱/۳۰۰، سعيد، وفتح القدير: ۲/۷۲، دار الفكر).
عمدۃ الفقہ میں ہے: پھر میت کو نماز کا سا وضو کرا دیں لیکن اس وضو میں کلی نہ کرائیں اور نہ ناک میں پانی ڈالیں، اس لیے کہ پھر منہ اور ناک سے پانی نکالنا ناممکن یا دشوار ہوگا پھر سر کا مسح یہی صحیح ہے اور یہی ظاہر الروایت ہے ۔ (عمدۃ الفقہ: ۲/٤۸۸) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.